ہندوستان سے دوستی کیونکر ممکن ہے ؟........(۱)

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم

سیفما پرانے کمیونسٹ دانشوروں اور صحافیوں کی ایسی تنظیم ہے جسکے بانی اراکین ستر کی دہائی سے یہ خواب دیکھتے چلے آ رہے تھے کہ روس کی ریڈ آرمی کی پاکستان پر یلغار ہو گی اور وہ پاکستان کے کمیونسٹوں کے حوالے پاکستان کے اقتدار پرقابض ہوگی اور وہ پھر ایک ایسی سوشلسٹ ریاست قائم کرینگے جہاں تمام لوگ محنت کش ہونگے اور اس جنت ارضی میں تمام لوگ اپنی صلاحیت اور قابلیت سے ملک کی پیداوار بڑھائیں گے مگر اس میں سے اپنا حصہ بقدر ضرورت وصول کرینگے اور ہر شے ریاست کی ملکیت ہو گی اور لوگ ریاست کو اپنی ماں جائی دھرتی سمجھتے ہوئے اجتماعی اشتراکیت کے فلسفے کی بنیاد پر اوپن معاشرے میں سُکھ، امن اور چین سے زندگی بسر کرینگے مگر جسے کہتے ہیں کہ Man Purposes, God disposes ۔ گورباچوف نے جہاں سوویت یونین کا شیرازہ بکھیر دیا اور امریکہ نے پاکستان کی مدد سے افغانستان میں ہی ریڈ آرمی کی گرم پانیوں تک پہنچنے کی خواہش کو کچل دیا اِس کے بعدپاکستان کے دائیں بازو کے دانشوروں نے بیورو کریسی، میڈیا اور سیاست کے اُس دھارے میں شامل ہونا شروع کر دیا جس کے خلاف وہ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پہلے انقلابی سوچ رکھتے تھے اور وہ کمیونسٹ پارٹی کے ذریعے سوشلزم کے فلسفے کی بنیاد پر مذہبی پابندیوں سے آزاد پرولتاری حکومت قائم کرنے کے لئے پُرعزم تھے مگر 1988ءمیں روس اور مشرقی یورپ کی ریاستوں میں سوشلزم کا غیر فطری نظام ستر برس کے جبر کے بعد ختم ہو گیا۔ چین نے بھی منڈی کی معیشت کا نظام اختیار کر لیا تو پھر ہمارے پاکستانی کمیونسٹوں نے ترقی پسند تحریک کی بجائے ہندوستان اور پاکستان کے تمام انسانوں کو ایک ہی دھرتی کا بیٹا اور ایک ہی ثقافت کا علمبردار قرار دے کر اور چند صحافیوں، شاعروں اور فلمی اداکارا¶ں کے ایک دوسرے ملک میں خیرسگالی کے دورے اور واہگہ بارڈر پر میلوں ٹھیلوں اور مشترکہ کھانوں کے انعقاد سے دو قومی نظریے کی روح اور اساس کو ختم کرنے کی مذموم کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں مگر خدا خیر کرے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی مسلم لیگ کے پیروکار میاں نواز شریف قوم پرستی کی آڑ میں چھپے ہوئے کمیونسٹوں اور سیکولرز کی زبان کیسے بولنے لگ گئے ہیں۔ سیفما کے پہلے پروگرام میں وہ پاکستان کی فوج پر خوب برسے اور اب پاکستان کے یوم آزادی سے دو روز قبل وہ پھر امتیاز عالم کی لائن کو ٹوہ کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ محبت اور پیار کی پینگیں بڑھانے کی باتیں کر کے پاکستان کے راسخ العقیدہ مسلمانوں اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کی بدولت معرض وجود آنےوالے پاکستان کی بنیادی اساس کو کیوں ہلانا چاہتے ہیں۔ ہمارے کمیونسٹوں ، ترقی پسندوں، قوم پرستوں اور سیکولر حضرات کی ایسی باتیں تو ہم سب کی سمجھ میں آتی ہیں مگر میاں نواز شریف اگر یہ کہیں کہ ہماری اور بھارت کی ثقافت ایک ہے صرف لکیر کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے، بھارت کے ہندو¶ں اور پاکستان کے مسلمانوں کا خدا ایک ہے اور انہیں اپنا آبائی قصبہ جاتی عمرہ (امرتسر) بہت یاد آتا ہے۔ ان ریمارکس نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی صاحب کو کس قدر افسردہ اور دلگیر کر دیا ہے اس کا اندازہ 65ویں یوم آزادی کے موقع پر انکے خطاب سے کیا جا سکتا ہے۔ ”آج خوشی کا دن ہے لیکن میں بے حد اداس ہوں کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے سیفما کے ایک فنکشن میں ایسی باتیں کہی ہیں جن کی اُن سے توقع نہیں تھی۔ میں کہتا ہوں ہندو¶ں اور مسلمانوں کا ایک خدا کیسے ہو سکتا ہے وہ بُتوں کی پوجا کرتے ہیں جبکہ ہم ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح انداز میں یہ بات ہزاروں مرتبہ کی ہے جو ہر پاکستانی مسلمان کے دل کی آواز ہے کہ پاکستان اسلام اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ یہ جو کچھ ہے اور ہمیں جو آزادی ملی ہے نبی پاک کے صدقے اور خاکِ پا کی بدولت ہے۔ نواز شریف جاتی عمرہ (امرتسر) تشریف لے جائیں اور پھر دیکھیں کہ یہاں کے جاتی عمرہ اور امرتسر کے جاتی عمرہ میں کیا فرق ہے میں سوچ رہا ہوں کہ کیا میں آج ایسی باتیں سُننے کےلئے زندہ ہوں، میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ نواز شریف نے ایسی باتیں کی ہیں۔“
سیانے سچ کہتے ہیں کہ ”پہلے تولو پھر بولو“ میاں نواز شریف کے دل میں مشرف ٹولے کےلئے شدید رنجش ہے انہیں ایسا کرنے کا ذاتی حق ہے اگر کارگل کا مس ایڈونچر کرنے والے مشرف، محمود، عزیز اور اورکزئی جیسے سابق جرنیلوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اس میں واجپائی اور ہندوستان کے م¶قف کو درست قرار دینا قومی مفاد کے منافی ہے جناب نواز شریف۔ قارئین میرے سامنے معروف صحافی اور محب وطن انسان راجہ جاوید علی بھٹی کی ہندوستان کے مکروہ عزائم کو بے نقاب کرنے والی مستند دستاویزاتی تحقیقاتی رپورٹس اور اعداد و شمار کے حوالے سے شائع شدہ کتاب ”جس دیس میں گنگا بہتی ہے“ پڑی ہے، چند نمایاں اقتباسات کے حوالے سے نامور شخصیات کے تبصرے ان افراد کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں جو میاں نواز شریف کی طرح سیفما کے دانشوروں کے ٹرانس (Traunce) میں آ کر ہندوستان کی محبت میں سرشاری کے گیت گا رہے ہیں۔(جاری ہے)
راجہ جاوید علی بھٹی لکھتے ہیں :
(i) آج کل ایک سازش کے تحت پاک بھارت مشترکہ ثقافت کی باتیں کی جا رہی ہیں حالانکہ بدر کے میدان میں دو قومی نظریہ ہی تھا جس کے تحت توحید و رسالت کی بنیاد پر باپ بیٹا اور بھائی بھائی آمنے سامنے تھے، سماجی تضادات پر مبنی بھارت کا ہندو دھرم انسانی سماجی ناہمواریوں، عدم مساوات، تقسیم اور تفریق حتیٰ کہ اچھوتوں کے تصور پر مبنی ہے جبکہ اسلام میں تمام انسان برابر ہیں ماسوائے تقویٰ کی بنیاد پر کسی کو اولیت ملے۔ مشترکہ ثقافت کی قلعی اسی وقت کھل جائے گی جب آپ اپنے ہندو دوستوں کو گائے کے کباب کھانے کی دعوت دیں گے۔
(ii) 2007ءمیں راجہ صاحب کو جنوبی ایشیائی پالیسی فورم کے تحت ”ایک نئے جنوبی ایشیا کا تصور“ کانفرنس میں شرکت کے لئے دلی جانے کا اتفاق ہوا، ان کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کیا گیا انہی کی زبانی سُنتے ہیں۔ سیشن کے اختتام پر شام کو عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ میں ذرا تاخیر سے پہنچا تو تمام میزوں پر مہمان براجمان ہو چکے تھے، ایک کونے میں ایک میز پر ایک مرد اور خاتون بیٹھے تھے اور اتفاق سے ان کے ساتھ ایک کرسی خالی تھی میں نے اس میز کا رُخ کیا تو پتہ چلا دونوں میاں بیوی بھارت سرکار میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، میں نے جب پاکستانی ہونے کا تعارف کرایا تو دونوں نے مجھے انتہائی نفرت انگیز انداز میں دیکھا اور توہین آمیز انداز میں مجھ سے کوئی بات کئے بغیر وہ ٹیبل چھوڑ کر چلے گئے تو غیر متوقع طور پر پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان دوستی کے میرے اس جذبے کو شدید جھٹکا لگا جس کا راگ ہمارے ترقی پسند دوست سرحدوں کی لکیروں کو مٹانے کے سُر پر ہر وقت الاپتے رہتے ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پر میں قطب مینار دیکھنے گیا تو ایک بار پھر پاکستان اور ہندوستان کے عوام کی دوستی کے فروغ کے جذبے کو اجاگر کرنے کے جذبے کے تحت ایک ہندو عورت کے گول مٹول سے بچے کے ساتھ تصویر بنانی چاہی، پہلے تو عورت کوکوئی اعتراض نظر نہ آیا مگر جب میں نے بتایا کہ میں مسلمان ہوں اور پاکستان سے میرا تعلق ہے تو اس عورت نے ”پاکستانی مُسلے“ سے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بچہ برق رفتاری سے چھین لیا اور ایک بار پھر میرا پاک بھارت دوستی کا سپنا ٹوٹ گیا۔
(iii) بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں بھارتی مسلمانوں کے معاشرتی، معاشی اور تعلیمی حالات کے جائزے کے لئے ایک کمیٹی مرتب کی جس کی رپورٹ سے ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ رپورٹ 30 نومبر 2006ءکو بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ کمیٹی نے تجزیہ کیا کہ مسلمان تعلیم کے میدان میں بقایا ملک کے باشندوں کی اوسط سے نہایت نیچے ہیں۔ 6 تا 14 سال کی عمر کے 25 فیصد بچوں نے یا تو سکول کا منہ نہیں دیکھا یا سکول جا کر تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ مسلم بچوں کے لئے سرکاری سکولوں میں داخلہ کی گنجائش بہت کم ہے۔ شہری علاقوں میں بسنے والی مسلم آبادی کی اکثریت کے گھریلو اخراجات 500 روپے کی مد سے زیادہ نہیں ہے۔ بنک سے مسلم اقلیت کو دوسری اقلیتوں کی نسبت قرضوں کی اوسط دو تہائی سے بھی کم ہے۔ آئی اے ایس میں مسلم نمائندگی 3 فیصد، آئی ایف ایس میں 1.8 فیصد اور آئی پی ایس میں صرف 4 فیصد ہے۔ بھارتی ریلوے میں مسلم نمائندگی صرف ساڑھے چار فیصد ہے جس کا تقریباً 98.7 فیصد حصہ نچلے درجے کا ملازم ہے۔ پولیس کانسٹیبلوں میں مسلمانوں کا حصہ 6 فیصد، صحت کے شعبے میں 4.4 فیصد اور ٹرانسپورٹ میں 6.5 فیصد ہے جو انتہائی بُرے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔
(iv) بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات ہی نہیں بلکہ دینی غیرت اور حمیت پر بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مہاراشٹر میں دہشت گرد ہندو تنظیموں کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اس پر مسلمانوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے اُن پر گولیاں برسائیں اور مظاہرین کو ہی مجرم بنا کر نشان عبرت بنا دیا۔ اس کے علاوہ اگر کہیں بھی دہشت گردی یا بم دھماکوں کی واردات ہو جائے تو بغیر کسی ثبوت کے ہزاروں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ سنٹر فار ہیومن رائٹس اینڈ لا سے تعلق رکھنے والے وجے ہلمٹ ممبئی کی مختلف جیلوں میں کام کر رہے ہیں، ان کے مطابق ممبئی کی جیلوں میں تقریباً چالیس فیصد مسلمان قیدی ہیں۔ سنیئر صحافی پرفل بدوانی کا کہنا ہے کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان میں ساڑھے تیرہ فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ ہندوستان کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد چالیس فیصد سے زیادہ ہے۔
(v) کہتے ہیں کہ فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی ہے سانپوں کو خواہ کتنا ہی دودھ کیوں نہ پلایا جائے موقع ملتے ہی وہ ڈسنے سے باز نہیں آتے۔ ویسے سانپ کو ہندو¶ں میں دیوتا سمجھا جاتا ہے اس لئے ہندو¶ں میں مسلم دشمنی کا زہر زہریلے سانپوں سے بھی زیادہ ہے۔ ہندو¶ں کے ساتھ مفاہمت اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کے لئے اکبر بادشاہ نے اسلامی تعلیمات کی نفی کرتے ہوئے دین اکبری کے نام سے ایک نیا دین پیش کیا مگر بھارتی ہندو قیادت میں انتقام اور مسلم دشمنی کا یہ عالم ہے کہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے پر اندرا گاندھی نے نئی دہلی کے گرا¶نڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان کی ایک ناری نے مسلمانوں سے ہزار سالوں کی ہزیمتوں کا بدلہ لے لیا ہے اور دو قومی نظریہ بحیرہ عرب میں غرق کر دیا ہے اور آج اندرا گاندھی کا پوتا ورون گاندھی کہتا ہے ”ہندوستان صرف ہندو¶ں کا ہے مسلمانوں کے نام خوفناک ہیں مثلاً کریم اللہ، معاذ اللہ اور اگر یہ مسلمان رات کوآپ کو ملیں تو آپ ڈر جائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان بُرد کر دیا جائے۔“ اندرا گاندھی اور ورون گاندھی کی ہرزہ سرائی سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ دو قومی نظریہ ایک حقیقت تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ مسلمان ہندو¶ں سے الگ قوم ہے جس کا اپنا الگ دینی، نظریاتی روحانی اور تصوراتی تشخص ہے۔
قارئین آج پتہ نہیں میاں نواز شریف کی عینک سے یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہندو¶ں اور مسلمانوں کی تہذیب اور کلچر ایک ہے۔ آپ محبت کی بات کرتے ہیں مگر اندرا گاندھی کا پوتا ورون گاندھی اترپردیش میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ”گیتا کی قسم، بھارتی جنتا پارٹی مسلمانوں کے سر قلم کر دے گی۔“ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر اُسے کریمنل چارچز کا سامنا کرنا پڑے گا مگر ورون گاندھی نے مسلم دشمن تقریر پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا اور کہا ہے کہ اُسے ہندو ہونے پر فخر ہے اور ہندو قوم اس کی حمایت کرے۔
(vi) بھارت جس کے اصلی چہرے کو چھپانے کے لئے بھارتی قیادت نے دنیا کے سامنے دمکتے بھارت کا نعرہ لگایا اور اپنی اتھاہ میں گری ہوئی غلاظت کے کلچر کو بالی وڈ کے غازے تلے چھپانا چاہتا ہے وہاں 60 کروڑ افراد غربت کے معیار سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ بھارت سے متاثر سیفما کے اراکین اور میاں نواز شریف کی خدمت میں بی بی سی اردو آن لائن کی رپورٹ پیش خدمت ہے اور دمکتے بھارت کے سحر میں مبتلا لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے عبرت انگیز کہانی ہے۔
”ممبئی کے مضافاتی علاقے میرا روڈ کی رہائشی دو لڑکیوں نے اپنے باپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے خاندانی جوتشی نانترک کے ساتھ مل کر اُنہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکیوں کی ماں بھی انکو مجبور کرتی ہے کہ جو کچھ ان کا باپ اور نانترک کہہ رہے ہیں وہ ایسا کرتی رہیں اور زبان نہ کھولیں کیونکہ ایسا کرنے سے دیوتا¶ں کی کرپا سے ان کے کے گھر میں خوشحالی آئے گی۔ انسپکٹر مہاجن کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی میں ایسا کیس ہے جہاں باپ کے ساتھ سگی ماں بھی بیٹیوں کی عصمت دری میں شامل ہے۔
تہلکہ ڈاٹ کام کے مطابق بھارتی معاشرے میں غربت کے مارے والدین اور بھائیوں کے ہاتھوں جسم فروشی کے لئے روزانہ لاکھوں معصوم بچیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اس اتور فروخت کی گئی 17 سالہ ریتا کو ہر رات کم از کم پچاس مردوں کی جنسی ہوس کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
قارئین اس قدر خوفناک غربت، افلاس، بے حیائی اور بے غیرتی کے کلچر کی حفاظت کے لئے ہندوستان کے ارباب اقتدار ہر وقت اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ وہ دفاعی بجٹ کو بڑھاتے ہوئے اربوں ڈالرز کا اسلحہ خریدیں۔ حال ہی میں ہندوستان نے اسرائیل، روس، امریکہ اور برطانیہ سے 40 ارب ڈالرز کا اسلحہ خریدنے کے معاہدے کئے۔ کیا وہ یہ یہ سارا اسلحہ اس لئے خرید رہا ہے کہ اس کی مالدیپ، بنگلہ دیش، سری لنکا یا نیپال کے ساتھ کوئی دشمنی ہے، نہیں ایسا نہیں ہے اس کو ہر وقت پاکستان کا وجود کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور اوپر سے دو قومی نظریہ جس کی بنیاد پر ہندوستان نے پاکستان کو توڑا مگر بنگلہ دیش بھی اسلامی جمہوریہ بن گیا۔ ہم بے غیرت دشمن کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں وہ اپنی آبی جارحیت سے پاکستان کی زراعت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ بھارت پہلے ہی دریائے چناب سے پاکستان کے حصے کا دو لاکھ کیوسک پانی چوری کر چکا ہے۔ بھارت کا 2014 تک 40 سے زائد ان ڈیموں کی تعمیر کے بعد غیر قانونی طور پر دریائے چناب اور جہلم کے 90 فیصد پانی پر قبصہ ہو جائے گا جو کہ سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہو گا۔ سندھ طاس واٹر کمشن کے سابق سربراہ جماعت علی شاہ کا کہنا ہے بگلیہار ڈیم کو بھرنے کے بھارت نے معمول کے مطابق 55 ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کی بجائے صرف 38 ہزار کیوسک پانی فراہم کیا اور اس طرح ہمارا دور لاکھ ایکڑ فیٹ پانی چور کر لیا۔
پاکستان کو ریگستان بنانے پر تُلے ہوئے بھارت کے خلاف جب نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی سخت م¶قف اپناتے ہوئے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ان ڈیموں کو میزائلوں سے تباہ کر دینا چاہئے تو کمزور دل سیاستدانوں اور دانشوروں کے دل بیٹھ جاتے ہیں۔ محترم مجید نظامی کے م¶قف کو ڈاکٹر ماریہ سلطان ڈائریکٹر جنرل سا¶تھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹیٹوٹ (SASSI) کس طرح آگے بڑھاتی ہیں ”بھارت یاد رکھے کہ آبی جارحیت میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو پاکستان کا ایٹمی ڈاکٹرائن صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں ہے۔ اقتصادی ناکہ بندی، معاشی تباہی اور خشک سالی بھی پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ ہندوستان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایٹمی صلاحیت کے استعمال کے وقت کا تعین اور فیصلے کا تعلق محض سرحدی اور روایتی جنگ سے نہیں ہے ایٹمی تھریش ہولڈ وہ مقام فکر ہے جب آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت کا استعمال کرنا ہے یا نہیں۔ بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں اگر ایک طرف پاکستان کے دریا خشک ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ کولڈ وار اسٹارٹ کرتے ہیں تو پاکستان کی سلامتی کے لئے ہمیں یہ سب کچھ کر گزرنے کا حق حاصل ہو گا۔“
قارئین ہمارے سیاستدان ہندوستان کے ساتھ دوستی ضروری کریں مگر کم از کم کشمیر اور پانی کے مسئلے اور قوم کے تشخص کی قیمت پر نہیں ورنہ تاریخ میں مولانا ابوالکلام آزاد یا سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کا مقام پائیں گے جنہیں پاکستان ہندوستان میں کوئی بھی یاد نہیں کرتا ہے۔