(وضاحتی نوٹ)

محترم عطاءالحق قاسمی نے اپنے مراسلے میں جس محبت کے ساتھ میرا تذکرہ کیا ہے وہ ان کا بڑا پن ہے اور میرے دل میں بھی ان کے لئے احترام اور نیازمندی کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے جس کا تذکرہ میں نے اپنے کالم میں بھی کیا ہے۔ تاہم محترم کو میرے کالم کے حوالے سے شائد یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ میرا تخاطب صرف انہی کی ذات ہے۔ ان کی کسی تحریر سے میں اختلاف رائے کا حق تو رکھتا ہوں مگر اسے جوہڑ قرار دینے کی کبھی گستاخی نہیں کر سکتا، میرے کالم میں جوہڑ کا لفظ جس حضرت کے لئے استعمال ہوا یہ وہی صاحب ہیں جو مفاداتی مدح سرائی میں میاں نوازشریف کی ”سیفما“ والی تقریر کو ہی آج نظریہ پاکستان قرار دے رہے ہیں۔ گویا علامہ اقبال نے جو تصور پاکستان دیا جس پر قائداعظم نے عمل پیرا ہو کر حصول پاکستان کی منزل کو کامیابی سے ہمکنار کیا وہ ناقص تھا جسے میاں نوازشریف نے جوش خطابت میں یا کسی ایجنڈے کے تحت ناجی ساختہ اپنے نظریہ پاکستان کے ساتھ تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وہ مفاد پرست طبقات ہیں جو 12 اکتوبر 1999ءکو میاں نوازشریف پر افتاد ٹوٹنے کے بعد ان کے خلاف سلطانی گواہ بننے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے۔ جہاں تک محترم عطاءالحق قاسمی نے اپنے کالم پر میرے تبصرے کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے من گھڑت الزامات عائد کر کے نوائے وقت کے قارئین کو ان کے حوالے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے تو ان کا کالم بھی یہاں من و عن پیش کیا جا رہا ہے۔ قارئین خود فیصلہ کر لیں گے کہ میرا موقف درست ہے یا قاسمی صاحب درست فرما رہے ہیں۔ (سعید آسی)