ہے خبر گرم

ہے خبر گرم

ملائشین طیارے کی گمشدگی اب داستانوں اور افسانوں کی حد تک جا پہنچی ہے۔ دنیا کا کوئی ملک، کوئی ریڈار، کوئی سٹیلائٹ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس بدنصیب طیارے کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔ سینکڑوں مسافروں کا کیا انجام ہوا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ اگر طیارے نے دنیا کے کسی بھی رن وے یا کسی صحرا، جنگل اور میدان میں لینڈ کیا ہوتا اور طیارہ اور مسافر سلامت ہوتے تو کیپٹن کنٹرول روم سے یا کسی نہ کسی سے رابطہ ضرور کرتا اور ساری دنیا کو اس کی خبر مل جاتی لیکن چونکہ جہاز کی طرف سے تمام سگنل آنا بند ہو چکے ہیں.... لہٰذا اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ طیارہ یا تو کسی پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو چکا ہے اور سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ یا پھر وہ بے کنار سمندروں میں گِر کر غرق ہو گیا ہے اور ساری دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہو چکا ہے.... ایسے کئی واقعات اس سے پہلے بھی رونما ہو چکے ہیں جیسے پاکستان کا ایک طیارہ آج سے آٹھ، نو سال قبل گلگت جاتے ہوئے گُم ہو گیا اور آج تک اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا نہ اُس کا ملبہ ملا.... نہ مسافروں کی لاشیں.... ملائشین طیارے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے کیونکہ چین جانے کیلئے جہاز کو بہت بلندی تک پرواز کرنا پڑتی ہے۔ ممکن ہے کہ بلندی کی طرف اُٹھتے ہوئے یا بلندی سے نیچے اُترتے ہوئے کسی پہاڑ سے ٹکرا کر وہیں ریزہ ریزہ ہو گیا ہو.... دیکھیں! آنے والا وقت کتنے وقفے کے بعد اس طیارے کی کوئی خبر ہم تک پہنچاتا ہے۔
خبریں تو بہت سی ہم تک آتی رہتی ہیں لیکن آج کل جو گرما گرم ایک خبر ہر ایک کی توجہ کا محور بنی ہوئی ہے۔ وہ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو (بلاوجہ) ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کی مصدقہ خبر ہے۔ لوگ حکومتی اراکین سے بھی پوچھ رہے ہیں کہ آخر سعودی عرب نے اتنی خطیر رقم پاکستان کو کس مد میں دی ہے۔ لفظ ”مد“ کے ساتھ ”د“ کا اضافہ کر دیں تو یہ رقم ”مدد“ کی مد میں بن جاتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ سعودی عرب نے یہ رقم پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کی خاطر مدد کے طور پر دی ہے۔ ایک تو حکومتی سطح پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات برادرانہ اور دوستانہ ہیں۔ دوسرے میاں محمد نواز شریف کے سعودی حکمرانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گویا یہ دوآتشہ بات ہو گئی۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف چونکہ پاکستان کی معیشت کو واقعی مضبوط ومستحکم بنانا چاہتے ہیں لہٰذا آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر اُنہوں نے دیکھ لیا ہے کہ اُس کے منفی اثرات نہ صرف ہماری معیشت پر پڑے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی لوگوں کی مشکلات اور مہنگائی میں ناقابل برداشت اضافہ ہوا ہے۔ غالباً اسی لیے اُنہوں نے اپنے ذاتی تعلقات کو ملکی معیشت کی مضبوطی کی خاطر استعمال کیا ہے اور سعودی عرب سے یہ رقم حاصل کی گئی ہے۔ دوسری طرف بحرین کے ساتھ بھی پاکستان نے فوجی تعاون بڑھانے کا معاہدہ کیا ہے اور اس کے علاوہ بہت سے ترقیاتی، تجارتی اور توانائی کے حصول کے معاہدات بحرین کے ساتھ ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایک قابل ذکر پیش رفت ہے۔ ان معاہدات پر عملدرآمد کی صورت میں پاکستان کی معیشت مزید مضبوط ہو گی۔ روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور دیگر ترقیاتی کام (جن میں ڈیم بنانا وغیرہ شامل ہے) پایہ تکمیل کو پہنچ سکیں گے۔ بڑی مدت سے پاکستانی حکومتوں نے مشرقِ وسطی کے برادر ملکوں سے تعلقات کی مضبوطی کیلئے کوئی کوشش نہیں کی تھی جس کی وجہ سے ایران جیسے ہمسایہ اور برادر ملک کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات کشیدگی کی حد تک جا پہنچے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو بحال اور مضبوط کرنے کیلئے قدم اٹھایا ہے جو بہت خوش آئند بات ہے۔
پنجاب میں میاں شہباز شریف ترقیاتی کاموں اور اندھیروں کو شکست دینے میں دن رات سرگرم عمل ہیں۔ پنجاب حکومت نے چین، ترکی اور جرمنی وغیرہ کے ساتھ بہت سے مختلف النوع معاہدے کیے ہیں جن میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کو اولیت حاصل ہے۔ میاں شہباز شریف کو چاہیے کہ جیسے صحافیوں کیلئے ”صحافی کالونی“ اور کم تنخواہ یافتہ ملازمین کیلئے ”آشیانہ سکیم“ کا نہ صرف اعلان کیا ہے بلکہ ان کو عملی جامہ پہنا کر بھی دکھا دیا ہے۔ اسی طرح اگر سرکاری کالجز کے اساتذہ کیلئے ”پروفیسرز کالونی“ بھی بنا دیں اور پروفیسر حضرات کو کم قیمت اور قسط دار ادائیگی کی سہولت کے ساتھ پانچ پانچ مرلے کے پلاٹ الاٹ کر دیئے جائیںتو یہ محروم و ”مرحوم“ طبقہ بھی اپنے بچوں کے سر پر مستقل چھت کا سایہ کر سکے گا۔ اساتذہ پر یہ وزیراعلیٰ پنجاب کی بہت بڑی مہربانی ہو گی جس کا اجر انہیں ہمیشہ دعاﺅں کی صورت ملتا رہے گا۔