بہت رویا ہوں جب سے یہ خون دیکھا ہے....؟

کالم نگار  |  طاہر جمیل نورانی
بہت رویا ہوں جب سے یہ خون دیکھا ہے....؟

ہمارا دانشور طبقہ قوم کو سقوط ڈھاکہ پر تسلیاں دینے میں مصروف تھا۔ ”دھرنے والے“ اپنے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے کی پالیسی کو حتمی شکل دے رہے تھے اور وزیروں‘ مشیروںکو اپنے دفاعی اخباری بیانات سے فرصت نہیں مل پا رہی تھی کہ آناً فاناً پشاور میں قیامتِ صغریٰ ٹوٹ پڑی۔
کالم نویسی اور فیچر نگاری کے اپنے 28 سالہ کیریئر میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دوران تحریر کوشش کے باوجود آنکھ سے گرنے والے آنسوﺅں کو 3 مرتبہ اس کاغذ پر گرنے سے روک سکا جس پر ان سطور کا سلسلہ جاری تھا۔
پشاور کے کینٹ میں ”وارسک روڈ“ پر واقع آرمی پبلک سکول میں 7 مبینہ دہشت گردوں نے روسی ساخت کی رائفلوں AK-47‘ آسٹری ساخت کی STEYR اور روسی ساخت ہی کی RK-M مشین گن اورGRAND LANCHER RP-G7 کے وحشیانہ استعمال سے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 148 بچوں‘ مرد‘ خاتون ٹیچروں کو جس بے دردی سے شہید کیا‘ پاکستان میں اب تک ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں سب سے بڑا اور خوفناک واقعہ ہے جس نے مہذب دنیا کو بھی آنسو بہانے پر مجبور کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے وحشت پھیلانے کیلئے اس دن کا اس لئے انتخاب کیا کہ سکول میں زیرتعلیم جونیئر اور سینئر بچوں کو فوج کے ماہرین نے ”ابتدائی طبی امداد“ کیلئے بنیادی تربیت دینا تھی اور اس سلسلہ میں بچوں کو مین ہال میں جمع کیا گیا تھا تاکہ ان کے تربیتی پروگرام کو مکمل کیا جا سکے۔ اسی دوران سکول کے عقبی حصے میں مبینہ طورپر ایک ”کیری موٹر“ آکر رکی جس میں سے 7 یا 8 افراد انتہائی مہارت سے باہر نکلے اور سکول کے اندر اندھاندھند فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور یوں انہوں نے اپنی پوزیشنیں سنبھال کر بچوں کو خاک و خون میں نہلانا شروع کر دیا۔ وہ معصوم بچے جن کی ماﺅں نے انہیں صبح بوسہ دیکر سکول بھیجا‘ وہ بچے جنہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کل کو ”سیکنڈ لیفٹیننٹ“ ”پائلٹ آفیسر“ ”فلائٹ لیفٹیننٹ“ ”پیٹی آفیسر“ ”ایوی ایشن“ اور ”عسکری کمانڈوز“ کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے اپنے ملک و قوم کی حفاظت کرنا تھی‘ وہ معصوم بچے جن کی سکول سے گھر واپسی کیلئے ان کے والدین شدت سے منتظر تھے‘ وحشی دہشت گردوں نے پل بھر میں شہید کر دیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا سانحہ تھا جس کا کئی منٹ تک اندازہ ہی نہ ہو سکا کہ آرمی پبلک سکول کے اندر یہ دہشت گرد کس مہارت اور پھرتی سے کیسے داخل ہوگئے۔ دہشت گردوں نے مبینہ طورپر ایف سی کا یونیفارم پہن رکھا تھا جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق سکول میں عقبی دروازے سے داخل ہونے والے دہشت گردوں نے یہ تمام کام اتنی پھرتی اور مہارت سے کیا کہ سکول کی سکیورٹی کو جوابی فائرنگ میں وقت لگا۔ اپنے آپ کو مُردہ ظاہر کرنے والے ایک طالبعلم نے جس نے چھپ کر جان بچائی‘ دہشت گردوں کا حلیہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لمبی داڑھیاں رکھی ہوئی تھیں اور آپس میں عربی بول چال کرتے پائے گئے تھے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پونے تین سو کے قریب بچے زخمی ہو چکے ہیں۔ یہاں پر پاک فوج کو پھر سیلوٹ کرنا پڑے گا جنہوں نے ان دہشت گردوں کا فوراً صفایا کر دیا۔ میرے ذرائع کے مطابق 11 کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہدایت اللہ خان کو آرمی سکول پر حملے کی جب اطلاع پہنچی تو انہوں نے فوراً ہی اسی آپریشن کی کارروائی خود سنبھال لی۔ افواج پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف جو اس وقت کوئٹہ کے دورے پر تھے‘ دہشت گردی کے اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی وہ پشاور کیلئے روانہ ہو گئے۔ اس طرح وزیراعظم محمد نوازشریف‘ گورنر اور‘ وزیراعلیٰ خیر پی کے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان فوراً پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زخمی بچوں کی عیادت کیلئے پہنچ گئے۔ غمزدہ خاندانوں پر اب کیا گزر رہی ہے‘ ان معصوم کلیوں اور پھولوں کو لحد میں اتارتے ہوئے کیا سماں ہوگا۔ ملک و قوم پر آئے اس بھاری وقت کا مقابلہ جاری رکھنے کیلئے ہمارے ”سیاستدان“ کو اب کونسا نیا لائحہ عمل تیار کرنا ہے‘ سکیورٹی انتظامات پر پھر سے سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں‘ ایسے سوالات ہیں جن پر حکومت کو اب جمع خرچ کے بجائے ہر حال میں جواب دینا ہوگا۔سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر انسان دوستی کے حوالے سے ہماری حکومت اور قوم کو پاکستان میں امریکی سفیر کے اس جذبہ انسانی ہمدردی کو جس نے سب سے پہلے زخمی بچوں کیلئے خون کا عطیہ دیا‘ سلام پیش کرنا پڑے گا۔دہشت گردی کے اس سانحہ پر یوں تو دنیا بھر میں پاکستانی قوم سے اظہاریکجہتی کیا گیا مگر برطانوی حکومت اور برطانوی اخبارات سمیت برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس سانحہ کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والوں نے حیوانیت کا ثبوت دیا ہے جن کا بنیادی مقصد ان جاں بحق ہونے والے بچوں کو تعلیم سے روکنا تھا۔سانحہ پشاور پر اظہارخیال کرتے ہوئے پرنس آف ویلیز کا کہنا تھا کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والوں کی اس بیمار ذہنی کیفیت سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ان دہشت گردوں میں قوت برداشت نام کی کوئی شے موجود نہیں تھی۔ دیگر سیاسی پارٹیوںکے رہنماﺅں ڈپٹی وزیراعظم ”نک کلیگ“ لیبر پارٹی کے لیڈر ایڈملی بینڈ‘ فارن کامن ویلتھ کی سابق وزیر بیرونس سعیدہ وارثی‘ یورپی پارلیمنٹ کے رکن ڈاکٹر ساجد کریم اور برطانیہ بھر کی کمیونٹی نے معصوم بچوں پر دہشت گردوں کے وحشیانہ حملہ کی بھرپور مذمت کی ہے۔ برطانیہ کے ڈیلی اخبارات نے اس سانحہ پر خصوصی اداریئے لکھے ہیں مگر بیشتر اخبارات کا کہنا ہے کہ حکومت کو دہشت گردی کے بارے میں اب ٹھوس بنیادوں پر اپنی پالیسی مرتب کرنا ہوگی کیونکہ دہشت گردی کو پوری شدت سے کچلنا اب حکومت کی اولین ذمہ داری ہوگی۔