مجھے خوف آتش گل سے ہے

رچرڈ این ہاس (Haass) امریکہ کی بین الاقوامی تعلقات کی کونسل کے صدر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں \\\"War of necessity, War of Choice\\\" کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جسکے کچھ نکات پر لاس اینجلس ٹائم اور واشنگٹن پوسٹ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ رچرڈ ہاس کا خیال ہے کہ کسی بھی جنگ کے مقاصد کا صحیح تعین کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اور یہ فیصلے کرتے وقت یہ سوچنا بھی کہ کم سے کم وقت میں اور کم سے کم قیمت پر صرف انتہائی ضروری جنگی مقاصد کیسے حاصل ہو سکتے ہیں۔ 1950 میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر حملہ کیا اور جنوبی کوریا کی افواج کو جنوبی بندرگاہ پوسان تک دھکیل کر لے جایا گیا تو امریکہ فوراً جنوبی کوریا کی مدد کیلئے جنگ میں کود پڑا صرف اس محدود جنگی مقصد کے ساتھ کہ شمالی کوریا سے جنوبی کوریا کے علاقے خالی کروانے ہیں اس مقصد کے حصول کیلئے امریکی جنرل میکارتھر نے اپنی افواج کو Inchon بندرگاہ پر بہت پیشہ ورانہ طریقے سے اتارکر شمالی کوریا کو حیران کر دیا نتیجتاً شمالی کوریا کو جنوبی کوریا کے مفتوحہ علاقے خالی کرنا پڑے لیکن اسکے بعد جنرل میکارتھر کے کہنے پر امریکی صدر ٹرومین نے جب امریکی حملوں کو شمالی کوریا کے اندر لے جانیکا غلط فیصلہ بھی کر مارا تو پھر شمالی کوریا روس اور چین کی مشترکہ کوششوں سے امریکہ اپنے 30000 فوجی مروا کر دوبارہ 38th Parallel تک واپس پسپائی پر مجبور ہو گیا۔
پہلی خلیجی جنگ میں بھی عقلمند سینئر بش کا War Aim صرف کویت سے عراقی افواج کا انخلا تھا اس نے کہا تھا امریکہ کا مقصد ہے \\\"Reversing Iraq\\\'s invasion of Kuwait\\\" سینیر بش کو پتہ تھا کہ عراق کے اندر داخل ہونیکی اتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی جسکو امریکہ کی پشتیں بھی نہیں چکا سکیں گی لیکن بش جونیئر اتنا عقلمند نہ تھا وہ عراق پر یہ سمجھتے ہوئے چڑھ دوڑاکہ صرف صدام کو ختم کرنے سے سارے مسائل حل ہو جائینگے۔ مشرف نے بھی CNN کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ عراق کا Centre of gravity (طاقت کا مرکزی نقطہ) صدام کی شخصیت تھی۔ بڑی جنگ چھیڑنے سے زیادہ بہتر ہوتا کہ صرف صدام کو پکڑ لیا جاتا اور مطلوبہ نتائج حاصل ہو جاتے۔ میں نہایت انکساری سے کہوں گا کہ عراق کا Centre of gravity صدام حسین نہیں بلکہ عراق کی مسلح افواج اور قوم کی Will to Fight تھی۔ 16 مئی کے گلف نیوز نے بھی لکھا ہے
\\\"Bush succeeded in ousting Saddam Hussain but at a high cost... and the expected benefits did not materialise in Iraq or the region\\\"
صدام کو قتل کرنے کے بعد بھی امریکی افواج اس وقت تک عراق پر غلبہ نہیں پا سکتی تھیں جب تک کہ عراق کی وار مشین کو تباہ نہ کر دیا جاتا اور قوم کی Will to fight نہ توڑی دی جاتی بش کے الوداعی دورے پر بھی جوتے کھانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراقی فوج تو تباہ ہو گئی لیکن قوم کی Will to Fight ابھی بھی قائم ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے پاکستان کا Centre of gravity جنرل مشرف میں تھا نہ آج جنرل کیانی میں ہے بلکہ پاکستان کا Centre of gravity پاکستان کے مضبوط ترین ادارے افواج پاکستان اور افواج میں بھی اسکی ایٹمی صلاحیت میں ہے اس لیے ہمارے دشمن افواج پاکستان اور ہماری ایٹمی صلاحیت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں
اخبار لکھتا ہے کہ \\\"اب امریکی صدر اوباما کو بھی اپنے جنگی مقاصد کا تعین کرنا ہو گا۔ کیا وہ القاعدہ کو ختم کرنا چاہتا ہے یاطالبان کو شکست دینا چاہتا ہے یا ڈرگ کی پیداوار کو ختم کرنا چاہتا ہے یا افغانستان میں جمہوریت لانا چاہتا ہے؟\\\" اخبار کے مطابق \\\" ان میں سے کم سے کم مقاصد بھی افغانستان جیسے ملک میں حاصل کرنا بہت مشکل ہو گا۔چونکہ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جسکو \\\"Grave yard of Empires\\\" کہا جاتا ہے\\\" اخبار کے مطابق \\\"اوباما نے افغانستان میں اب جو اپنے جنگی مقاصد رکھے ہیں ان میں القاعدہ کو ٹارگٹ کرنا، طالبان کو کمزور کرنا اور افغانستان کی مرکزی حکومت کو مضبوط کرنا ہے\\\" ۔ اخبار لکھتا ہے کہ \\\"اوباما کو ہماری نصیحت یہ ہو گی کہ اگر یہ مقاصد بھی پورے نہیں ہو سکتے تو پھر بھی وہاں فوج کی تعداد کو بڑھانا بہت بڑی غلطی ہو گی اور زیادہ عقلمندی یہ ہو گی کہ جنگی مقاصد کو کم کر کے اس حد تک لے جایا جائے جو attainable ہوں\\\"۔
قارئین امریکہ اور ہنود و یہود لابی کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان کا ایٹمی جبڑا نکال کر اس کو پلاسٹک کے مصنوعی دانت لگا دیئے جائیں تا کہ اسلامی پاکستان اگر اپنے دفاع کے لیے کسی حملہ آور کو کاٹے بھی تو جارح کے جسم پر دانتوں کے نشان تک نہ پڑیں اس لیے اوباما کہتے ہیں کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کا کنٹرول سنبھالنے کی ہمارے پاس آپشنز موجود ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ کے حکومت پاکستان ، افواج پاکستان، آئی ایس آئی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیخلاف غلط وقت پر غلط بیانات کی وجہ سے امریکہ کو پاکستان اور افغانستان میں منفی پریس کوریج ملتی ہے جس کا اگلے دن ہیلری کلنٹن نے اعتراف بھی کیا ہے ۔ اسی منافقانہ پالیسی اور گوانتاناموبے اور ابو غریب جیلوں میں بش انتظامیہ کے مسلمانوں کیخلاف انسانیت سوز مظالم نے بھی دہشت گردوں کے حق میں ہمدردیاں پیدا کیں اور حکومت پاکستان کے اپنے ملک میں باغیوں کے خلاف پرعزم اور فیصلہ کن جنگ لڑنے کے راستے میں مانع رہے ۔ پاکستانی عوام کا اب امریکی قیادت کو یہ پیغام ہے کہ پاک سر زمین پر قدم نہ رکھنا یہ بہت مہنگا سودا ہو گا حقیقت یہ ہے کہ امریکہ عراق یا افغانستان میں امن لانے میں تو بالکل ناکام ہو گیا ہے اور اب اپنی اس ناکامی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے ایک منصوبے کے تحت پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے۔ امریکہ افغانستان میں رہنے کیلئے آیا ہے جس کیلئے اسکو کوئی بہانہ چاہیے ۔ قارئین حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے میرے خیال میں مندرجہ ذیل حقائق کا سمجھنا بڑا ضروری ہے۔
٭امریکہ افغانستان میں طالبان کو شکست دینے نہیں آیا نہ وہ ایسا کر سکتا ہے طالبان کی شکست ایک ظاہری Mission ہے جسکا پس چلمن مقصد افغانستان میں اپنی مستقل Bases رکھنا ہے جو امریکہ نے بنا لی ہیں لیکن امریکہ تاریخ کا یہ سبق سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا کہ یہ لڑائی اس وقت تک جاری رہیگی جب تک امریکہ افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا نہیں کرلیتا۔ ٭پاکستان کی قومی سلامتی کو اصل خطرہ بیرونی دشمنوں کے ناپاک عزائم سے کم اور ہمارے کمزور سیاسی ڈھانچے سے زیادہ ہے ، ایسا کمزور ڈھانچہ جس میں کمزور حکمرانی ، معاشی نا انصافی ، نا اہلی ، کنبہ پروری اور بد ترین کرپشن کی اتنی گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں جن کو بھرنے کی طرف ہم بدقسمتی سے دھیان بھی نہیں دے رہے۔ شام ڈھلے مدہوش ہو جانیوالے اور رنڈیوں کے کوٹھوں پر رقم لٹانے والے سیاسی و غیر سیاسی قائدین اگر پیشہ ورانہ حکمت و بصیرت سے عاری بھی ہوں جیسے ساٹھ سالہ تجربہ بتاتا ہے تو پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کون کریگا۔ ٭کل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر صرف یہ کہہ دینا کہ سب دہشت گردی کا صفایا کرنے پر متفق ہیں اصل حقائق سے پہلو تہی ہے۔ پوری قوت کیساتھ دہشت گردی کا خاتمہ تو ملک کا بچہ بچہ چاہتا ہے لیکن وہ مؤثر State Apparatus کدھر ہے جو ایسا کر سکے گا۔ کل جماعتی کانفرنس میں شاید ہی کسی سیاسی قائد نے یہ سوال اٹھایا ہو کہ اپنے گھر کی طہارت اور ملک میں حکمرانی کو مضبوط کرنے کیلئے 88 وزراء کی فوج کو جس میں بہت سے نا اہل ، بد عنوان ، کرپٹ اور راشی لوگ بھی شامل ہیں کو کب توڑ کر صرف 15 یا 20 ایماندار وزراء کی کابینہ بنائی جائیگی جن قائدین نے خود اپنی جماعتوں کیلئے ایسی وزارتیں سیاسی تعاون دینے کے بدلے بطور رشوت حاصل کی ہوں وہ ایسا مطالبہ کیوں کرینگے؟ یہ کمزور حکمرانی کی صرف ایک دلیل ہے اسلئے قوم کا ہر محب وطن سپوت یہ کہہ رہا ہے کہ …؎
میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا غم نہیں
مجھے خوف آتش گل سے ہے کہیں یہ ہی مجھ کو جلا نہ دے