ڈیڑھ ارب ڈالر کا فری لنچ

کالم نگار  |  خالد محمود ہاشمی
ڈیڑھ ارب ڈالر کا فری لنچ

کل یوم پاکستان ہے 74 سال پہلے 23 مارچ کو برصغیر کے مسلمانوں نے قرارداد لاہور منظور کرکے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا یہ قرارداد حصول پاکستان کیلئے ایک نظریاتی اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ 66 سال کی قومی تاریخ پر نظر ڈالیں تو نشیب و فراز ہی دکھائی دیتے ہیں ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست کا جو تصور بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے ذہن میں موجود تھا اسے پورا کرنے میں ہم کامیاب نہیں ہو سکے۔ مطلع کہیں بھی صاف دکھائی نہیں دیتا اقتدار و اختیار چند خاندانوں میں سمٹا ہوا ہے سرمایہ دارانہ نظام معیشت اور سیاست سب کو دکھائی دے رہا ہے طاقتور طبقات کو اس بات کا لائسنس حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں کر گزریں ملک کے مختلف حصوں میں ترقی اور پسماندگی کا اتنا فاصلہ ہے کہ غیرت اور نفرت کی دیواریں اٹھتی دکھائی دیتی ہیں تھرپارکر اور چولستان کی بے بسی کو کون جھٹلائے گا۔ ڈالر کی ویلیو کے یکدم گرنے نے سب کو حیرت میں ڈال دیا 108 روپے والا ڈالر 98 روپے میں بکنے لگا شیخ رشید جیسے جذباتی مبصروں کے نزدیک ڈالر کی بلندی کے بعد پستی ناممکن تھی سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالروں نے ہمیں زرمبادلہ کی گرتی دیوار کو سہارا دیا ہے سعودی عرب کے بعد بحرین بھی ہماری مدد کو پہنچا ہے چند روز بعد زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالر کو چھونے جا رہے ہیں۔ 55 کروڑ ڈالر آئی ایم ایف سے بھی ملنے والے ہیں۔ 2014ءمیں ہماری جیب سے دو ارب ڈالر نکل کر آئی ایم ایف کی تجوری میں واپس چلے جائیں گے تاہم توقع یہی ہے کہ ڈالر کی قیمت سو روپے کے لگ بھگ چلتی رہے گی حکومت طالبان کو راضی کرنے کی کوششوں میں معروف ہے تاکہ امن ہو اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کی شکل میں ڈالروں کا سیلاب آجائے امریکہ سے کولیشن سپورٹ فنڈ کے 55 کروڑ ڈالر موصول ہو چکے ہیں اپریل کے شروع میں تھری جی لائسنسوں کی نیلام یسے دو ارب ڈالر متوقع ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات 28 فروری کو 10.24 ارب ڈالر تھیں برآمدات سے آٹھ ماہ میں 16.86 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر کی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھایا گیا یہ خطیر تحفہ ہمارے کس تعاون کا صلہ ہے۔ سعودی عرب بحرین اور متحدہ عرب امارات ایک طرف ہیں تو قطر‘ ترکی اور ایران دوسری طرف شام اور مصر کیلئے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کھل کر سامنے آچکی ہے ہم سے بھی سعودی عرب ایسی ہی خارجہ پالیسی کی توقع کرتا ہے خلیجی ممالک میں ایک نیا منظرنامہ ابھر رہا ہے قطر‘ ترکی‘ ایران اور عمان کا کردار اہم دکھائی دیتا ہے عمان نے امریکہ اور ایران کو قریب لانے میں اہم رول ادا کیا ہے سعودی عرب کے ساتھ بحرین اور متحدہ عرب امارات کھڑے ہیں خطے میں جہادی گروپس قطر اور سعودی عرب کی پشت پناہی سے چل رہے ہیں عراق نے تیل کی پیداوار اور برآمد میں یکدم اضافہ کیا ہے۔ ایران کی طرف اس کا جھکا¶ واضح دکھائی دے رہا ہے۔ قطر‘ ایران‘ عراق اور ترکی کے اتحاد سے مسلم دنیا میں سعودی بالادستی کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہمارا تکیہ سعودی عرب اور بحرین پر ہے ہماری خارجہ پالیسی کا امتحان شروع ہے نئے امتحانی پرچے تیار ہو رہے ہیں۔ ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ کتنے دن کام آئے گا دنیا میں فری لنچ تو کہیں بھی کسی کو دستیاب نہیں ہم دوسروں کیلئے جنگ کیوں لڑیں شام اور مصر ہمارا مسئلہ نہیں ہمارا مسئلہ بجلی اور گیس ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور قطر سے گیس کی درآمد سے ہمارے ہاں گیس کا بحران دور ہو گا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے ڈالر 98 روپے کا ہو جانے سے زوال پذیر معیشت بحال نہیں ہوئی روپے کی قدر میں اضافہ سے صارفین کو تو کچھ نہیں ملا تیل‘ بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی ہو گی تو سمجھا جائے گا کہ روپے کی قدر میں اضافے کے ثمرات عام آدمی کو ملے دسمبر 2013ءمیں پاکستان 50 ارب ڈالر کا مقروض تھا تین مارچ کو ڈالر 105 روپے کا تھا اس طرح پاکستان پر قرضے کا بوجھ 5250 ارب روپے تھا 13مارچ کو ڈالر 98.19 روپے کا ہوا تو بوجھ گھٹ کر 4910 ارب ہو گیا روپے کی قدر بڑھنے سے قرضوں کے بوجھ میں 340 ارب روپے کی کمی ہوئی حکومت کی 40 فیصد آمدنی کسٹم ڈیوٹی سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی محتاج ہے روپے کی قدر بڑھنے سے درآمدات کی روپے ویلیو کم ہو گئی چنانچہ حکومت کا ریونیو بھی کم ہو گیا انجکشن فوری ریلیف ضرور دیتا ہے لیکن کسی بیماری کا علاج نہیں ہوتا ہمارا انرجی کا بحران جوں کا توں ہے گرمی بڑھنے سے بجلی کا شارٹ فال بڑھتا جائیگا امن کی تلاش میں طالبان سے مذاکرات کیا رنگ لائیں گے ۔ وزارت خزانہ ہو یا وزیر خزانہ اعداد و شمار سے کھیلنا ان کی محبوب گیم ہے روٹی‘ سبزی‘ دالیں‘ دودھ چینی کے خریداروں کیلئے جی ڈی پی اور اکنامک گروتھ کے حوالے سے اعداد و شمار کس کام کے؟