کیسی مٹی چاٹ گئی اِن پتھر کی دیواروں کو؟

کالم نگار  |  خالد احمد

انسان‘ خواب اور خواہش ایک ساتھ جنم لیتے ہیں! انسان جاگتی آنکھوں خواب دیکھتے ہیں اور اِن خوابوں کی تعبیر کے لئے اپنی تمام خواہشات تج کر آگے بڑھتے ہیں!
ریٹائرمنٹ کے قریب ملازمت میں دو سالہ توسیع کا خواب پورا ہوتا نہ دیکھا تو ملک پر قابض ہو گئے! اور فیلڈ مارشل بن بیٹھے!
ہمارے خواب‘ خواب نہیں رہ گئے‘ ’خواہشیں‘ بن گئے!
اپنی خواہشات میں سے قومی خواہشات کا عنصر منہا کر کے ہم نے پاکستان میں سے ’مشرقی پاکستان‘ نفی کر دیا اور ’فوجی قبرستان‘ میں جگہ بھی پا لی‘ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو قتل کرنے کے بعد موجودہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو پھانسی چڑھا دیا! خواہشات کا تانا بانا اس طرح بُنا گیا کہ ’ذاتی مفاد‘ اور ’ملکی مفاد‘ ’قومی پیراہن‘ بن گئے! اور قومی ہیرو‘ زیرو ہو گئے! سب کے سب ’جلاوطن‘ ٹھہرا دئیے گئے اور ’قومی اثاثے‘ پابندِ سلاسل کر دئیے گئے! ’ایٹمی ری ایکٹر‘ کی جگہ ’غیر ریاستی ایکٹرز‘ نے لے لی اور ’غیر سرکاری تنظیموں‘ کے ساتھ ساتھ ’غیر سرکاری کرداروں‘ نے بھی ملکی سیاست میں جگہ بنا لی!
اب ملک میں ’قانون کی حکمرانی‘ کی جگہ ’قانون کے ذریعے حکمرانی‘ نے لے لی تھی! روز ایک نیا قانون بنا کر اُس پر عملدرآمد کیا گیا‘ پاکستان‘ ایشیائی ملک ہو کر بھی کسی افریقی ملک کا نقشہ پیش کرنے لگا! اور پھر ملک کے اندر ویسی ہی مار دھاڑ بھی شروع ہو گئی!
اللہ اللہ کر کے ملک واپس اپنی راہ پر آیا تو ’خواہشات‘ ’خبریں‘ بننے لگیں! لیکن ابھی شیخ رشید احمد کا ’مکو‘ نہیں ’ٹھپ‘ پایا تھا کہ جناب ارشاد احمد حقانی وہی راگ الاپنے لگے! جناب شیخ رشید احمد بھی بار بار یہی کہتے تھے: میری باتیں بُری لگتی ہیں! مگر ہو گا یہی! انہیں جوتیاں پڑیں گی! اور ہم نے دیکھا کہ یہ باتیں کسی پر بھی شاق نہیں گزریں اور جناب ڈاکٹر عبدالرحیم سے شروع ہونے والا ’کاروبار‘ جناب جارج بش کے آس پاس بھی منڈلاتا دیکھا گیا اور ’انٹرنیٹ‘ پر بہت بڑے ’کاروبار‘ کا وسیلہ بن گیا!
جناب ارشاد احمد حقانی بھی جناب شیخ رشید احمد نامی سکّے کا دوسرا رُخ ہیں‘ وہ بولتے ہیں‘ یہ لکھتے ہیں! ’خواہشات‘ ’خبر‘ نہ بن سکیں تو ’کالم‘ میں ڈھل جاتی ہیں! اور ’قلم کار‘ ’لٹھ بردار‘ بن جاتے ہیں!
’لٹھ بردار‘ کا لفظ ذہن میں آتے ہی ہمارا ذہن مشرقی پاکستان کے سانحے کی طرف چلا جاتا ہے! مگر ’کالم کار‘ کا لفظ ذہن میں آتے ہی ہمارا ذہن ملک کی مغربی سرحدوں کی طرف چلا جاتا ہے! اب تو جناب ارشاد احمد حقانی کے لئے ’کالم کار‘ کے میزبان کی حیثیت ’مسلم‘ ہو چکی ہے اور وہ تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اُن کے دلوں‘ کانوں اور آنکھوں پر مہریں تو قیامِ پاکستان سے قبل ہی لگا دی گئی تھیں اور وہ پاکستان کے قیام کے ’گناہ‘ میں کبھی شریک نہیں رہے! اُنہیں تو صرف پاکستان کے قیام کے ’فائدوں‘ سے غرض رہی اور انہوں نے ان سے جی بھر کے ’فیض‘ اُٹھایا اور اب جبکہ اُن کا جی اُوبھ گیا ہے تو اب وہ ’پیٹ‘ بھر کے ’فیض‘ اُٹھانے کے چکر میں پڑے نظر آ رہے ہیں!
’پیٹ‘ ایک ایسی چیز ہے جسے دنیا کی کوئی شے نہیں بھر پاتی! ’پیٹ‘ اُسی روز بھرتا ہے‘ جس دن ہمارے ’پیٹ‘ پھٹ جاتے ہیں اور یار لوگ!
کیسی مٹی چاٹ گئی؟ ان پتھر کی دیواروں کو گنگناتے ہمارے پاس سے گزر جاتے ہیں!
جنابِ حسین حقانی سے جناب ارشاد احمد حقانی تک ہمیں ایک ہی رنگا رنگ داستان دراز ہوتی دکھائی دے رہی ہے!
جناب زلمے خلیل زاد کے لئے افغانستان میں امریکی ’چیف ایگزیکٹو‘ کا عہدہ تخلیق کیا جا رہا ہے‘ اگر جناب ارشاد احمد حقانی کی یادداشت باقی ہو تو انہیں یاد ہو گا کہ جناب پرویز مشرف بھی پاکستان پر ’چیف ایگزیکٹو‘ کی حیثیت سے ہی قابض ہوئے تھے! اگر جناب ارشاد احمد حقانی مستقبل میں جناب حسین حقانی کے لئے اپنے ’سفیر‘ کا خواب دیکھ رہے ہیں تو اور بات ہے؟ جہاں تک ہم جناب حسین حقانی کو جانتے ہیں‘ وہ بھی جماعتِ اسامی‘ پاکستان کے پروردہ ہیں اور جناب ارشاد احمد حقانی کے ’پیٹی بند بھائی‘ ہیں!
جناب مشاہد حسین سید سے بہتر کون جانتا ہے کہ جناب ارشاد احمد حقانی اور جناب حسین حقانی کہتے کیا ہیں؟ اور اُن کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اب بات جنابِ مشاہد حسین سید پر آ کر رُکتی ہے کہ وہ بتائیں کہ آیا وہ بھی ’جوہری دھماکے‘ کے مخالف تھے؟ یا‘ یہ صرف جناب ارشاد احمد حقانی کی ’ذاتی‘ رائے تھی!
ذاتی رائے کا احترام سب پر لازم ہے اور دوسروں کی ’ذاتی رائے‘ پر ’کالم کاری کا آغاز‘ کسی صورت زیبا نہیں لیکن جناب ارشاد احمد حقانی نے یہ ’رسم‘ توڑ کر اپنے لئے بہت بڑی مصیبت کھڑی کر لی ہے اور اب وہ لوگ جنہیں وہ خوش کرنا چاہتے تھے‘ شاید انہیں مزید اپنے درمیان برداشت نہ کریں!
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ