کیا پاک فوج رینٹل آرمی ہے؟

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ
کیا پاک فوج رینٹل آرمی ہے؟

جنرل پرویز مشرف کو امریکی نائب وزیر خارجہ آرمیٹج نے پتھر کے دور میں لے جانے کی دھمکی دی تو انہوں نے تمام شرائط من و عن تسلیم کر لیں۔ پاکستان افغانستان پر اتحادیوں کے حملے میں سب سے بڑھ کر امریکہ کا ساتھی ثابت ہوا۔اس پر امریکہ نے پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن الائی قرار دیا۔ ہم اب تک امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا امریکہ باقاعدہ وار سپورٹ فنڈ کے نام پر معاوضہ یا کرایہ ادا کرتا ہے۔ امریکی جنگ کے ابتدائی دنوں میں نوازشات کچھ زیادہ تھیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ شروع میں پاکستان میں ڈالروں کی ریل پیل تھی۔ مسلم لیگ ن کے معاشی گرو مشرف کے ڈالر کو مسلسل 9سال تک 62روپے پر رکھنے کے کارنامے پریہ کہہ کر مٹی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ امریکہ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے پر امریکہ ڈالر برسا رہا تھا اس لیے ڈالر 62روپے پر رہا۔ اس سے قبل 1977 ءمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نو جماعتوں کے اتحاد پی این اے نے تحریک چلائی تو بھی پاکستان میں ڈالروں کی بہار لگی ہوئی تھی۔ ڈالر کہیں سے برس رہے تھے اور پی این اے کے قائدین اور کارکن چن رہے تھے۔
آج ملک میں پھر ڈالروں کی آمد کا سلسلہ چل نکلا ہے ۔ سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر پاکستان کو گفٹ کیے ہیں۔ کس خوشی میں؟ ہمارے حکمران اس کا کھل کر اظہار نہیں کر رہے۔ لیکن جن خدمات کے لیے اتنی بڑی رقم دان کی گئی ہے وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ خلیجی ممالک کو ہمیشہ سعودی عرب کی حاشیہ برداری پر فخر رہا ہے۔وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ثابت ہوئے ہیں۔سعودی عرب شام میں بشارالاسد حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتا تھا۔ امریکہ کے کانوں میں پھونکا گیا تھاکہ شامی فوج باغیوں پر مہلک کیمیکل ویپن استعمال کر رہی ہے۔ امریکہ نے شام پر چڑھائی کا اعلان کر دیا۔ سعودی عرب نے تمام اخراجات برداشت کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ایران نے اس کی شدید مخالفت کی اور روس نے باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ شام کا ساتھ دے گا اور شام پر حملے کی صورت میںوہ سعودی عرب پر حملہ کر دےگا ۔ ایران کی مخالفت کا تو اتنا اثرنہیں ہونا تھا البتہ روسی دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور سعودیہ کے پُرزور مطالبے کے باوجود امریکہ نے شام پر حملے سے انکار کر دیا۔ ہمارے کچھ اسلامی حکمران یہ نہیں سوچتے کہ شام اور ایران بھی اسلامی ممالک ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان ممالک میں شیعہ حکمران ہیں جن کو شاید زندہ رہنے کا بھی حق نہیں۔امریکہ کے شام پر حملے سے انکار اور اس کے ایران کے ساتھ تعلقات کی تجدید کچھ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہی ہے۔ دولت ہی کو طاقت سمجھنے والوں کو کرائے کی آرمی کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ شام کو سبق سکھا دیا جائے تو اس کی نظر پاکستان پر پڑی۔ آج اسی مقصد کے لیے پاکستان پر ڈالر نچھاور ہو رہے ہیں۔
امریکہ کے شام پر حملے سے انکار کے بعد سعودیہ اور خلیجی ممالک کے حکمرانوں نے پاکستان کو ماسی کا ویڑھا بنا لیا ہے۔ایک حکمران جاتا ہے تو دوآنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہر سعودی بااثروزیرپاکستان کا دورہ کر چکا ہے گذشتہ ماہ سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز تشریف لائے۔ آج کل بحرین کے بادشاہ دورے پر ہیں۔ ان کو چالیس سال بعد پاکستان کے ساتھ تجدید تعلقات کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کویت کے خلیفہ بھی گزشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ امارات کے حکمرانوں کے دورے تو عموماً ہوتے رہے ہیں۔ سعودی اور ان کے حامی عرب اور خلیجی ممالک کے سربراہوں کے ہاتھ میں ڈالروں اور دیناروں کی زباں پر شام اور ایران کو سبق سکھانے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ شام میں انہیں فوج درکار اور ایران کے لیے شدت پسند تنظیموں کی خدمات کی ضرورت ہے۔
الطاف نے واقعی قومی جذبات کی ترجمانی کی۔انہوں نے کہا کہ چند ٹکوں کی خاطر فوج کو لڑنے کیلئے بغیر سوچے سمجھے دوسرے ممالک بھجوا دیا جاتا ہے۔ فوج حکمرانوں کے ایسے احکامات ماننے سے انکار کردے جو ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہوں، حکمران شیعہ سنی فساد میں فوج کو نہ ا±لجھائیں ۔۔۔ اس بیان پر بڑا واویلا ہوا۔ الطاف نے اس معاملے پر فوج کو ٹیک اوور کا مشورہ نہیں دیا۔ پاک فضائیہ نے کسی دور میں شام سے اسرائیل پر حملے کیے تھے آج اسی شام کو برباد کرنے کے لیے اسے فوج کرائے پر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان سے کسی نے فوج مانگی ہے او رنہ پاکستان دے گا ۔ ایسا ہے تو پھر بتائیں کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کس مد میں پکڑا ہے۔ شام کے خلاف باغیوں کو تربیت کے لیے پاکستان سے ریٹائرڈ فوجیوں کی بھرتی کی بات ہو رہی ہے۔ریٹارڈ فوجی فوج ہی کا حصہ ہیں۔ ان کو باقاعدہ پنشن کی صورت میں تنخواہ ملتی ہے۔ فوج حاضر سروس ہو یا ریٹائرڈ ،اسی پر موقوف نہیں، کسی سویلین کو بھی کسی دوسرے ملک کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کریں تو پاک فوج کو اس جنگ میں حصہ لینے پر فخر ہوگا محض تفرقہ بازی کے لیے کرائے پر پاک فوج کا استعمال پاکستان میں فرقہ واریت کو مزید ہوا دے گا۔ ہمارے حکمرانوں کے لچکدار رویے اور لالچی فطرت کے باعث ہی کوئی پاکستان کو اپنی جنگ کے لیے استعمال کرتا ہے اور کوئی پاک فوج کو کرائے پر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا پاک فوج رینٹل آرمی ہے؟ اگر ایسا نہیں تو حکمران ایسا کیوں سمجھتے ہیں۔