”عذر گناہ“ عطاءالحق قاسمی کی وضاحت

مکرم و محترم مجید نظامی صاحب
آج 20 اگست (ہفتہ) کے نوائے وقت میں ادارتی صفحہ پر برادرم سعید آسی کا مضمون بعنوان ”عذر گناہ؟“ نظر سے گزرا سعید آسی میرے لئے بہت محترم ہیں کہ وہ بہت اچھے شاعر اور کالم نگار ہی نہیں‘ بہت اچھے انسان بھی ہیں۔ میری ان سے بہت پرانی یاد اللہ ہے۔ تاہم یہ خط میں آپ کے نام لکھ رہا ہوں کہ مجھے منصور کے پردے میں خدا بولتا نظر آیا ہے‘ مجھے اور میاں صاحب کو اس مضمون میں اکھنڈ بھارتی اور دوسرے لفظوں میں غدار کہا گیا ہے۔ کیونکہ میرے نزدیک جو اکھنڈ بھارت کا حامی ہے وہ پاکستان کا غدار ہے اصولاً مجھے اس دشنام طرازی کے جواب میں خاموش رہنا چاہئے کہ میاں صاحب آپکے ”بھتیجے“ ہیں اور میں 35 سال تک نوائے وقت میں آپ کے زیر تربیت رہا ہوں چنانچہ آج میں یا میاں صاحب جو کچھ بھی ہیں‘ آپ کے فیضان محبت ہی کا نتیجہ ہیں تاہم یہ سطور اس لئے لکھ رہا ہوں کہ نوائے وقت کے قارئین میرے دوست ہیں وہ میرے کالم کے آج بھی قاری ہیں اور جب کبھی ان سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ بہت محبت سے ملتے ہیں‘ سو یہ سطور دراصل ان کے لئے ہیں کیونکہ متذکرہ مضمون میں میرے کالم کا کوئی اقتباس نہیں پیش کیا گیا اور من گھڑت الزامات عائد کر کے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے سامنے اصل صورت حال واضح کی جائے تاکہ وہ جان سکیں کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں ہے؟
میاں نواز شریف صاحب نے ”سیفما“ کے اجلاس میں جو تقریر کی‘ میں نے اس پر ”میاں نواز شریف“ سری پائے اور ”بھولا ڈنگر“ کے عنوان سے ”جنگ“ میں ایک کالم لکھا تھا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے متذکرہ مضمون میں مجھے ”مفاداتی مدح سرا“ ”رطب اللسان کالم نگار“ اور ”کٹ حجت“ قرار دینے کے علاوہ میری تحریر کو فاضل مضمون نگار نے ”جوہڑ“ قرار دیا اس کے علاوہ بھی مجھے بہت سے خطابات سے نوازا گیا۔ مجھ پہ جو فرد جرم عائد کی گئی وہ یہ تھی کہ میں نے اپنے کالم میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ثقافت ایک ہے‘ ان کی زبان‘ رہن سہن اور کھانے پینے کی عادات ایک سی ہیں۔ الزام آپ نے پڑھ لیا اب جو میں نے لکھا تھا اور جو کالم میں چھپا تھا وہ یہ تھا ”میرا نقطہ نظر بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ نہ ہماری زباں ایک ہے‘ نہ ثقافت ایک ہے نہ رہن سہن ایک ہے اور نہ کھانا پینا ایک ہے البتہ ان میں مماثلتیں ضرور پائی جاتی ہیں“ محترم نظامی صاحب اب آپ بتائیں یہ کہاں کی صحافت ہے اور کہاں کی دیانت ہے؟ مجھ پر دوسرا الزام سکھ مذہب کے بانی گورونانک کے حوالے سے عائد کیا گیا جس کا مضمون یہ تھا کہ میں نے انہیں مسلمان قرار دیا چنانچہ ان کے کافر ہونے کے حوالے سے بہت سی دلیلیں پیش کی گئیں بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ سکھ مذہب بھی دراصل قادیانیت ہی کی طرح کا ایک فتنہ ہے۔ اب جو میں نے لکھا تھا وہ بھی پڑھ لیجئے ”ہندو¶ں کے برعکس سکھ بھی ہماری طرح ایک رب کو مانتے ہیں“ وہ بت پرستی نہیں کرتے اگر ایسا ہوتا تو حضرت میاں میرؒ گولڈن ٹمپل کی بنیاد کبھی نہ رکھتے چنانچہ اقبال نے ”بانگ درا“ میں بابا گورونانک پر لکھی ایک نظم میں انہیں ان لفظوں میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
پھر صدا توحید کی آخر اٹھی پنجاب سے
ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
محترم نظامی صاحب! الزام اور اس کی اصل حقیقت آپ نے ملاحظہ فرمائی اب مجھے یہ بتا دیجئے کہ نوائے وقت‘ اقبالؒ اور حضرت میاں میرؒ سے زیادہ فہم دین رکھتا ہے؟ مضمون ہذا میں بابا گورونانک کو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
حالانکہ وہ ہندو¶ں کے لئے تو مرزا صاحب ثابت ہوئے ہوں گے ہم مسلمانوں کے لئے نہیں! مضمون میں یہ بھی نصیحت کی گئی ہے ”خدارا بھارت نوازی اور سکھ نوازی کے شوق میں ان مسلمان خاندانوں کے زخم ہرے نہ کریں جو انہی سکھوں کے ڈسے ہوئے ہیں۔“ ان سکھوں اور ہندو¶ں کے تو دراصل ہم امرتسر سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے ڈسے ہوئے ہیں آپ کو ہجرت کے راستے میں پیش آنے والے دکھ نہیں اٹھانا پڑے کیونکہ آپ پہلے سے پاکستان کے رہائشی تھے لیکن آپ کے مضمون نگار کی طرف سے ہم قربانیاں دینے والوں کے سینوں پر جو تمغہ سجایا گیا ہے میں اس کے لئے ادارے کا ممنون ہوں۔
آپ کے ادارے کے معزز رکن کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ میں نے انڈیا کے ساتھ بہتر تعلقات کی بات کیوں کی؟ عرض یہ ہے میں ہندوستان کی پاکستان دشمنی بھولا نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں انہیں آج بھی پاکستان کا وجود کھٹکتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ محاذ آرائی کی پوزیشن میں ہیں بھی کہ نہیں۔ انڈیا میں قدم رکھتے ہی جب ہماری کرنسی کی ویلیو انڈین کرنسی کے مقابلے میں آدھی رہ جاتی ہے اور ان کی بے پناہ اقتصادی ترقی کے علاوہ ان کے تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں کام کرتے نظر آتے ہیں اور اس کے بعد نظر اپنی اقتصادی بدحالی‘ دہشت گردی‘ لاقانونیت اور ایک زوال پذیر معاشرے کی تمام علامتوں کی موجودگی کی طرف اٹھتی ہے تو دل سے ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ کیا ان حالات میں بہتر نہیں کہ ہم اپنی تمام تر توجہ پاکستان کی اقتصادی ترقی پر مرکوز کر دیں۔ مذہب کے نام پر خون خرابہ کا سلسلہ ختم کرنے کی طرف توجہ دیں عوام میں جذبہ حب الوطنی پیدا کریں اور اس کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر اور عالمی پلیٹ فارموں سے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرتے رہیں‘ کشمیر کے لئے ہم تین جنگیں لڑ چکے ہیں لیکن اسکے نتیجے میں حاصل تو کچھ نہ ہوا‘ ہم الٹا مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری طرف چین کی حکمت عملی دیکھیں وہ ہانگ کانگ پر اپنے دعوے سے دستبردار نہیں ہوا اس نے اپنی اقتصادی ترقی کی طرف توجہ دی اور بالآخر ہانگ کانگ اسکی جھولی میں آگرا۔ اسی طرح چین تائیوان کو بھی اپنا حصہ قرار دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ تجارت بھی کرتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ ایک دن تائیوان بھی اس کی جھولی میں آگرے گا۔ ہمیں بھی اس وقت ایسی ہی حکمت عملی اپنانا چاہئے‘ آپ اسے میری بزدلی اور مصلحت اندیشی کہہ لیں کہ میں آپ کی طرح اپنی کمر کے ساتھ ایٹم بم باندھ کر انڈیا پر گرنے کی بات نہیں کر سکتا کیونکہ ایک تو لاکھوں انسانوں کو مارنے کے تصور ہی سے میں لرز جاتا ہوں اور دوسرے اس لئے کہ ایٹم بم نابینا ہوتا ہے۔ انڈیا میں 18 کروڑ مسلمان بھی رہتے ہیں سو وہ جب گرے گا تو دوسرے مذاہب کے بے گناہ شہریوں کے علاوہ مسلمان بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ لہٰذا میری درخواست ہے کہ خدارا آپ اپنی اس خواہش کو فی الحال عملی جامہ نہ پہنائیں مجھے دوسرے لاکھوں لوگوں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ آپ کی زندگی عزیز ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عمر خضر عطا فرمائے۔
چند برس پیشتر میں لدھیانہ کے ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے گیا۔ اس سے پہلے تقریب کے منتظمین نے میرے لئے ساحر لدھیانوی ایوارڈ کا اعلان کیا جو میرے لئے باعث اعزاز تھا کیونکہ میں ساحر کی شاعری کا بہت مداح ہوں‘ میں نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان موجود تنازعات کا حل تلاش کرنے پر زور دیا اور کہا کہ برصغیر میں ترقی امن اور بھائی چارے کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔ تقریب کے اختتام پر پنجاب کی وزیر ثقافت نے جو ایک خاتون تھیں‘ مجھے ان کا نام یاد نہیں‘ روسٹرم پر آکر اکھنڈ بھارت کا پاٹ کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ پاکستان کو ہندوستان میں ضم ہو جانا چاہئے۔ میں اس وقت سٹیج پر بیٹھا تھا اور میرے سامنے ایک ہزار بھارتیوں کا مجمع تھا۔ وزیر ثقافت کی یہ بات سن کر غصے سے میرا چہرہ سرخ ہو گیا اور میں نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے باآواز بلند ”لاحول ولاقوة“ کہا بلکہ جونہی موصوفہ تقریر ختم کرکے اپنی نشست کی طرف آئیں۔ میں تیزی سے روسٹرم کی طرف گیا اور مائیک ہاتھ میں لے کر موصوفہ کی ایسی کی تیسی کر دی‘ میں نے کہا محترمہ آپ جیسے لوگ ہیں جو امن کے دشمن ہیں اور آپ جیسے لوگ ہیں جن کی وجہ سے ہم پاکستانیوں کو یقین ہے کہ آپ نے ہمارے وجود کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔ ہندوستانی اخبارات سے یہ خبر پاکستانی اخبارات میں نقل ہوئی تو آپ کے ”سرراہے“ نگار نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ قاسمی صاحب نے بھارتیوں کے مجمع میں یہ بات اس لئے کہی کہ انہوں نے واپس پاکستان بھی تو آنا تھا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون‘ محترم نظامی صاحب جو شخص بادل نخواستہ ادارہ نوائے وقت چھوڑنے پر مجبور ہو جائے تو کیا وہ دائرہ حب الوطنی سے بھی خارج ہو جاتا ہے اور اگر خارج ہو جاتا ہے تو میں تو ابھی تک آپ کی دعوت پر آپ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے یوم اقبال میں باقاعدگی سے شرکت کر رہا ہوں اگر آپ ایسا نہیں سمجھتے تو براہ کرم آپ آئندہ کسی اکھنڈ بھارتی کو اس تقریب میں مدعو نہ کریں۔ میں نے اپنی زندگی کے بہترین 35 سال نوائے وقت کو دئیے اور اب گذشتہ دس برس سے ”جنگ“ سے وابستہ ہوں۔ اس کا مالک اپنی حب الوطنی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتا لیکن سالہا سال سے پاکستان اور جمہوریت کے استحکام کے لئے حکمران طبقوں کے خلاف برسر پیکار ہے اور اب تک اربوں روپے کا نقصان برداشت کر چکا ہے‘ چلتے چلتے ایک اور گزارش‘ ادارہ نوائے وقت کے فاضل رکن سے کہیں کہ وہ آئندہ نوائے وقت کا دفاع کرتے ہوئے ”نظریہ پاکستان کو کسی کی دکانداری سمجھنے والے مجہول کو علم ہونا چاہئے کہ یہ دکان تو خود قائداعظم نے ان کے بہترین فائدے کی خاطر سجائی تھی۔“ اس قسم کے جملے نہ لکھیں کہ اس سے قاری کا دھیان خواہ مخواہ معاملے کے اس پہلو کی طرف بھی چلا جاتا ہے۔ میں آپکی جمہوریت پسندی کے دعو¶ں پر یقین کرتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ آپ میری ان گزارشات کو اپنے موقر اخبار میں اسی صفحہ پر جگہ دیں گے۔ جس صفحہ پر آپ کے مضمون نگار نے مجھ سے من گھڑت باتیں منسوب کی تھیں اور یہ گزارشات نوائے وقت کے تمام ایڈیشنوں میں اسی طرح شائع ہوں گی جس طرح میرے دوست کے الزامات شائع ہوئے ہیں۔
وما علینا الاالبلاغ۔