ہم سب خطرے میں ہیں ....

کالم نگار  |  مسرت قیوم
ہم سب خطرے میں ہیں ....

”ڈاکٹر صاحب“ خطرے کی کوئی بات تو نہیں۔ ہلکی ہنسی کے ساتھ ”سی ایم ایچ“ کے ”ڈاکٹر خالد راجہ“ گویا ہوئے۔ ہم سب خطرے میں ہیں جب تک ہم زندہ ہیں۔ معمول کا چیک اپ، نارمل رپورٹس مگر انسان کے اندر ڈر کسی نہ کسی کونے کھدرے مےں چُھپا ضرور ہوتا ہے۔ سو استفسار کا اتنے خوبصورت پیرائے میں جواب کوئی ”صاحب فن“ ہی دے سکتا تھا۔ بشری وجود جتنا مضبوط ہے تو اتنا ہی کمزور بھی ہے۔ اگر اس کی ٹھیک طریقے سے حفاظت، دےکھ بھال نہ کی جائے تو انگنت بیماریاں گھیر لیتی ہیں۔ فاسد مادوں کا گڑھ بن جاتا ہے۔ جس طرح آج پاکستان فاسد مادوں کی آماجگاہ بن چُکا ہے۔ کائنات کے آفاقی اصولوں کو اپنانے اور انسانی وجود کی بقا تحفظ کے لئے لازم احتیاطی تدابیر اختیار کرنے والا کبھی بھی خطرے کی حدود مےں داخل نہیں ہوتا۔ سچائی، دےانت داری اور ایمان داری اپنے پیشے سے وفاداری اور رزقِ حلال خطرے سے محفوظ رہنے کی جڑی بوٹیاں ہےں۔ غفلت، ناقدری سے جسم طاقت کھو دےتا ہے۔ خصوصاً بیماری مےں لاپرواہی صحت کو مزید بگاڑ دےتی ہے۔ شاید ایسے ہی ہم نے اپنے وطن کی قدر نہیں کی۔ اِس کے وسائل تو ہاتھوں، پیروں سے لُوٹے مگر اِس کے مسائل حل کرنے مےں یکسر غفلت شعاری کا مظاہرہ کےا۔ اپنے معاملات کو ”مافیا“ کے ہاتھوں مےں سونپ کر اُن سے فرشتوں جیسے ”عملِ صالح“ کی توقع باندھے”68 سال“ گزار دئیے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ مختلف سماجی، معاشی عوارض مےں مبتلا ”پشاور سانحہ“ کی وجہ سے ”آئی سی یو“ مےں پڑے ہےں۔ ”امریکی تھنک ٹھنک“ نے پاکستان کو دنیا کا آٹھواں خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے۔ ہمیں الزام نہیں”درجہ“ پر اعتراض ہے۔ ہمارا نمبر پہلا ہونا چاہئے کیونکہ ہم تب تک خطرے مےں ہیں جب تک پورے ملک مےں پھیلے ہوئے اسلحہ کے ذخائر تلف نہےں کر دئیے جاتے۔ آج پورے ملک مےں کرفیو کا سماں ہے۔ شہریوں سے زیادہ ”پولےس فورسز“ نظر آ رہی ہےں۔ ریڈ الرٹ سے بھی آگے کا منظر ہے۔ دو دن سے ”تمام چینلز“ پر مختلف جیلوں کے بیرونی مناظر، خطرناک مجرمان کے کوائف، پھانسی کی تیاریاں، گاڑیوں کے نمبر، قانون نافذ کرنے والوں کے چہرے ”بریکنگ نیوز“ کے خطرناک مواد مےں لپیٹ کر قوم کے زخموں پر پھینک رہا ہے۔ ”Rating“ کی خوفناک دوڑ سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ ”میڈیا والو“ ہوش میں آﺅ۔ یہ نازک وقت ہے۔ ےہ ”Rating“ نہیں بلکہ دہشت گردوں کو گائیڈ نس کا سامان فراہم کر رہے ہو۔ ایسی خبریں اُن کے جذبہ انتقام کو اُبھاریں گی۔ ”حکومت، فوج“ اِس پر مکمل پابندی لگوائیں۔ دہشت گردی کا آغاز کیسے ہوا۔ اسباب کیا بنے؟ دھرنا کیوں شروع ہوا۔کون سی وجوہات باعث بنیں۔ طول کیوں کھینچا؟ ہر دو صورتوں مےں مکمل تفتیش، ہوم ورک کرکے ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ ریاست اور حکومت تب تک خطرے مےں ہیں۔ جب تک دونوں کے اسباب، مددگارعوامل اور ساز گار حالات ختم نہیں کر دئیے جاتے۔ ہم تب تک خطرے مےں ہیں۔ جب تک فرقوں کے ناموں پر مساجد تعمیر ہوتی رہےں گی۔ قوم سب سے زیادہ مصائب مےں مبتلا اور ذاتی ہلاکتوں کی صورت نقصانات سہہ رہی ہے۔ یہ تب تک خطرے مےں ہے جب تک ہمارے شہر، دیہات کی دیواریں اور پُل، لسانی وفرقہ وارانہ تنظیموں کے اشتہارات سے بھرے رہیں گے۔ خطرے سے نکلنا ہے تو اِس عمل کو غیر قانونی قرار دےں۔ جرمانہ، سزا بیک وقت دی جائے۔ لسانیت، عصبیت کے زہر آلود ماحول کو بدلنے کے لئے پورے ملک مےں سرکاری منظور شدہ خطبہ جمعہ، عیدےن پڑھا جائے۔ جب تک اےک بھی ”افغانی“ ہماری زمین پر ہے تب تک ہم محفوظ نہےں۔ اِن کو نکال باہر کرےں۔ ہم تب تک خطرے مےں ہیں جب تک ”قیادت“ قصداً حیلہ جوئی، غفلت شعاری کو ترک نہےں کر دیتی۔ سانحات پر وقتی اتحاد کی عادت نہیں چھوڑ دیتی۔ اشتعال انگیز بیانات تصادم کو ہوا دیتے جارحانہ بیانات کی راہ سے نہیں مُڑتی۔ ہم تب تک خطرے میں ہیں جب تک ”فوج“ بھی ماضی کے بوجھ کو اُتار نہےں پھینکتی۔ ”ضیاالحق“ دور کی جنگ نے ”مشرف“ دور مےں عروج، طاقت پکڑی۔ بے شک قوم ”فوج“ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے مگر اب لازم ہے کہ ”سیاہ ابواب“ کو کُھرچ کر دشمنوں کو بے نقاب کر دے۔ وطن فروشوں کے سودے رُکوائے۔ اگر ”افغانستان“ زبان کی مٹھاس چکھنے سے انکاری ہو جائے تو پھر اپنے دشمن کا کُھلا تعاقب کرے۔ کرپشن کے سامنے ڈٹ جائے۔ سب کو ”no more“ کا پیغام دے کیونکہ قوم کے کندھوں پر نازک پھولوں، چھوٹے کفن کا بوجھ بہت بھاری ہو رہا ہے۔ ہم تب تک خطرے سے باہر نہےں نکل سکتے۔ جب تک درست ترجیحات کا تعین نہیں کریں گے۔ ہم نے ”نیکٹا“ تو بنا لی مگر اُس کا بجٹ بڑھانے کی بجائے سنگین سکیورٹی خطرات کے باوجود اُس کے بجٹ میں کمی کر دی۔ آج تک اِس کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا۔ آپریشن ”ضرب غضب“ کے تناظر مےں داخلی سلامتی کے تحفظ کے لئے ٹھوس حکمت عملی بنانے کی بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کو ترجیح دی گئی۔ موجودہ ”موٹروے“ کی تزئین وآرائش مزید ریسٹورنٹس کی تعمیر زیادہ ضروری ہے یا پھر قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی مناسب راہ اپنانا، شاہرات پر اربوں روپے مختص کر دئیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مالی مشکلات کا سامنا رہا۔ انا پرستی، سیاسی مفادات سب پر حاوی رہے۔ تبھی تو آج ملک کربناک کیفیت مےں ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف ”پنجاب“ مےں ”35 ہزار“ سے زائد سکولز مےں ایک بھی گارڈ نہیں تو پھر خطرہ کیسے دور ہو گا؟ قارئین ہم تب تک خطرے میں ہیں جب تک پشتنی حکمرانوں سے انصاف، مساوات، جاگےر داروں سے جمہورےت، تاجروں اور صنعتکاروں سے عوامی ریلیف بہبود ملنے کے خواب سجائے اِن کو ووٹ دیتے رہیں گے۔ کم اُجرت پر اِن کی فیکٹریوں میں کام کرکے ان کی دولت بڑھانے رہیں گے۔ یہ کیچڑ سے گھی نکالنے کے مترادف ہے۔ بالکل صحیح، سنجیدہ سوچ ہے کہ قوم کو اب سیاستدانوں سے زیادہ نفسیاتی ماہرین کی ضرورت ہے۔ تمام طبقہ ہائے زندگی کا نفسیاتی علاج ایکسر سائز کرنا اشد ضروری ہو چُکا ہے۔ رویئے بدلنے، سچ بولنے اور عادات مثبت بنانے کی طرف سفر کرنا پڑے گا۔ خون کبھی رائیگاںنہیں جاتا۔ لاکھوں مجاہدوں کا خون سمندر کی صورت بہا تو ”پاک وطن“ منصہ شہود پر آیا۔ ”150 پھولوں “ نے کفن پہنے تو سیاستدان متحد ہو گئے۔ ہمیں تب تک کوئی خطرہ نہیں جب تک سیاستدان، قوم اور فوج متحد ہیں۔