گھر پھونک تماشا

کالم نگار  |  عامرہ احسان

دشمنوں سے دوستی اور دوستوں / بھائیوں سے دشمنی کا باب کھل گیا۔ ہم پاکستان فتح کر رہے ہیں۔ بلوچستان کو ہم نے بڑی تگ و دو کر کے علیحدگی کی راہ دکھائی ہے۔ لوڈشیڈنگ ہر سطح پر جاری ہے۔ صرف بجلی ہی نہیں۔ عوام‘ صوبوں‘ علاقوں کی لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے۔ مشرقی پاکستان کے ناروا بوجھ سے ہم نے دامن چھڑا لیا اور بچے کم خوشحال گھرانہ‘ کے وزن پر‘ صوبے کم ‘ عوام کم خوشحال پاکستان کا فارمولا ہم استعمال کر رہے ہیں۔ سوات میں کیا ہو رہا ہے؟ پاکستان جو ہندوستان سے مسلمانوں کیلئے دارالہجرت بنا۔ گھر بار چھوڑ کر بیٹیاں لٹا کر‘ خالی ہاتھ اچانک یکایک گھروں سے اُٹھ کر ہندوئوں‘ سکھوں کی بربریت سے بچنے کیلئے ہم نے ہجرت کی۔ صرف کلمے کے نام پر۔ اسلام کی خاطر۔ 62 سال بعد وہی سماں ایک مرتبہ پھر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس مرتبہ کلمے سے بچنے کیلئے اسلام کے نفاذ کے خوف سے ہی ہجرتیں کروائی گئی ہیں۔ ڈنکے کی چوٹ‘ ببانگ دہل حق بات صرف اتنی ہے کہ یہ صرف امریکہ کا ایک حکم ہے جس کی بنا پر خود سیاق و سباق گھڑ کر ہم نے آپریشن شروع کیا ہے۔ نظامِ عدل‘ شریعت کا نفاذ امریکہ کیلئے ایٹم بم تھا۔ اسکی وجہ سے سوات کی رونقیں بحال ہو رہی تھیں۔ نفاذ شریعت کے فیوض و ثمرات لوگوں تک پہنچنے کی شروعات ہو گئی تھیں۔
اندیشہ تھا کہ اسے قدم جمانے کا موقع فراہم ہو گیا تو یہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے قبائلی علاقے کو نظیر فراہم کر دیگی اور طالبانِ امارت اسلامیہ افغانستان کو سالہاسال کی محنت سے امریکہ نے زیر کیا تھا وہ ازسر نو جڑ پکڑ لے گی۔ خراسان (افغانستان سے ملحقہ قبائلی پٹی) سے اٹھنے والے امام مہدی کے لشکروں کی احادیث ہمارے لشکریوں نے تو نہیں پڑھیں۔ البتہ ہمارے دشمن جو پورے خشوع و خضوع سے اپنے ورلڈ لیڈر مسیح‘ مسیح الدجال کی آمد کی تیاری کر رہے ہیں وہ ان احادیث کے حرف حرف سے واقف ہیں۔ وہ سورۃ الانفال‘ توبہ جب آپ کے نصابوں سے نکلواتے ہیں تو مسلمان وزرائے تعلیم (40 سیپاروں والا وزیر تعلیم ) اور کارپردازانِ مملکت کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ ان سورتوں میں کیا ہے لیکن ہمارا دشمن ہم سے زیادہ قرآن کے مضامین‘ اسکے اثرات و نتائج سے باخبر ہے جنہوں نے یہ سورتیں پڑھ لیں‘ حرزِ جاں بنا لیں وہی ہیں جو ہر جگہ امریکہ کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔ لہٰذا بات سادہ اور مختصر ہے کہ سوات آپریشن کیلئے ہزار بہانے گھڑ کر میڈیا وار سے ذہنوں پر یلغار کر دیجئے۔ حقیقت تو صرف یہی ایک ہے کہ آپریشن امریکہ کے حکم پر پاکستان کے تحفظ کیلئے نہیں بلکہ امریکہ کی رٹ قائم رکھنے اور افغانستان میں اسکی فوجوں کی حفاظت کیلئے ہو رہا ہے۔ میڈیا کا عالم تو یہ ہے کہ دن رات امریکہ کی غلامی اور بندگی کے تمام تر آثار و ولوازم کے ساتھ طالبان کی خونخواری‘ خوفناکی کا دل و دماغ پر گہرا تاثر قائم کرنے کیلئے ہمہ پہلو پروگرام دن رات جاری و ساری ہیں۔ صرف طالبان کو ڈریکولا کے دانت لگانے‘ منہ سے بہتا خون اور پنجے لگا کر دکھانے کی کسر باقی ہے۔ ہمارے حال اگر عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین دیکھ لیتا تو حیرت میں ڈوب ڈوب جاتا ! کیونکہ ہم تو کفر کے مفادات کی ہمہ گیر جنگ لڑ کر اسکے شانہ بشانہ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر بھی پکے ٹھکے مسلمان ہیں…؎
ناطقہ سربگریبان ہے اسے کیا کہئے
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہئے
فتنۂ دجال کی علامات پورے عروج پر ہیں۔ ایمان کے لشکر کفر و نفاق کے پروپیگنڈے کے دھوئیں کی زد میں ہیں۔ بڑے بڑے عقل و دانش والوں کی مت ماری گئی۔ کیا منظر ہے۔ گنتی کے دو چار اعتراضات ( جو طالبان پر عائد کئے جا سکتے ہیں) کو ڈھنڈورچیوں کے ذریعے ویڈیو سوات ہی کی طرز پر کئی گنا قیامت خیز بنا کر یکایک ہم سوات پر توپ‘ ٹینک‘ بمبار طیارے لیکر چڑھ دوڑے۔ زرداری صاحب و ہمنوا امریکہ کے حکم پر اس سمعنا و اطعنا (ہم نے سنا اور اطاعت کی) کے بغیر تو اتنے دن کی رنگینیاں‘ رنگیلا شاہیاں نہیں بنا سکتے تھے۔ لہٰذا حکمِ حاکم مرگِ مفاجات کے تحت یکایک انخلا ہوا۔ شہری‘ ننھے ننھے بچے ‘ باپردہ عورتیں اٹھائے یک بیک سر پر پائوں رکھ کر گھروں سے نکل دوڑے۔ اس سے پہلے کہ سروں پر گھن گرج طاری ہو فصلیں پکی کھڑی ہیں۔ پھل تیار درختوں پر ہیں۔ مویشی بے یارومدد گار گھروں میں ہیں۔ ٹھنڈے سرسبز و شاداب علاقوں کے پلے بڑھے‘ موٹے کپڑوں کیساتھ بے سروسامان خیموں میں جھلس رہے ہیں انہیں کہتے ہیں مہاجر اور ہمیں کہتے ہیں انصار ! یہ یقیناً اس دور کی ساری قیادتوں (اقتدار/ اپوزیشن دونوں) کے ہاتھوں تراشیدہ حالات ہیں جو قیادت کا دعویٰ تو رکھتے ہیں لیکن نہ عوام کے دکھوں کا کوئی مداوا انکے پاس ہے نہ اسلام کی شُدبُد انکے پاس ہے۔
پاکستان کے مسائل کا اصل حل یہ ہے کہ پوری قیادتوں کو ایک بحری جہاز میں بٹھا دیا جائے اور پاکستان کی سرحدوں سے باہر کا رخ دکھا دیا جائے۔ ہر سطح کے عوام امریکہ سے خود نمٹ لیں گے ان سے بہتر نمٹ لیں گے۔ ساری سودا بازیاں انکی کرسیوں کی ہیں خواہ وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں کرسی … سیاسی ہو یا آہنی فولادی۔ اس وقت بڑے بڑے جغادری بھی امریکہ کی زبان بول رہے ہیں۔ کسی کو کاروبار عزیز ہے‘ کسی کو ادارے عزیز ہیں‘ صرف اللہ کی رضا‘ اپنی آخرت‘ جنت کی طلب کی خاطر ایمان و ضمیر کی روشنی میں زبان کھولنے والے عنقا ہیں۔ ایک پارٹی اقتدار میں بیٹھی امریکہ کی بندگی کا حق ادا کر رہی ہے۔ دوسری لائن میں لگی کھڑی ہے کہ سرکار ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں۔ ہم بھی طالبان کیلئے اتنے ہی سراپا غیض و غضب ہیں۔ تھوڑا بہت اسلام کا پوچا دیکھ کر آپ گھبرائیں نا! پاکستان کی کم نصیبیوں کے ابواب میں اس نئے باب کا نام انصار مدینہ اور مہاجرین تو نہ رکھیں۔ کہاں کلمے کی خاطر ہجرتیں اور کہاں کلمے سے بچنے کیلئے اللہ کے قانون سے فرار کیلئے معصوم عوام کو بھیڑ بکریوں کے گلوں کی طرح ہانکا جانا ! اس دور کے ابوجہلوں‘ ابولہبوں کا ساتھ دینے کی خاطر اہل ایمان کو ظلم کی چکی میں پیسنا۔ قوم جو پریشان بیٹھی تھی (جس میں جذبۂ اخوت تو ہے جس کا تجربہ ہم زلزلہ زدگان کیلئے کر چکے تھے) انہیں دھیان بٹا کر ضمیر کی چبھن سے نجات پانے اور کچھ عرصہ مصروف رکھنے کا ایک زبردست حیلہ ہاتھ آ گیا۔ اب سارا کچھ چھوڑ کر اپنے اجڑے بھائیوں کی خدمت کرو۔ دینی جماعتیں بھی ساری قوت ایدھی بن کر خیموں میں جھونک دیں۔ باہر سے مدد مانگنے کو کشکول وسیع تر ہو گیا جو باہر سے ڈالر آئینگے وہ تو وزراء نے رقاصائوں کو ویلیں دینی ہوتی ہیں۔ وسیع تر قومی مفاد میں اسکے کام آئیں گی۔ اگلے دورۂ سیر و سیاحت میں اسکی ضرورت پیش آئیگی۔ عوام کو عوام سنبھال لیں گے۔ صدقے‘ خیراتیں‘ زکوٰ تیں اللہ نہ کرے جہاد فی سبیل اللہ کی راہ نہ دیکھ لیں وہ ان بھوکے بے سروساماں‘ بے خانماں ‘ مہاجرین ‘ کے کام آئیں گی۔ لگے ہاتھوں انکی کسمپرسی طالبان کے متھے لگتی اور اسلام کیلئے ناگواری کی راہیں ہموار کرتی رہے گی۔ جہاد کشمیر اور شہادتوں کی احادیث پر مر مٹنے والی جماعت الدعوۃ بھی سماجی رفاہی خدمات میں مصروف رہے گی۔
الجہاد فی الاسلام اور جہاد فی سبیل اللہ جیسی معرکۃ الارا تحریروں (سید ابوالاعلیٰ مودودی) کے وارث بھی جذبۂ خدمت سے سرشار حکومت کے اجاڑے لوگوں کو پیروں پر کھڑا کرینگے اسکے تلملاتے نوجوان کفر کیخلاف امڈتے جذبات کو خیموں میں استعمال کر لیں گے ورنہ ان سے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ خدانخواستہ سرحدوں کی طرف دیکھنا شروع نہ کر دیں۔ دنیاوی تعلیم سے آراستہ‘ باصلاحیت نوجوان جو دین کے جذبوں سے سرشار ہیں انہیں مصروف نہ رکھا گیا تو یہ تو عین القاعدہ ہی ہیں۔ توبہ … توبہ۔ کتنا خوفناک ہوگا وہ دن جب طالبان کی نفاذ شریعت اور القاعدہ کی ذہانت و صلاحیت کالے جھنڈوں تلے یکجا ہو کر چل پڑے۔ کفر کی موت‘ مغرب کی فاسد تہذیب کی بربادی کا یہ سامان ہم کیونکر ہونے دے سکتے ہیں‘ کیونکہ ہم … فرنٹ لائن اتحادی ہیں !