ایوان قائداعظمؒ .... نئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا گہوارہ

کالم نگار  |  نعیم احمد
ایوان قائداعظمؒ .... نئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا گہوارہ

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان بنایا تو اس کی سیاست، معیشت اور معاشرت کی تعمیر و ترقی کےلئے ایک وژن بھی دیا۔ یہ وژن دین اسلام اور سیرت رسول اکرم کے گہرے مطالعہ پر مبنی تھا۔ اس کو عملی جامہ پہنانے سے قبل ہی خدائے بزرگ و برتر نے انہیں اپنے پاس بُلا لیا۔ ان کے دست راست نوابزادہ لیاقت علی خان کو بھی منظر سے ہٹا دیا گیا۔ بعدازاں زمام اقتدار ان عناصر نے سنبھال لی جو برطانوی سامراج کے پروردہ تھے۔ انہوں نے کبھی عسکری اشرافیہ کے دامن میں پناہ لے کر تو کبھی افسر شاہی سے گٹھ جوڑ کر کے اس وژن کو بروئے کار آنے سے روکے رکھا۔ انہیں یہ خوف دامن گیر تھا کہ اگر پاکستان میں قائداعظمؒ کے وژن پر عملدرآمد ہو گیا تو عوام کو ان کا حقِ حاکمیت واپس مل جائے گا۔ ایسا ہونا ان عناصر کے مفادات سے متصادم تھا کیونکہ وہ خود کو آقا اور قوم کو غلام تصور کرتے تھے۔
ملک و قوم کی بدقسمتی کہ یہ مفاد پرست اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب ہو گئے اور پاکستانی عوام آزادی کے حقیقی ثمرات سے محروم رہے۔ اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی کہ پاکستانی قوم کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے افکار سے ازسرنو روشناس کرانے‘ قائداعظم کی شخصیت و کردار اور فراست و دور اندیشی سے آگاہ کرنے بالخصوص پاکستان کی نسل نو کو قائداعظمؒ کے حیات آفریں افکار سے روشناس کرانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی وضع کی جائے اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے بابائے قوم کے شایان شان ایک ایسی عظیم الشان عمارت قائم کی جائے جو ایک اعلیٰ تعلیمی‘ تحقیقی اور تربیتی مرکز ثابت ہو‘ جہاں ہمہ وقت قائداعظمؒ کے افکار و خدمات اور احسانات کا ابلاغ ہو۔
چنانچہ 11 ستمبر 2007ءکو ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں منعقدہ قائداعظمؒ کے یوم وفات کے اجتماع میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن مجاہد پاکستان محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے اعلان کیا کہ جوہر ٹاﺅن لاہور میں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کی ملکیتی اراضی پر ایک انتہائی پرشکوہ ”ایوان قائداعظمؒ“ تعمیر کیا جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 20 اگست 2011ءکو اس ایوان کے تعمیراتی کام کا آغاز ہوا اور اب الحمدللہ اس کا تعمیراتی ڈھانچہ مکمل ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی زیر نگرانی لاہور میں پہلے ایوان اقبالؒ تعمیر ہو چکا ہے۔ گزشتہ 20 برس سے ان کی قیادت میں ایوان کارکنان تحریک پاکستان نظریاتی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور اب ان ہی کی راہنمائی میں ایوان قائداعظمؒ تعمیر ہو رہا ہے جس کے لیے انہوں نے ذاتی طور پر 10 لاکھ روپے کا عطیہ دیا ہے۔
اس عظیم الشان قومی منصوبے کے تعمیراتی مراحل کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس گزشتہ روز ایوان قائداعظمؒ میں قائم نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے دفتر میں محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس کے دوران اب تک مکمل ہو جانے والے کام پر اظہار مسرت کرتے ہوئے باقی ماندہ کام کی جلد از جلد تکمیل پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ چیف جسٹس (ر) میاں محبوب احمد‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار علی خان‘ ٹرسٹ کے چیف کوآرڈینیٹر میاں فاروق الطاف اور سیکرٹری شاہد رشیدکے علاوہ ایوان قائداعظمؒ کے کنٹریکٹر میسرز اعتماد انجینئرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے پریزیڈنٹ مظہر الدین انصاری اور کنسلٹنٹ / آرکیٹیکٹ میسرز کاشف اسلم اینڈ ایسوسی ایٹس کے نمائندگان عابد نعیم اور سردار معروف خان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے ان تاثرات کا اظہار کیا کہ ہم کوئی کروڑ پتی انسان نہیں ہیں مگر ہم نے فیصلہ کیا کہ بابائے قوم کے نام نامی سے منسوب وطن عزیز کے اس اولین ایوان کو تعمیر کیا جائے۔عوام الناس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بھی اس کی تعمیر کے لیے ہمیں عطیات دیے ہیں تاہم وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے سب سے زیادہ تعاون کیا ہے۔ میاں محمد شہباز شریف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایوان قائداعظمؒ کی آخری اینٹ تک ہمارا ساتھ دیں گے۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے فخریہ انداز میں کہا کہ اگرچہ لاہور میں متعدد تاریخی عمارات موجود ہیں مگر ایوان قائداعظمؒ ان سب میں ممتاز حیثیت کا حامل ہو گا۔
قارئین کرام! انشاءاﷲ ایوان قائداعظمؒ کی تعمیر قیام پاکستان کے اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول اور پاکستانی قوم کے دل و دماغ میں بابائے قوم کے افکار بالخصوص ”ایمان‘ اتحاد‘ تنظیم“ کو راسخ کرنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو قائداعظمؒ کے تصورات کے مطابق ایک جدید اسلامی‘ جمہوری و فلاحی مملکت بنانے کے لیے ہماری جدوجہد کو کامیابی عطا فرمائے۔ (آمین)۔