لاپتہ طیارہ اور طیاروں کی لاپتہ سیاست

کالم نگار  |  رفیق غوری
لاپتہ طیارہ اور طیاروں کی لاپتہ سیاست

 دو ہفتے ہونے کو ہیں مگر ملائیشیا کے بد قسمت مسافروں سے بھرے طیارے کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ یہ معمہ بن جانے والا واقعہ ہر کسی کیلیے افسوس اور تکلیف کا باعث ہے۔ کہ دو سو انتالیس قیمتی جانوں کو لے کر اڑان بھرنے والے طیارے کو آسمان نے اچک لیا یا زمین نے نگل لیا، ابھی تک کسی کو کچھ خبر نہیں ہو سکی۔ اس پر مسافروں کے اہل خانہ، والدین، بیوی بچوں المختصر تمام قریبی رشتہ دار اور احباب کے دکھ میں پورا پاکستان شریک ہے۔ اللہ ان کے زخموں پر مرہم رکھے، قیمتی جانوں اور قابل احترام انسانی جسموں کی حفاظت فرمائے۔ آمین
 اس مسافر طیارے کے اچانک لاپتہ ہوجانے پر جہاں قیمتی جانوں، انمول جذبوں اور مقدس رشتوں کو پہنچنے والے صدمے پردل برداشتدگی کا شکار ہوں۔ وہیں کچھ اپنے زخم بھی ہرے ہوتے دیکھ رہا ہوں، یہ زخم وہ ہیں جو اس خوب صورت ہوائی سواری نے ہم اہل پاکستان کے دلوں پر بار بار لگائے ہیں کہ شہید لیاقت علی خان کیس کی شہادت سے لے کر منتخب وزیر اعلی میاں نواز شریف کی جلاوطنی تک اور شاید ابھی تک یہ طیارے ایک ہی رخ پر اڑانیں بھر رہے ہیں۔ لیکن پہلے اس تازہ زخم کا تذکرہ کیا جانا ضروری ہے جو ملائیشن طیارے کی گمشدگی سے جدید سائنسی ترقی کے آسمان پر چمکنے والی بڑی طاقتوں اور ان کے دعووں کو لگا ہے۔ آپ اسے زخم بھی کہہ سکتے ہیں ، بٹہ بھی اور دعووں کے دامن پر دھبہ بھی۔ آپ ان ڈرانے والی طاقتوں سے کبھی ڈرے ہوں یا سہمے ہوں، اس بارے میں وثوق سے کہنا مشکل ہے لیکن میرے پاک وطن کے وہ لوگ جن کی شناخت ہی یہ بن چکی ہے '' میں ڈرتا ورتا نہیں ہوں'' کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ ان کا طرہ امتیاز بن گیا تھا۔ ان کا اور ان کی نظریاتی لڑی سے وابستہ میرے وطن کے سارے دانشوروں کا حاصل کلام اور اصل دانش ہی یہ رہی کہ امریکا کے سیٹلائٹس ہمارے بیڈ رومز تک دیکھ سکتے ہیں۔ ہماری افواج ہوں یا سپاہ ان کی نقل و حرکت ان سیٹلائٹس کی بدولت ان کی آنکھوں کے سامنے کی چیز بن کر رہ گئی ہے۔ اس لیے ان کو ناراض کرنا اور ان کی بات نہ ماننا واقعتا پتھر کے دور میں واپس چلے جانے کے مترادف ہو گا۔ لیکن افسوس یہ ہوا ہے کہ اس ملائیشین طیارے نے امریکہ کی ہی نہیں دنیا بھر کی سیٹلا ئیٹس کے میدان کی بڑی طاقتوں کا بھانڈا نہیں پھوڑا تو کم از کم گھمنڈ ضرور توڑ دیا ہے۔
 بارہ دن گذرنے کے باوجود ابھی تک دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے سیٹلائٹ نے ملائیشیا کے لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کو اڑتے ہوئے دیکھا ہے نہ راستہ بھٹکتے ہوئے اور نہ کسی نے سمندر میں گرتے ہوئے دیکھا ، حد یہ ہے کہ جہاز تو درکنار اس کے ایک حصے بخرے کو بھی سیٹلائٹس کی ''نگاہ تیز'' چھو نہ سکی۔ کسی ریڈار کے پاس ایسا سراغ نہیں جسے سراغ زندگی کہہ سکیں ، مگر کیوں؟ کیا ہوا کہ امریکا ، یورپ اور چین و روس سبھی کے سیٹلائٹس کی آنکھیں ایک ہی وقت میں چندھیا گئیں اور ریڈارز اندھے ہو گئے ۔ کیا سمندروں کی تہوں میں میں ہمہ وقت گھومنے پھرنے والی سب میرینز کی صلاحیتوں کو بھی کسی نے نوچ لیا ہے ، کہ سمندر سے ابھی تک سطح آب پر کوئی خبر نہیں لا سک ہیں۔
 ملائیشین طیارے کے مسافروں کے اہل خانہ اور رشتہ دار بجا طور پر سوال کناں ہیں۔'' کہ دنیا بھر پر نظر رکھنے والو تمہاری آنکھیں کس نے پھوڑی دی ہیں کے کچھ دیکھتے ہی نہیں ہو، کہیں تم محض دور حاضر کے آذروں کی ''تخلیق'' تو نہیں ہو۔ ارے بولتے کیوں نہیں ؟ پتھر کی دنیا میں بھجنے والوپتھر کیوں ہوتے جارہے ہو ، کم از کم تمہارے دیدے تو پتھر کے ہی ثابت ہو گئے۔ غاروں کے اندر تک، بیڈ روم کے کونوں تک دیکھنے والی آنکھیں اتنا بڑا طیارہ نہ دیکھ سکیں ؟
 ان نالائقیوں کے احوال پر آپ مایوس نہ ہوں اگرچہ اب تک لاپتہ طیارے کی تلاش میں دنیا کے 26 ملک حصہ لے چکے ہیں جبکہ پچاس کے قریب بحری جہاز اور ساٹھ کے قریب ہوائی جہاز سینکڑوں ٹامک ٹوئیاں مار چکے ہیں۔ ان ماہرین کی تعداد اسکے علاوہ ہے جو سیٹلالئٹس اور ریڈارز کے حوالے سے دور کی کوڑی لانے کیلیے صبح شام ایک کیے ہوئے ہیں۔
 سیٹلائٹس اور سیٹلائٹس مالکان کی ناکامیوں میں خیر کا ایک پہلو بہر حال موجود ہے۔ کہ دوسروں کی طاقت سے اندھا دھند مرعوب ہونے والوں کی آنکھیں شاید اب کے برس کھل جائیں اور کسی سے'' ڈرتے ورتے نہیں فیم'' لوگوں کا جس طرح ''حوصلہ خطا '' ہونے کی خبر ان کے معالجین دے رہے ہیں اب شاید پلٹ آئیں۔ اس کی طرف جو بصیر بھی ہے اور علیم بھی۔ جس کے نور نے ہر شے کو گھیر رکھا ہے، جو چاہے تو سامنے کھڑے کفار مکہ کی آنکھوں میں مٹی اور دھول ایسی پڑے کہ ہجرت کا محفوظ آغاز ہو جائے۔ لگتا ہے آج کی دنیا میں اندھے خوف سے خدا خوفی کی طرف ہجرت کا سفر شروع ہوا چاہتا۔ اب یہاں سے خوف اور خوف ناکوں کا انخلا ہوگا۔ ملائیشن طیارے کے لا پتہ ہو نے نے ان کا گھمنڈ توڑ دیا ہے۔ طیاروں کی لا پتہ سیاست پر بات پھر کسی وقت تک اٹھا رکھتے ہیں۔ یار زندہ صحبت باقی۔