امریکی امپیریل ازم کے حمایتی

ڈاکٹرشیریں مزاری ....
ترقی پذیر ملکوں کی نہ صرف داخلی کارکردگی بلکہ بیرونی طاقتوں کیساتھ انکے تعلقات کو پوری جامعیت کیساتھ اگر کوئی واحد اصول دان شخصیت واضح کر سکتی ہے تو وہ اٹلی کے مارکسسٹ انتونیو گرامش ہیں۔ پاکستان امریکہ تعلقات کا جتنا زیادہ کوئی جائزہ لیتا ہے اسی قدر اسے احساس ہوتا ہے کہ انکے کثیر پہلوئوں کو مکمل طور پر سمجھنے کیلئے اس بات کی ضرورت پڑیگی کہ انہیں بالادستی کے گرامشیئن فریم ورک کے ذریعے دیکھا جائے جس میں بالادست قوت مغلوب قوم کی حکمران اشرافیہ کو اقدار کے سسٹم کے اس طرح حصار میں لے لیتی ہے کہ اسے طاقت یا ظالمانہ قوت کے استعمال کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ دیگر الفاظ میں ہر قوت اپنی بالادستی قائم کر چکی ہوتی ہے جسے گرامش طاقت کے استعمال سے حاصل کی جانیوالی ایک الگ نوعیت کی بالادستی قرار دیتا ہے۔ اس گرامشیئن نظریہ کی گہرائی کیساتھ ساری لیکن جامع طور پر اس طرح وضاحت کی جا سکتی ہے کہ حکمران اشرافیہ بالادست قوت کے اقدار سسٹم کو اپنا لیتی ہے جیسا کہ ہمارے معاملے میں امریکہ نے کیا ہے۔
گرامشیئن نظریہ کے مطابق اس بیرونی اقدار سسٹم کی قبولیت میں مدد اور تعارف کے سلسلے میں بلاشبہ وابستگی رکھنے والے دانشور اہم کردار ادا کرتے ہیں جن کا حکمران طبقے سے تعلق ہوتا ہے اور بالادست قوت کو ان کے دل جیتنے پڑتے ہیں کیونکہ معاشرے میں یہی گروپ ہوتا ہے جو نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی اور سیاسی میدانوں میں ایک طبقہ کی کارگزاریوں کے معاملے میں آگاہی پیدا کرتا ہے لیکن دانشوروں کا ایک کہیں زیادہ اہم گروپ ’’روایتی دانشوروں‘‘ کا بھی ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ حکمران طبقے سمیت معاشرے کے ہر طبقے سے الگ اور آزاد ہیں لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ اب اگر کوئی گرامش کی دانشوری کے بارے میں کئی کئی وسیع تعریف کا جائزہ لیتا ہے جس میں صرف وہ شامل نہیں جو معاشرے میں سوچ بچار کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ایسا تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن جو ’’دانشوروں کا کردار‘‘ ادا کرتے ہیں ان میں بزنس منیجرز، میڈیا کے لوگ، محققین، انجینئر، سیاست دان اور اس طرح دیگر لوگ شامل ہیں۔
ان دنوں پاکستان میں وابستگی رکھنے والے اور روایتی دونوں طرح کے دانشوروں پر مشتمل گروپوں کی ایک قطار دیکھی جا سکتی ہے جو بیرونی بالادست امریکہ کے پروردہ ہیں کیونکہ امریکہ میڈیا اور سول سوسائٹی کے دیگر طبقوں کو سرمایہ فراہم کر رہا ہے۔ پروردہ دانشوروں کے میدان میں نمایاں طور پر احمد رشید جیسے دانشوروں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جو اب خصوصی طور پر وہ لکھتے ہیں جو مغرب سننا پسند کرتا ہے اور اس سلسلے میں بطور گیسٹ کالمسٹ بی بی سی کو پیش کی گئی انکی تازہ ترین چیز یہ ہے جس میں انہوں نے عملی طور پر تجویز کیا ہے کہ پاکستان اور اسکی گورننس کو امریکہ کے زیر کنٹرول غیر ملکی ٹیکنو کریٹس کے حوالے کر دیا جائے۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ امریکی حکومت انہیں اس خطے کیلئے بطور مشیر استعمال کر رہی ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ وہ پاکستان اور اس کے عوام کے بارے میں عصری زمینی حقائق سے نابلد ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس تو ہونا چاہئے کہ ایسے نظریات کو پاکستان میں پذیرائی نہیں مل سکتی کیونکہ پوری قوم میں امریکہ کے وفاداران دانشوروں کو محض گنتی کے چند لوگ ہی مل سکتے ہیں۔
بہرحال ہمارے لئے مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ رشید جیسے لوگوں کے بے سروپا مشورے کو قبول او راس پر عمل کرنے کیلئے آمادہ نظر آتا ہے جس کے باعث پاکستان کو زیادہ نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ہم پہلے ہی پلاننگ کمیشن میں اہم اقتصادی فیصلہ سازی میں ڈاکٹر حفیظ شیخ سے ڈاکٹر حق تک ایسے بعض لوگوں کے حامل رہے ہیں ان سب کے امریکہ اور آئی ایم ایف سے گہرے روابط ہیں تاہم رشید کیلئے یہ صورتحال نہیں جو 7 ستمبر کو بی بی سی میں ویب سائٹ کے اپنے کالم میں تجویز پیش کرتے ہیں کہ بیرونی ٹیکنوکریٹس کو ہماری اقتصادی فیصلہ سازی کو جس کا واضح تعلق سیاسی فیصلہ سازی سے ہے، اپنے کنٹرول میں لے لینا چاہئے۔ اب ان ٹیکنوکریٹس کو کس طرح کا ’’غیر ملکی‘‘ ہونا چاہئے، اس کی نشاندہی نہیں کی گئی جبکہ شیخ اور حق کسی بھی تعریف کے حوالے سے بالکل غیر ملکی ہیں۔ اس سلسلے میں انکے بیرونی روابط، باہر قیام اور بیرن ملک اثاثوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جبکہ ہم ان کی دہری شہریت کے بارے میں یقین کیساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے جو بھی ہو۔ رشید نے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ قائم کیا جائے جیسا کہ افغانستان میں کام کر رہا ہے خصوصاً جو حکومت، فوج اور پولیس کو فنڈز فراہم کرے۔ یہ فنڈز صرف ’’کیش‘‘ کو مانیٹر نہ کرے بلکہ مبینہ طور پر ایک ’’نان پولیٹکل نیوٹرل‘‘ ری کنسٹرکشن کوشش میں بھی مدد (دیگر الفاظ میں ڈکٹیٹ) کرے اور ’’نان پولیٹکل و نیوٹرل‘‘ کا جملہ جو کسی اور میں فوج غیر جمہوری حکمرانی کیلئے بہانے کے اظہار کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اب ہم اسے نیو امپیریل ازم کے جواز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ ایسے اقدام کے جواز کیلئے سیلاب کا بہانہ موجود ہے لیکن حقیقی ایجنڈا واضح طور پر آئی ایم ایف اور عالمی بنک کا ہی ہے کیونکہ رشید کیمطابق ایسا ڈھانچہ مستقبل کے ٹیکسوں سمیت طویل مدتی اقتصادی اصلاحات کا منصوبہ بھی تیار کریگا۔ افسوس کہ رشید یہ بھول گیا کہ پاکستان امریکہ یا نیٹو کے زیر قبضہ نہیں اگرچہ انکے پیش کردہ مشورے سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس کے خواہش مند ہیں کہ کاش ایسا ہوتا! اپنی تجویز کو زیادہ قابل قبول بنانے کیلئے انہوں نے وکالت کی ہے کہ اس میں ’’نیوٹرل‘‘ پاکستانی ٹیکنوکریٹس بھی شامل ہونے چاہئیں اور بلاشبہ یہ سوائے ’’این جی او ورکرز‘‘ کے اور کہاں سے دستیاب ہو سکتے ہیں! حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی سوشل سائنس فیلڈ میںجہاں اقدار کا خیال رکھا جاتا ہے کوئی چیز ’’نیوٹرل‘‘ نہیں ہوتی۔ واضح طور پر بالکل جس طرح برطانوی سامراجیوں نے برٹش انڈیز کو چلانے کیلئے بھارتیوں کی تربیت کی۔ رشید اپنے نئے سامراجی آقائوں امریکہ کیلئے اسی طرح کا نظریہ رکھتے ہیں۔ برطانوی سامراجیوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہ بھارتی حکمرانوں سے زیادہ لائق ہیں اور شاید وہ تھے بھی لیکن اس لائقی کی قیمت ہمیں نوآبادی کی شکل میں چکانی پڑی۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت پاکستانی ریاست میں گورننس کی حالت افسوسناک اور کرپشن زوروں پر ہے لیکن ہم میں اتنی گنجائش اور صلاحیت موجود ہے کہ اپنے وسائل اور جمہوری طریقے سے تبدیلی لائی جائے۔ اتفاق سے رشید ’’اسلامی انتہاپسندی‘‘ کے خطرے کی بات بھی کرتے ہیں جس نے انہیں خاصا فائدہ پہنچایا ہے۔ رشید نے 1971ء میں اس وقت کے مشرقی پاکستان میں طوفان کا موجودہ صورتحال سے موازنہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں بحران سمندری طوفان سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا اور علیحدگی پسند قوتیں اور حکمران اشرافیہ کی سیاسی ہٹ دھرمی پہلے ہی ٹکرائو کی راہ پر گامزن تھیں جسے طوفان نے مزید خراب کر دیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سیلاب کی قومی سطح پر تباہ کاریوں اور ایک غیر فعال اور کرپٹ حکومت کے ہوتے ہوئے صورتحال تباہ کن نہیں ہے لیکن امید کے آثار بھی موجود ہیں کہ باہر سے پاکستانی اور نجی بیرونی ڈونرز غیر حکومتی ذرائع کو رقوم بھجوا رہے ہیں جبکہ تینوں مسلح افواج (اپنی دیگر کوتاہیوں سے قطع نظر) متاثرین کیلئے مثالی ریلیف کا کام انجام دے رہی ہیں۔ پاکستانی پھر تعمیر نو کر لیں گے، اس بارے میں احمد رشید کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ بہت سے پاکستانی بھی موجودہ سیلاب کو حکومت اور ریاستی اداروں کے ری سٹرکچر اور ریفارم کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی کال کے طور پر دیکھ رہے ہیں لیکن پھر وہی بات کہ وہ بیرونی حکمرانی اور نوآبادی کے آپشن کے ذریعے ایسا نہیں چاہتے لہٰذا ایک نئی سیاسی بیداری آئی ہے لیکن چیلنج نوآبادی کی حیثیت قبول کرنے کی بجائے جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے تبدیلی لانا ہے۔
یہ نہیں کہ امریکہ کو کھلے طور پر ہمیں نوآبادی بنانے کی ضرورت ہے جبکہ وہ پہلے ہی اس معاملے میں آدھے سے زیادہ فاصلہ طے کر چکا ہے۔ میڈیا میں پہلے ہی اسکے سرمائے کی فراہمی بڑھتی جا رہی ہے اور اسکے نجی اور سرکاری خفیہ اہلکار ملک بھر میں اور ہمارے بعض حساس ہوائی اڈوں اور دیگر فوجی مقامات پر موجود ہیں۔
درحقیقت کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان میں امریکی موجودگی کی وسعت کتنی ہے لیکن اسے محسوس کیا اور اسکی وسعت کو دیکھا ضرور جا سکتا ہے۔ احمد رشید جو کچھ چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ کھلے طور پر کرنے کیلئے قانونی راستہ فراہم کیا جائے اور اس طرح سے زیادہ جواز فراہم کیا جائے۔ بہرحال بالادست قوت سے وابستگی رکھنے والے دانشور کے طور پر انہیں اپنا مناسب کردار ادا کرنا ہوگا لیکن پاکستانی آخر کب جاگیں گے اور ملک کیخلاف اس سازشی ایجنڈے کو کب دیکھیں گے…؟؟