پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق امریکی منافقت

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

امریکہ نے کہا ہے کہ ’’پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کے مقامات کا علم نہیں‘‘ اور ابھی کل کی بات ہے کہ خدشہ ہوا تو تمام آپشنز کھلے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ امریکی آرمز کنٹرول کے ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’جوہری اسلحہ کی تیاری کے مراکز کو توسیع دینے کی تصاویر مل گئیں ہیں۔‘‘ یہ سارے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کو پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی تمام تر تفصیلات کا علم ہے۔ حیرت ہے کہ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ’’پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت پر مکمل اعتماد ہے۔‘‘ طالبان کی ایٹمی اثاثوں تک رسائی کے خدشے کے باعث صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے وہ تصویر بھی دی ہے جس میں ایٹمی مرکز کی تصویر جس کی امریکی ادارے کی مبینہ رپورٹ کے مطابق توثیق کی جا رہی ہے۔ اُلٹا تمام بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے ٹھکانوں کا ٹھیک ٹھیک علم ہے اور اس کے پاس ان کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ اس وقت امریکہ نے طالبان کو آڑ بنا کر پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں ایک چار سو بیسی شروع کر رکھی ہے۔ اس وقت امریکہ نے طالبان کو ایک آڑ بنا رکھا ہے اگر ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کو کوئی خطرہ ہے تو خود امریکہ سے ہے جس نے ہمارے ہتھیاروں کی تمام تر تفصیلات جمع کر رکھی ہیں اور موقع کی تلاش میں ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا اس وقت پورا اعتماد امریکہ پر ہے اور ہمارے حکمران اگر اے پی سی بھی کرتے ہیں تو اس کی تفصیلات کا امریکہ کو پہلے پتہ ہوتا ہے۔
اس کے مقابلے میں فرانس کو دیکھ لیجئے جو سویلین ایٹمی تعاون کر رہا ہے اور یہ آواز بلند کر رہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ بھی بھارت کے برابر سلوک کرے اور ایسے معاہدے کرے جو امن ایٹمی تعاون پر مبنی ہوں چین بھی ہماری ایٹمی صلاحیت کو اچھی نظر سے دیکھتا ہے اور اُس کی کوشش ہے کہ پاکستان ایٹمی قوت سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرے اگر امریکہ چاہتا تو ہماری ایٹمی صلاحیت کو ہمارے مفاد میں استعمال کر سکتا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا کسی طرح گوارا نہیں۔ سرکوزی صدر فرانس نے جس فراخدلی سے پاکستان کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر رضا مندی ظاہر کی ہے وہ قابل صد ستائش ہے۔ امریکہ پاکستان کو سیاسی و انتظامی طور پر اس مقام پر پہنچانا چاہتا ہے کہ وہاں زبردست افراتفری پیدا ہو اور آپریشنز کے ذریعے ملک کو اس مقام تک لے آئے کہ یہ ثابت کر سکے کہ پاکستان اس قابل نہیں رہا کہ اپنے ایٹمی اسلحے کی حفاظت کر سکے۔ طالبان کے روپ میں کون ہیں ہمیں تو شک ہے کہ انہیں بھی امریکہ استعمال کر رہا ہے اور اس میں بھارت اس کے ساتھ ہے۔ پاکستان میں اگر مزید آپریشن بھی شروع ہوئے تو یہاں پوری قوم لگ بھگ مہاجر بن جائے گی۔ پاکستان اُن کے لئے بھیک مانگے گا اور اس طرح اس کی حالت اقوام عالم میں ایک ایسی بیمار اور کمزور ریاست کی ہو جائے گی جس کا ایٹمی ہتھیار رکھنا کسی طرح مناسب نہ ہوگا۔ امریکہ نے ایک سازش مملکت پاکستان دشمن ممالک کے ذریعے تیار کر رکھی ہے جسے وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنی سفارت کاری تیز تر کر دینی چاہئے اور سرکوزی جیسے مہربان دوست کی پیشکش پر عملدرآمد میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ فرانس شاید اس سازش کو جان چکا ہے جو امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کر رہا ہے۔ امریکہ پاکستان کو ایک روز اُس مقام تک لے آئے گا کہ وہ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں پر ہاتھ ڈال بشرطیکہ ہمارے حکمران اس خوابِ غفلت میں سوئے رہے اور اپنے ہر ہر راز سے امریکہ کو آگاہ کرتے رہے۔