پاکستان کی مٹی پر کھڑا ہونے کا حق

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری
پاکستان کی مٹی پر کھڑا ہونے کا حق

عمران خان ، نوازشریف اور دوسرے سبھی لیڈران کرام یہی ورد کر رہے ہیں کہ یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں لیکن میں اپنے کانوں کو کیسے بند کر لوں۔ آرمی پبلک سکول پشاور سے 133 معصوم بچوں کی آوازیں آ رہی ہیں کہ دیکھئے یہی تو وقت ہے سیاست کرنے کا ایسانہ ہو کہ ہمارا خون بھی اکارت جائے، ان لوگوں کے خلاف مل جل کر تلوار اٹھا لیجئے جنہوں نے ہمارے ملک کے خلاف تلوار اٹھا رکھی ہے۔ ان شہداءنے آرمی پبلک سکول کے فرشوں پر اپنے خون سے راستے کی نشاندھی کر دی ہے۔ اب یہی ایک راستہ ہے اپنے وطن کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کا۔ یہ دہشت گردی صرف ہمارانہیں ، ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کا بھی مسئلہ ہے۔ ان بچوں کا بھی مسئلہ ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ مصطفیٰ زیدی نے برسوں پہلے کہا تھا:
 ابھی میں پیدا نہیں ہوا ہوں میری سنو
ان خون کے پیاسوں مہیب چوہوں کو
ان پچھل پایوں کو
چمگادڑوں کو میرے قریب آنے سے باز رکھو
ابھی میں پیدا نہیں ہوا ہوں مجھے سنبھالو
اسلام آباد سے عدنان رندھاوا نے کراچی کے سید منور حسن سے کہا ہے کہ اگر آپ طالبان کی مذمت نہیں کر سکتے تو جھٹ سے پشاور پبلک سکول کی ہی مذمت کر ڈالیں، جس کی وجہ سے بیچارے چھ طالبان شہید ہو گئے ہیں۔ لال مسجد اسلام آباد کے باہر بھی عجب تماشا لگا ہوا ہے۔ سیکٹر G-6 میں واقع لال مسجد کے باہر سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد لال مسجد کے باہر سول سوسائٹی کے نمائندوں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد لال مسجد کے باہر بھی جمع ہو گئی ہے۔ احتجاج کرنے والوں میں کئی خواتین ممبران پارلیمنٹ بھی شامل ہیں ہر عورت کی مٹی قدرت نے مامتا کے جذبے میں گوندھی ہے۔ اس موقعہ پر شرکاءنے ”لگام دو، لگا دو، عزیز کو لگا دو کے ، نعرے لگاتے ہوئے، لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے لال مسجد کے باہر احتجاج کرنے پر اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ 2007ءکے دوران لال مسجد اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کی طالبات وفاقی دارالحکومت میں مختلف جگہوں کا گھیراﺅ میں ملوث رہی تھیں۔ جس کے بعد صورتحال کو کنٹرول میں لانے اور غیرملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر لال مسجد میں آپریشن کیا گیا تھا۔ دوسروں کے معصوم، سادہ لوح بچوں کو شہادت کی راہ دکھانے والے مولوی خود شہادت سے بچنے کے چکر میں اس موقعہ پر برقعہ پہن کر فرار ہوتے ہوئے گرفتار کر لئے گئے تھے۔ سانحہ پشاور کے بعد اس دردناک واقعہ کی مذمت میں لیت و لعل کرنے اور دہشت گردوں کی مبینہ حمایت کے نتیجے میں کل سے لال مسجد کے باہر سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہے۔ شہید کی جوموت ہے وہ قوم کی حیات ہے، پھر یہ تو اکٹھے ڈیڑھ سو کے قریب شہید تھے جن کی دی ہوئی جرات اور طاقت کے باعث ہم اب دہشت گردوںکو پھانسی دینے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ ہماری بزدلی کا یہ عالم تھا کہ ہم اپنے دہشت گردوں کو سزا دینے پر بھی قادر نہیں تھے۔ وہ ہماری جیلوں میں پورے ٹھاٹھ سے رہتے تھے اور ہمارے جیل افسران ان سے خوفزدہ دکھائی دیتے۔ لیکن اب دو دنوں میں پاکستان بہت بدل گیا ہے۔ یہ نیا پاکستان ہے۔ جو ڈیڑھ سو جانوں کی قربانی کے نتیجے میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ سانحہ پشاور پاکستان کا نائن الیون ہے۔ اب ہماری جیلوں میں دہشت گرد خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہے ہیں۔ فیصل آباد جیل میں بند دہشت گرد ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو جب آرمی پبلک سکول میں ڈیڑھ سو کے قریب طلباء، اساتذہ اور سٹاف ممبران کی شہادت کی اطلاع ملی تو انہوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور خوشیاں منائیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ان بچوں نے بھی بڑے ہو کر فوج میں ہی جانا تھا۔ ڈاکٹرعثمان خودکو بہت بڑا ہیرو سمجھتا تھا ایک موقعہ پر اخباری نمائندے نے اس سے پوچھا گیا کہ تمہارے کتنے بھائی ہیں؟ اس نے جواب دیاکہ تین اگلا سوال تھا کہ وہ بھی تمہاری طرح دہشت گرد ہیں؟ وہ بڑے فخر سے کہنے لگا کہ اکیلے میں نے سارے پاکستان کو سنبھال رکھا ہے۔ اگر میرے دوسرے دو بھائی بھی میری طرح کے ہوتے تو ہم ساری دنیاکو آگے لگا دیتے۔ لیکن اب جب اسے پھانسی دینے کے لئے سنٹرل جیل فیصل آباد سے ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد لیجانے کے لئے گاڑی میں بٹھایا جانے لگا تو اس کے چہرے پر خوف سے مردنی چھائی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عثمان نے گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کیا، پیچھے کی طرف جانے کے لئے زور لگانے لگا تو ایک فوجی نوجوان نے اسے چوہے کی طرح اٹھا کر گاڑی میں پھینک دیا۔ یہ دہشت گرد اپنے تائیں اسلام کے مجاہد بنے پھرتے ہیں۔ انہیں پشاور میںفائرنگ سے پہلے طلباءسے کلمہ پڑھوانا تک یاد تھا۔ شاید وہ نہیں چاہتے تھے کہ کہیں کوئی کافر ان کے ہاتھوں مارا جائے۔ ادھر ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے۔ یورپی یونین اب بھی ان دہشت گردوں کو تختہ دار پر چڑھانے کی مخالف نظر آتی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے پھانسی کی سزائیں پانے والے دہشت گردوں کی سزاﺅں پر عملدرآمد پر پابندی چھ سال بعد اٹھا لی گئی۔ تاہم اسلام آباد میں یورپی یونین کا وفد اس حوالہ سے انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے وہ پھانسی کے خلاف ایک بھونڈی سی دلیل لاتے ہیں کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ سزائے موت دہشت گردی کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہے۔ نجانے وہ کیا فلسفہ بگھارتے پھرتے ہیں۔ انہیں شہید بچوں کی تدفین کے وقت بلانا چاہئے تھا۔ پھر انہیں کہا جاتا، تم بھی کندھا دینا بھائی۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے تابوت بہت بھاری ہوتے ہیں، کالم نگار وسعت اللہ خان نے اپنے کالم میں ایک دھاڑیں مارتا جملہ لکھا ہے۔ نجانے ہم لٹھا کیوں ایکسپورٹ کرتے ہیں تو کیا پاکستان کی ضرورت پوری ہو گئی، میر ے بھائی! پوری ہو گئی۔ اب ہم کسی دہشت گرد کو اس ملک میں نہیں گھسنے دیں گے۔ آج ہم اس فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں کہ ہر پاکستانی سے یہ پوچھ لیا جائے ، کیا تم دہشت گردوں کے ساتھ ہو یا پاکستان کے ساتھ؟ پھر کیا ضروری ہے کہ پاکستان کے ساتھ کھڑا نہ ہونے والے کو پاکستان کی مٹی پر کھڑا بھی ہونے دیا جائے؟
پس تحریر: گوجرانوالہ شہر میں جا بجا محکمہ پولیس کے سرکاری رنگ میں سائن بورڈ لگے نظر آتے ہیں ان بورڈوں پر مختلف تھانوں کی حدود کا تعین کیا گیا۔ ان بورڈوں پر گوجرانوالہ کے دو شہریوں کی تصاویر اور نام درج ہیں۔ آر پی او اور ڈی پی او گوجرانوالہ وضاحت کر دیں کہ کیا یہ مقامی پولیس کے سرکاری طور پر منظور شدہ سودا کاری ایجنٹ ہیں؟ یہ وضاحت شہریوں کے مفاد میں بہت ضروری ہے۔