دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے

کالم نگار  |  عتیق انور راجا
دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے

اگرچہ فوجی کارروائی کے نتےجے مےں ساتوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے لےکن اس سے پہلے وہ وطن عزےز کے بہت سے ننھے پھولوں کو مسل گئے۔ اس عمل نے ہماری قوم کو اےک بار پھر ےہ سوچنے پر مجبور کر دےا کہ ہمارا دشمن کتنا گھٹےا اور مکروہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لےے معصوم بچوں کے لئے بھی اےسی بزدلی کا مظاہرہ کر سکتا ہے جس کی مثال تارےخ عالم مےں مشکل سے ہی ملتی ہے۔ پشاور کے آرمی سکول پر دہشت گردوں کے حملے مےں 132 بچوں سمےت 141 افراد شہےد ہو گئے ہےں اور 125 کے قرےب زخمی ہو گئے ہےں۔ اس اندوہناک سانحے نے پوری دنےا کے ضمےر کو جھنجھوڑ کے رکھ دےا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کا اےک قومی مسئلہ ہے۔ اگرچہ ہم نے اپنے اس قومی مسئلے کو کبھی بھی بحیثےت قوم اپنی ترجےحات مےں شامل نہےں رکھا۔ دہشت گردی کا عنصر اےک اےسا ناسُور ہے جس کا بےج جنرل ضےاالحق کے دور مےں لگاےا گےا اور مشرف کے دور میں پروان چڑھایا گیا۔ پاکستانی سےاست کا المےہ ےہ رہا ہے کہ جب بھی دشمن نے اس ملک کو نقصان پہنچا نہ ہوتا ہے وہ اپنے مقصد کی تکمےل کے لےے ہمےشہ بھرپور تےاری کر کے اپنے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔ جب امرےکہ نے روس کو اپنے مقابلے مےں کمزور کرنا تھا تو اس نے پاکستان مےں جمہوری حکومت کی بساط لپےٹ کر فوجی آمر کو اس ملک پر مسلط کروا دےا جس نے جہاد کے نام پر اس ملک پاکستان کی جڑوں مےں اےسا بارود بھر دےا کہ ہمارے لوگ نہ سمجھتے ہوئے کہ وہ کس مقصد کے لےے استعمال ہو رہے ہےں جوق در جوق جہادی تنظےموں مےں شامل ہونا شروع ہو گئے۔ ےہ ہمارا صدےوں سے المےہ رہا ہے کہ ہم مسلمان بہت جلد دو نمبر جہادےوں کے جال مےں پھنس جاتے ہےں۔ اس کے بعد ہمارے کمانڈو جرنےل نے جو اپنے ملک کی ٹی وی سکرےن پر مُکے دکھاےا کرتا تھا بُش کے اےک فون پر ڈھےر ہو گےا۔ اگر ہمارے کمانڈر صاحب نے اس وقت کچھ حکمت عملی کا مظاہرہ کےا ہوتا تو آج حالات ےقےنا مختلف ہوتے مگر اس وقت بھی امرےکہ بہادر نے 9/11 کا واقعہ ہونے سے پہلے پاکستان مےں جمہوری حکومت کو اےک آمر کے ہاتھوں ختم کروا دےا کےونکہ جمہوری حکومت چاہے جتنی بھی بُری ہو وہ کوئی بھی فےصلہ کرتے وقت اپنے ساتھےوں سے مشورہ ضرور کرتی ہے جبکہ اےک آمر اپنے سب فےصلے اکےلے ہی کر لےتا ہے اور وہی ہوا کہ مشرف نے اس ملک مےں امرےکہ کو سب کچھ کرنے کی آزادی دے دی۔ کاش اس وقت ملک مےں جمہوری حکومت ہوتی تو آج ہمارے ملک کا نام بھی امن کے داعی ملکوں مےں آتا۔
اس سارے عمل مےں اےک پہلو ہماری سکیورٹی کی کمزوری کا بھی ہے کےوں کہ اےک طرف ہم ضرب عضب کے ذرےعے اپنے دشمن کو تباہ کر رہے ہےں۔ ہماری پاک فوج بڑی بہادری سے ان دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر رہی ہے تو دوسری طرف ہمےں ان کم ظرف دشمنوں کی ناپاک چالوں کو ناکام بنانے کے لےے اپنی اندرونی سکیورٹی پر بھی بھرپور توجہ دےنی چاہئے تھی کےونکہ مکار اور بزدل دشمن کو جب پاک فوج نے بہت زےادہ نقصان پہنچا تو انہوں نے سکول کے بچوں پر بے دردی سے اےسا حملہ کےا جس نے بہت سے گھروں کے چراغ گل کر دیئے۔ جس دےدہ دلےری سے دہشت گرد سکول مےں داخل ہوئے بچوں اور اساتذہ کو شہےد کےا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری سکیورٹی کے مسائل سنگےن صورتحال اختےار کر گئے ہےں۔ اس کی بڑی وجہ تو دہشت گردی کےخلاف جنگ کی حکمت عملی کے تعےن مےں فکری اور سےاسی تضادات کا موجود ہونا ہے۔ حالےہ دنوں مےں فوجی قےادت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جو بلاتفرےق آپرےشن شروع ہوا ہے کاش ےہ بہت پہلے ہی شروع ہو جاتا۔ ماضی کے مقابلے مےں ان قوتوں کے خلاف بھی فوجی آپرےشن کےا جا رہا ہے جن پر پہلے سےاسی سمجھوتے غالب تھے۔ اس کے ساتھ ہی فوجی قےادت ےہ واضح کر چکی ہے کہ اس آپرےشن کو انتظامی طاقت کے ساتھ ساتھ سےاسی طاقت کی بنےاد پر بھی لڑنا ہو گا۔ تمام سےاسی جماعتوں کو اےک پلےٹ فارم پر متحد ہونا پڑے گا اور اس بے رحمانہ حملے کے بعد سبھی محب وطن پارٹےاں اور حکومت اور فوج اےک پلےٹ فارم پر ہی نظر آئے جو سےاسی فرےق آپس مےں دست و گرےبان تھے وہ بھی اس سانحہ پر اےک نظر آئے۔ عمران خان کی جانب سے 18 دسمبر کی ملک گےر ہڑتال کی کال واپس لےنا اور پارلےمانی پارٹےوں کے اجلاس مےں شرکت سے قومی ےکجہتی کو تقوےت ملی ہے۔ اللہ کرے کہ ےہ سےاسی فضا ملک کی بہتری کے لےے کچھ اچھے فےصلے کرے کےونکہ اگر ہم نے دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تو ہمارے سےاست دانوں کے ساتھ ساتھ ہمارے دےنی پےشواﺅں کو بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا۔ دہشت گردی کے بارے مےں اےک منطق ےہ بھی دی جاتی ہے کہ اس مےں بےرونی ہاتھ شامل ہے مگر بےرونی طاقتےں تبھی کامےاب ہوتی ہےں جب کوئی ملک اندرونی طور پر کمزور اور آپسی اختلافات مےں پڑا ہوا ہو۔ اےسے مےں بےرونی دشمنوں کے لےے اپنا کام کافی آسان ہو جاتا ہے اس وقت ہمےں ہر طرح کے اختلافات اور تضادات کو بھلا کر اےک قوم بن کر دہشت گردی کے خلاف ےہ جنگ لڑنی بھی ہے اور جےتنی بھی ہے۔ اب وقت آ گےا ہے کہ ہم بحیثےت قوم اےک ہو کر اس جنگ کو لڑےں اور اپنے ارد گرد بڑی گہری نظر رکھےں۔ ہمےں ان تمام راستوں کو بند کرنا ہے جن کو استعمال کر کے دہشت گرد حملہ کرنے مےں کامےاب ہوئے۔ پورے ملک مےں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑے گا۔ اس غم کو اب ہم نے اجتماعی طاقت مےں بدلنا ہے تاکہ دہشت گردی کے نےٹ ورک کو جس نے قوم کے مستقبل پر حملہ کےا ہے ہمےشہ کے لےے نےست و نابود کر سکےں جےسا کہ آرمی چےف ہنگامی دورے پر افغانستان گئے ہےں تو امکان ےہی ہے کہ وہ تحرےک طالبان کے مفرور اور افغانستان مےں روپوش ماسٹر مائنڈ اور کمانڈروں کو پاکستان کے حوالے کرنے کے لئے دو ٹوک بات چےت کر کے آئے ہوں گے۔ آرمی چےف نے کہا کہ ہمےں اس سانحہ پر بہت افسوس ہے مگر دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو نئی بلندی ملی ہے۔ وحشی درندوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے تک ان کا پےچھا کرےں گے۔