تنازعہ کشمیر اور عالمی فیصلہ کار

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد
تنازعہ کشمیر اور عالمی فیصلہ کار

نام نہاد سیکولر بھارت کے انتخابات میں انتہا پسند جماعت کی کامیابی جس کا سربراہ ریکارڈ یافتہ بدنام زمانہ مسلم دشمن نریندر مودی کا بطور وزیراعظم کامیاب ہونا علامت ہے دنیا کے فیصلہ کار اس خطے میں خطرناک کھیل کھیلنا چاہتے ہیں، وہ بھارت کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ طرز سیاست کو عملی جامہ پہنانے کےلئے حالات کو سازگار بنانے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ بھارت نے دنیا بھر سے جنگی سازو سامان خرید کر اسلحے کے انبار لگا رکھے ہیں۔ امریکہ سے بھارت کا سول نیوکلیئر معاہدہ ہُوا تو پاکستان نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا جو اب تک تشنہ تکمیل ہے ۔مستقبل نامہ خبر دیتا ہے کہ ایک جانب بھارت کی یوم جمہوریہ 26 جنوری کو امریکی صدر باراک اوباما بھارت یاترا پر آ رہے ہیں قوی امکان ہے کہ اس دوران وسیع ترفوجی و تجارتی معاہدے طے پائیں گے اور بھارت کو خطے کی سب سے بڑی قوت تسلیم کرانے کے تمام حربے بروئے کار لائے جائیں گے۔ مگر اس سے قبل روسی صدر ولادی میر پیوٹن فوری طور پر ایک روزہ دور ے پر نئی دہلی بھارت پہنچے اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ روس بھارت میں بڑی اعلیٰ معیار اور مضبوط نوعیت کے بارہ ایٹمی ری ایکٹر لگانے کے علاوہ روس اور بھارت میں کھربوں ڈالر مالیت کے دفاعی اور تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ مذکورہ ایٹمی ری ایکٹر کے تمام پُرزہ جات بھی بھارت میں بنائے جانے کا باقاعدہ اہتمام کیاجائے گا۔ اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نے فخریہ انداز میں اعلان کیا کہ روس بدستور بھارت کا سب سے بڑا اور اہم دفاعی حصے دار ہے۔ صدر ولادی پیوٹن کے ہمراہ کریمیا کے وزیراعظم بھی تشریف لائے جنہوں نے بھارتی اعلیٰ تجارتی اداروں سے اربوں ڈالر کے کاروباری معاہدے کئے۔ روسی صدر بھارت میں ہونے والے انٹر نیشنل ڈائمنڈ کانفرنس میں شرکت کی جہاں روس کی جانب سے بھارت کے ہیروں کی برآمدات میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ بھارت اور روس کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ ہونے کے امکانات پر غور ہوا۔ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ روس کے تعاون سے بھارت میں جٹ فائٹر اور ٹرانسپورٹ طیارے بنانے میں بھی تعاون ہو گا۔ اگلے سال گجرات میں بہت بڑا انڈسٹریل پلانٹ لگایا جا رہا ہے۔ اسی نوعیت اور مقدار کی امداد اور معاہدے کرنے امریکی صدر بھی آ رہے ہیں۔ ایسی ترجیحی صورتحال میں بھارت پاکستان جیسے چھوٹے ہمسایہ سے برابری کا طرز عمل کیونکر اختیار کر سکتا ہے جبکہ موجودہ حکومت کا دھرم اکھنڈ بھارت اور مہا بھارت ہو۔ بین الاقوامی تجزیہ نگار خطے میں نمودار ہونے والی سنگینی کو بڑی شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔لہٰذا پہلے عوامی جمہوریہ چین اور پھر نیپال کے سربراہان نے پاک بھارت تعلقات کشیدگی کے حوالے سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں جس کا بھارت کی جانب سے حوصلہ افزا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ حد تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب بانکی مون نے اس ضمن میں اپنی خدمات پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ جناب سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر بھارت اور پاکستان دونوں چاہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے دونوں ممالک میں بطور ثالث فرائض سرانجام دے سکتا ہوں۔ بانکی مون نے کہا کہ دونوں ایٹمی ممالک کو کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا چاہئے۔ انہوں نے واضح کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیر عوام کی شمولیت کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں۔ دوسری جانب بھارت کی انتہا پسند حکومت کا رویہ سابقہ بھارتی حکمرانوں سے زیادہ جارحانہ اور توسیع پسندانہ ہے۔ ایک طرف کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل کر کے اسے بھارت میں شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں دوسری جانب کنٹرول لائن پر مسلسل خلاف ورزیوں کا نہ ختم ہونے والا معاملہ چل رہا ہے جس سے اقوام متحدہ کی قرار دادیں متاثر ہونے کی پرواہ ہے نہ ہی عالمی براداری کے ردعمل کا خوف ہے ۔ وادی کشمیر کے عوام میں اس تبدیلی کے حوالے سے شدید تشویش اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے بھارت کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ہر سطح پر اپنے کشمیر بھائیوں کی امداد جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ امور خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے اپنے پالیسی بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کی پاک بھارت تنازعات پر ثالثی کی پیشکش کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان اصل اور بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے جس کے حل کے بغیر پورے خطے کے امن اور خوشحالی کا تصور محال اور ناممکن ہے۔ بھارتی ہٹ دھرمی کی انتہا یہ ہے کہ پلڈاٹ کے پروگرام کے تحت پاکستانی پارلیمنٹ کے ارکان کا وفد جو آج کل بھارت کے دورے پر ہے کئی روز کوششوں کے باوجود بھارتی راجیہ سبھا کے سپیکر سے ملاقات کرنے میں ناکام رہا۔ کشمیر میں ہونے والے ڈھونگ انتخابات کا کشمیریوں نے سابقہ روایات کے عین مطابق مجموعی بائیکاٹ کئے رکھا۔ یہ انتخابات کئی مرحلوں پر مشتمل منعقد ہوا کرتے ہیں۔ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا ریلیف پیکج کی آڑ میں ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر غیور کشمیری لاکھوں شہیدوں کی روح سے غداری نہیں کر سکتے۔ ہم نے مکمل بائیکاٹ کے علاوہ ہر مرحلے پر ہڑتال بھی کر دکھائی۔ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف ایک خالصہ تنظیم نے امرتسر میں احتجاجی ریلی نکالی جس میں بھارتی فوج کے پنجاب اور کشمیر کے علاوہ پورے بھارت میں مسلمانوں اور سکھوں اور دیگر اقلیتی اقوام کے ساتھ ہتک آمیز اور جبری سلوک پر احتجاج کیا۔ علاوہ ازیں دوسرے علاقوں میں بھی بھارتی اور جنتا پارٹی کے سخت گیر رویوں کے خلاف عوام میں بے زاری عام دکھائی دیتی ہے کیونکہ وزیراعظم بھارت نریندر مودی کا واشگاف کہنا ہے کہ ہم نے انتخابات ہندو ازم پر جیتے ہیں۔ قارئین کرام! ہمارے اکابرین اور دانشور وں کو صرف سوچنا ہی نہیں بلکہ قوم کی رہنمائی کرنی ہوگی کہ بھارت کی امن کی آشا ایک ڈھونگ ہے ۔ حیدر آباد دکن، کشمیر، ماناودر، جونا گڑھ اور بعد میں سیاہ چین اور سرکریک پر قبضہ جما کر امن کی آشا کا درس دے رہے ہیں۔ ہمیں بھارت سے مذاکرات شروع کرنے چاہئیں مگر اپنی بقا اور استحکام کےلئے داخلی خارجی اور عسکری سطح پر ہر دم ہر قدم تیار ہوشیار رہنا ہو گا۔