ملک ریاض کو تھر میں بحریہ ٹاﺅن بنانا چاہئے

کالم نگار  |  نواز خان میرانی
ملک ریاض کو تھر میں بحریہ ٹاﺅن بنانا چاہئے

خلافت عثمانیہ کا بانی تاریخ اسلامی کا لازوال و لافانی کردار تھا! اور نہایت مفلس و نادار تھا ‘ مگر غریبوں کی امداد ادھار لے کر اور گھر والوں اور رشتہ داروں سے قرض لے کرتا رہتا تھا۔ ایک غریب دوسرے غریب کی آخری کس حد تک اور کس قدر مدد کر سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسے گھر والوں نے اسکی اس عادت سے تنگ آ کر گھر سے ہی نکال دیا‘ اور اللہ نے اس بے گھر بندے کو دوسرے دن صبح ہوتے ہی بادشاہ بنا دیا.... تاریخ انسانی میں غریب پروری کی یہ منفرد‘ انوکھی اور سبق آموز مثال ہے جو کوئی مذہب اور مسلک سے بالا ہو کر اللہ کے بندوں کی مدد کر کے خدمت کرتا ہے اللہ اسکے عیوب سے درگزر فرماتا ہے۔ جیسے فرعون نے رب ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر ساٹھ ہزار مساکین کو روزانہ کھانا کھلاتا تھا‘ اس دور میں ساٹھ ہزار لوگوں کو لنگر کھلانا بہت بڑی بات تھی‘ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ‘ اور بنی اسرائیل نے قوت پکڑنی شروع کی تو فرعون نے وزراءسے مشاورت کی ‘ دور مشرفی کے وزیر خزانہ کی طرح جو ڈالر کے نرخ گم ہونے پر بجائے خوش ہونے کے یہ کہہ رہے ہیں کہ بیرون ملک سے ڈالر آنے کی وجہ سے روپے کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ یہ کونسا ایسا کام ہے جس کا کریڈٹ موجودہ حکومت لے رہی ہے‘ اب کوئی ان سے پوچھے کہ آپ نے دھوپ میں بال سفید تو کر لئے آپ بھی یہ کارنامہ کر لیتے‘ خیر فرعون کے وزیر خزانہ نے کہا کہ آپ ساٹھ ہزار بندوں کا لنگر بند کر کے یہ پیسہ فوجی قوت بڑھانے پر خرچ کریں۔ فرعون نے اعلان کر دیا کہ کل سے غریبوں کا کھانا بند کر دیا گیا ہے‘ عفو در گزر کرنیوالے غفور رحیم نے کہا کہ تمہارا شرک اور خدائی دعویٰ میں ان غریبوں کی وجہ سے برداشت کیا ہوا تھا۔ تم نے ان کا لنگر بند کر دیا ہے۔ خدا نے اس کا جینا بند کر دیا‘ اور دوسرے دن اسے غرق کر دیا گیا۔ میاں نوازشریف نے بھی مری کے نادار لوگوں کیلئے لنگر کا کئی سالوں سے مسلسل بندوبست کیا ہوا ہے اور رائے ونڈ میں بھی جمعے کے دن اس کا اہتمام ہوتا ہے۔ ان کا دستر خوان ماشاءالہ وسیع ہے۔ اللہ کو بلاتفریق امیر و غریب دوسروں کو کھانا کھلانا بہت پسند ہے۔ محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم بھی کبھی اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ انکے ایثار و قربانی اور اصحاب صفہ کے چرچے زمین و آسمانوں پر اسی جود و سخا کی وجہ سے ہیں۔ ایک دفعہ میں پاکستان ٹیلیوژن کے دفترسے نکل کر پیدل اگلے چوک تک گیا‘ تو سڑک کے درمیان بنی گرین بیل پر دور تک لوگ بیٹھے نظر آئے‘ میرے استفسار پر پتہ چلا کہ بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض کی طرف سے چلایا جانیوالا لنگر ہے جو کھانے کیلئے مزدور اور عوام بیٹھے ہیں کیونکہ لنگر کھلنے میں کچھ دیر ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ اللہ کی خاطر استعمال کرنے والی رقم ختم نہیں ہوتی بندہ خدا کو مقروض بنا دیتا ہے اور دنیا جہان کے خزانوں کا مالک قرض کئی گنا بڑھا کر لوٹاتا ہے ‘ ملک ریاض کے اس مثبت عمل کی وجہ سے میرے دل میں ان کا احترام پیدا ہو گیا‘ پھر بحریہ ٹاﺅن لاہور جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں احرام مصر اور اس دور کے مصر کے بڑے بڑے امیر آبادی کے باہر‘ بت دیکھ کر منفی اثرات ذہن میں آئے مگر خیال آیا کہ اللہ نے تو غریبوں کی خاطر دعویٰ خدائی کو بھی درگزر کیا ہواتھا‘ لہذا یہ معاملہ اللہ ہی جانے ‘ پھر ایک دفعہ ملک ریاض کی طرف پاکستان کے تمام قرضہ جات اتارنے کی پیشکش کی گئی‘ اس معاملے کو فوراً ہی دبا دیا گیا اور پھر ملکی مفاد کو ایک شخص نے ذاتی مفاد میں بدلوا دیا۔ اب تھر میں حالیہ قحط میں ملک ریاض کی جانب سے وہاں کے بند ہسپتالوں کو جو چودھری افتخار کی طرف غیر فعال بنا دئیے گئے ہیں فعال بنا کر چلانے کی ذمہ داری بحریہ ٹاﺅن نے لے لی ہے اور موبائل ایمبولینس بھی وہاں بھجوا دئیے ہیں۔ کراچی میں بحریہ ٹاﺅن بنانا‘ کراچی میں دنیا کی سب سے بڑی عمارت بنانے اور دوبئی کی شاہراہوں کو شرمانے کے دعویٰ کرنیوالے ملک ریاض کو تھر میں بحریہ ٹاﺅن غریبوں کیلئے بنانا چاہئے کیا وہ تھر میں خشک و بنجر زمین کوڑیوں کے مول خرید کر سبزہ زار میں نہیں بدل سکتے‘ اگر جدہ ائرپورٹ پر اتر کر دیکھا جائے ‘ تو کوئی تصور نہیں کر سکتا کہ یہ وہ صدیوں سے خشک اور پیاسی زمین ہے جسے مکہ شریف تک سرسبز بنایا جا رہا ہے۔ اگر ہمارے ملک میں کالا باغ ڈیم بن گیا ہوتا۔ تو آخر تھر‘ پنجاب کے تھل کی طرح زرخیر بن گیا ہوتا ۔کیا ملک ریاض اس دفعہ اپنی خاطر نہیں ‘ ملک کی خاطر کالا باغ ڈیم بنانے کیلئے فعال کردار ادا نہیں کر سکتے‘ بھارت کی طرف سے بھیجی گئی کالا باغ ڈیم رقم کو دوگنا کر کے وہ سیاستدان کو خرید کے اگر وہ یہ کام کر جائیں تو رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہے گا ورنہ تو زبیدہ کا نام ھی لوگ بھول جاتے ہیں اور نہر زبیدہ بھی اپنے آثار تک کھو دیتی ہے اگر ملک ریاض تھر کے بندے کی بجائے اللہ کے بندوں کی خاطر آباد کرنے کی سعی کرینگے۔ تو اللہ بھی خوش ہوگا‘ اور اللہ کے بندے بھی دعائیں گے ورنہ تو اس قحط کی ذمہ داری بلاول پر بھی ہے ‘ قائم علی شاہ پر ہے اور زرداری پر بھی ہے اور اسکا حساب ادھر جو اب ان کو عدالت عظمیٰ میں نہیں روز محشر دینا پڑے گا۔ ملک ریاض نے دنیا دیکھ بھی لی اور بنا بھی لی ہے۔ اب انہیں آخرت بنانے کی فکر کرنی چاہئے۔ اور ہر کام کسی کی خاطر نہیں اللہ کی خاطر کرنا چاہئے۔