ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا!

کالم نگار  |  توفیق بٹ

اصل میں تو یہ قوم کے آنسو تھے جو قومی اسمبلی کے رکن اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کی آنکھوں سے بہہ نکلے ورنہ خود تو وہ اس وقت بھی نہیں رویا تھا جب 1999ء کی بارہویں شریف کو جناب نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹانے کے بعد جرنیل حکمران نے ان کے اصلی چاہنے والوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے‘ وہ جیل میں تھا اور ماں اس کی راہ تکتے تکتے چل بسی۔ مجھے یاد ہے ہم افسوس کے لئے گئے تو وہ صبر کی ایسی داستان بنا بیٹھا تھا جسے پڑھتے ہوئے ہماری اپنی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ بجائے اس کے ہم اسے تسلی دیتے وہ ہمیں تسلی دینے لگا۔ اب اگر ٹیلی ویژن کے ایک چینل پر سوات کے فوجی آپریشن اور اس کے متاثرین کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھیں بہہ نکلیں تو اس کے صبر کا پیمانہ یقیناً لبریز ہو گیا ہو گا‘ اور کون سا محب وطن پاکستانی ہے سرکار کی جلد بازی پر جس کی آنکھیں نم نہ ہوئی ہوں اپنے ضمیر کے اطمینان کے لئے سچ بولنے کی اس نے کوشش کی ہے تو میرے خیال میں اس کا جذبہ قابل قدر ہے‘ بجائے اس کے ہم اس کے آنسوؤں کا تمسخر اڑائیں۔ ہمیں سوچنا چاہئے ایسے کتنے سیاستدان ہمارے پاس ہیں کسی نتیجے کی پروا کئے بغیر ملک و قوم کے مفاد میں جو دلیرانہ کردار ادا کریں وہی کردار جس کی قوم ان سے توقع کرتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے ہمیشہ حق کی بات کی اور ڈٹ کر کی۔ یہ وقت اسے ورثے میں ملا کہ اس کے والدِ محترم بھی ایسی ہی خصوصیات کے مالک تھے۔ پرائیویٹ چینل کے ٹاک شو میں عوام کو حوصلہ دیتے ہوئے ان کے آنسو پونچھتے ہوئے خود اس کی آنکھیں دریا بننے لگیں تو مجھے ڈاکٹر ریاض مجید کا شعر یاد آ گیا؎
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
یا پھر
چھلک پڑیں میری آنکھیں کہ درد گہرا تھا
نہ جانے کب سے یہ پانی یہاں پہ ٹھہرا تھا
اور فراز کا یہ شعر تو اس کی حالت پر بہت ہی فٹ آتا ہے۔
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
پاکستانی سیاستدانوں خصوصاً ’’حاضر سروس سیاستدانوں‘‘ کا المیہ اور روایت ہے کہ ملک و قوم کے مفاد کے بجائے ہمیشہ ذاتی یا جماعتی مفاد کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور پھر یہ چاہتے بھی ہیں ان کا یہ ’’وصف‘‘ عوام پر آشکار نہ ہو۔ اس حوالے سے وہ فوجی حکمرانوں کے برابر بلکہ کچھ تو ان سے بھی دو چار انچ اوپر دکھائی دیتے ہیں۔
ذاتی و جماعتی مفادات کے زہریلے کلچر میں گر کوئی سیاستدان ملک و قوم کے درد میں ڈوبی زبان استعمال کرے تو کچھ لوگوں کو اس لئے تکلیف ہوتی ہے کہ ایسی زبان کے وہ عادی نہیں ہوتے جیسے مسلسل پانی ملا دودھ استعمال کرنے والوں کو کبھی ’’خالص دودھ‘‘ میسر آ جائے تو ان سے ہضم نہیں ہوتا۔ ایسے ہی کچھ لوگوں سے خواجہ سعد رفیق کے آنسو بھی ہضم نہیں ہو رہے مگر اس کے مؤقف سے کوئی محب وطن پاکستانی انکار نہیں کر سکتا کہ وفاقی حکومت نے فوجی آپریشن کا فیصلہ جلد بازی میں کیا۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ محترم وزیر اعظم راتوں رات بذریعہ ٹیلی ویژن ’’امپورٹیڈ فیصلہ‘‘ قوم پر مسلط کر دیں اور پھر اس پر داد تحسین بھی چاہیں۔ قوم اپنے ’’جمہوری حکمرانوں‘‘ سے پوچھنے کا حق رکھتی ہے کیا یہ خالصتاً ان کا اپنا فیصلہ تھا اور کیا اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا؟؟ چلیں اگر کسی ’’امپورٹیڈ اشارے‘‘ پر یہ ناگزیر ہی ٹھہرا تھا تو کم از کم اس کے متوقع اثرات سے بچنے کی کوئی تدابیر کوئی پلاننگ ہی کر لی ہوتی۔ یہ جو لاکھوں لوگ ٹکڑوں کی طرح سڑکوں پر بکھرے پڑے ہیں کیا ان کی تکالیف دیکھ کر آنکھیں بھیگ نہیں جاتیں؟ اور سر شرم سے جھک نہیں جاتے کہ کس قسم کی سرکار ہم پر مسلط ہے جو عوام کے دکھوں کا ازالہ کرنے کی ہمت تو دور کی بات ہے صلاحیت ہی نہیں رکھتی؟ مجھے یقین ہے سعد رفیق کے آنسو رائیگاں نہیں جائیں گے اس کی فکرمندی بجا مگر تسلی رکھے کہ پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہے‘ اندرونی و بیرونی دشمن کسی ’’آپریشن‘‘ کے ذریعے اس کا بال بیکا بھی نہیں کر سکتے۔