محض اپنے دل کا بوجھ ہلکا نہ کریں

کالم نگار  |  سعید آسی

جسم زخموں سے چور چور ہو اور آنسو ضبط کرلئے جائیں تو ان زخموں کا درد اور بھی تیز ہو جاتا ہے۔ دل غم سے پھٹ رہا ہو اور یہ سوچ کر کہ دنیا کیا کہے گی‘ رونے سے گریز کرلیا جائے تو دل کا غم جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے‘ اسی لئے سیانے کہتے ہیں کہ جب دل مٹھی میں بند ہونے لگے‘ مایوسی کے سائے گہرے ہونے لگیں‘ بے چارگی بڑھنے لگے‘ بے بسی روگ بن کر کچوکے لگانے لگے اور گتھی کے سلجھائو کی کوئی تدبیر نظر نہ آئے تو ضبط کے بندھن توڑ کر کھل کر رولیا کرو۔ اس سے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائیگا اور بے سمت راستے کی کوئی نہ کوئی منزل بھی سامنے آجائیگی۔ رونا درحقیقت اندر کی طہارت کا کارگر نسخہ ہے جس سے دل کو مایوسیوں کے دلدل سے نکالنے میں مدد ملتی ہے‘ ذہنی پراگندگی کو دھو کر روح کی بالیدگی کی راہ ہموار کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور پشیمانی امید کے قالب میں ڈھل جاتی ہے۔ رونے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ غم کے علاج کا تشخیص کردہ یہ مجرب نسخہ ہے مگر یہ عارضی افاقہ ہوتا ہے‘ ناسور کا علاج محض رونا نہیں‘ سرجری کے ذریعے اسے کاٹ کر پھینکنا ہی اس کا علاج ہوتا ہے ورنہ یہ ناسور کینسر کی شکل اختیار کرکے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اور پھر اس کے علاج کیلئے سرجری بھی کارگر نہیں رہتی۔ صرف موت کے ذریعے ہی اس کینسر کے ناقابل برداشت درد سے خلاصی مل سکتی ہے اس لئے کسی درد کو محسوس کرکے وقتی آسودگی کی خاطر محض رونے پر ہی اکتفاء نہیں کرلینا چاہئے بلکہ ناسور پھیلنے اور کینسر بننے سے پہلے پہلے سرجری کی تکلیف برداشت کرکے اس کا علاج کرلیا جائے‘ کہیں …؎
ایسا نہ ہو کہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف ان دنوں پولیس کی چیرہ دستیوں کا اپنے ازخود اختیارات کے تحت نوٹس لے رہے ہیں‘ یہ مظالم جو قانون کے محافظوں کی جانب سے شریف شہریوں‘ مجبور انسانوں اور کسی بھی رسوائی سے اپنا دامن بچا کر رکھنے کی کوشش کرنے والے پاکباز خواتین و حضرات پر محض اپنے باوردی اختیارات کے زور پر ڈھائے جاتے ہیں‘ دل ہلانے والے بھی ہوتے ہیں اور رلانے والے بھی۔ کہتے ہیں کہ قانون کے کوئی جذبات نہیں ہوتے‘ اگر جذبات ہوں تو قانون میں جھول میں پیدا ہو سکتا ہے اور بے لاگ انصاف کی نوبت نہیں آسکتی مگر ضبط کی بھی ایک حد ہوتی ہے‘ پولیس کی چیرہ دستیاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ جذبات سے عاری قانون اور اس قانون کے تابع عدالتیں بھی پولیس کے ظلم کی داستانیں سن کر رونے لگی ہیں…؎
اکھیاں دی لالی دسدی اے
روئے تسیں وی او‘ روئے اسیں وی آں
ہڑپہ کی پولیس نے نویں جماعت کی ایک طالبہ اور اسکے اہل خانہ کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا۔ معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نوٹس میں آیا تو انہوں نے اپنے ازخود اختیارات کو بروئے کار لا کر پولیس حکام سے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کی۔ آئی جی پولیس طارق سلیم ڈوگر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کیخلاف پہلے ہی مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور اب دو ہفتوں کے اندر اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کر دیا جائیگا۔
یہ رپورٹ تصدیق کرتی ہے کہ نویں جماعت کی طالبہ بچی اور اسکے خاندان کے دیگر افراد کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ ہوا ہے‘ جبھی تو پولیس اپنے پیٹی بند بھائیوں کیخلاف مقدمہ درج کرنے پر مجبور ہوئی ہے اور یہ نوبت بھی یقیناً چیف جسٹس ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹس لینے کی وجہ سے آئی ہے‘ ورنہ تو یہی پیٹی بند بھائی معصوم اور بدنامی کے خوف سے ڈرنے والے شریف شہریوں پر مظالم کی انتہا کر دیتے ہیں‘ ننگی دہشت گردی کے مرتب ہوتے ہیں مگر یہ اپنے دوسرے پیٹی بھائیوں (کانسٹیل سے آئی جی تک سب پیٹی بند بھائی ہیں) کے سامنے نہائے دھوئے‘ بے ضرر معصوم قرار پاتے ہیں۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ کے بقول پولیس مظالم کی ایسی داستانیں سن کر عدالتیں بھی رو پڑتی ہیں مگر کیا محض رونے سے لا دوا بننے کی نوبت لانے والے اس مرض کا علاج ہو جائیگا اور کیا محض مقدمہ درج کر لینے سے ہڑپہ کے مظلوم خاندان کی ہونے والی رسوائی کا ازالہ ہو جائیگا؟ اگر اس خاندان کے ساتھ پولیس کے ننگے تشدد کا جرم ثابت ہونے پر مقدمہ درج کرنے کی نوبت آئی ہے تو کیا ان پولیس اہلکاروں کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جانا چاہئے۔ یہ عبرت کا نشان نہیں بنائے جاتے تو ہڑپہ کے بعد لاہور کے پولیس تھانہ شیراکوٹ میں ایک خاندان پر ایسے ہی ننگے تشدد کی نوبت آتی ہے۔اس سے بڑی حیرت کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ پولیس مظالم پر عدالتیں بھی رونے لگی ہیں مگر پولیس مظالم برقرار ہی نہیں‘ بڑھ بھی رہے ہیں۔ پولیس ناکوں کیخلاف ہائیکورٹ کا ایک جامع فیصلہ موجود ہے جو جسٹس ایم نسیم چودھری نے ایک کیس میں صادر کیا تھا‘ پھر بھی پولیس ناکوں پر بالخصوص موٹر سائیکل سوار شریف شہریوں کو روک کر انکے منہ سونگھنے‘ جامہ تلاشی لینے‘ خواتین کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آنے‘ بدتمیزی کرنے اور اس بے جا بدتمیزی اور جگا گیری کا سبب پوچھنے پر سرعام لاتوں‘ گھونسوں‘ چھتروں سے انکی تواضع کرنے کا سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری ہے بلکہ جوبن پر ہے۔ کیا کسی آئی جی پولیس اور کسی عدالت نے کبھی استفسار کیا ہے کہ کہیں بھی پولیس ناکے بنا کر راہ چلتے شہریوں کو روکنے اور سرعام تشدد کا نشانہ بنانے کا اختیار پولیس کو کس قانون کے تحت حاصل ہوا ہے۔ اگر قانون میں ایسا کوئی اختیار موجود نہیں تو اب تک یہ لاقانونیت روکی کیوں نہیں جا سکی؟ کیا ایسے واقعات پر محض کڑھنا‘ رو لینا ہی اس کا علاج ہے؟ اس لئے خدارا ان چیرہ دستیوں پر رو کر محض اپنے دل کا بوجھ ہلکا نہ کریں‘ ان سے دکھی اور چھلنی ہونے والے معاشرے کی اس لاعلاج بننے والے مرض سے خلاصی کرائیں‘ ورنہ یہ رونا بھی ان چیرہ دستوں کیلئے مذاق بن جائیگا۔