میاں نوازشریف، سری پائے اور بھولا ڈنگر!

عطا الحق قاسمی
بھٹو مرحوم کی حکومت جب آخری دنوں پر تھی تو انہوں نے شراب پر پابندی کا اعلان کیا۔ ان کا خیال تھا کہ شراب پر پابندی اور اس نوع کے دوسرے اسلامی اقدامات سے”تحریک نظام مصطفی“ کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی لیکن”تحریک نظام مصطفی“ نظام مصطفی کے قیام کے لئے تو تھی نہیں اس کا مطمع نظر تو صرف بھٹو کو اقتدار سے محروم کرنا تھا، سو ان اعلانات سے تحریک کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ اس رات ایک اخبار کو پاکستانی فلموں کے ایک نامور ہیرو کا فون موصول ہوا جس کی آواز نشے کی شدت کی وجہ سے لڑکھڑا رہی تھی۔ اس نے نیوز ایڈیٹر سے کہا” بھٹو کے ساتھ ایک ہمی لوگ تو رہ رہے تھے، شراب پر پابندی کے بعد وہ ہمارے ووٹوں سے بھی گیا“ تین روز پیشتر میاں نواز شریف سیفماکی تقریب میں گئے تو وہ بہت خوشگوار موڈ میں تھے چنانچہ وہاں انہوں نے ہلکی پھلکی باتیں کیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ان کے بارے میں خواہ مخواہ مشہور کردیا گیا ہے کہ وہ سری پائے شوق سے کھاتے ہیں حالانکہ انہیں یہ ڈش پسند ہی نہیں ہے، بھولے ڈنگر نے یہ بیان اخبار میں پڑھا تو میرے پاس آیا وہ سخت غصے کی حالت میں تھا، اس نے کہا”میاں کو بتا دینا بھولا انہیں اب ووٹ نہیں دے گا“ میں نے پوچھا”کیوں بھولے، ایساانہوں نے کیا کہہ دیا“ بولا” مجھے تو میاں اس لئے پسند تھا کہ امیر کبیر ہونے کے باوجود اسے ابھی تک پاتھی گراو¿نڈ کی یادیں بھی عزیز ہیں وہ لسی پیتا ہے، قلچے کھاتا ہے، سری پائے کھاتا ہے، میرے جیسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر دکھ سکھ پھرولتا ہے اور یوں مجھے یہ شخص اپنا اپنا سا لگتا تھا لیکن اس نے برگر کھانے والے لوگوں کے سامنے سری پائے کی توہین کرکے ہم لوگوں سے اپنا تعلق توڑ لیا ہے“۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا” بھولے تمہارا غصہ بجا لیکن انہوں نے سری پاوے کی توہین کہاں کی ہے انہوں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ مجھے یہ ڈش پسند نہیں اور واقعی انہیں پسند نہیں، البتہ دوسرے کروڑوں پاکستانیوں کی طرح انہیں بھی دیسی کھانے پسند ہیں تو جیسے خالص عوام کے ساتھ ان کی دوستی بھی پہلے ہی کی طرح قائم ہے وہ ان سے ملنے ان کے گھر چلے جاتے ہیں یا انہیں اپنے ہاں بلالیتے ہیں“۔ اس پر بھولے نے پرنے سے اپنا پسینہ پونچھا پھر یہ پرنا کاندھے پر رکھتے ہوئے اپنی نشست سے اٹھا اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے کہا”لیکن میاں نے مجھے تو چھ ماہ سے یاد ہی نہیں کیا، وہاں سے تو فون کا جواب بھی نہیں آتا کبھی ملے تو اسے کہنا تمہارا دوست بھولا تم سے ناراض ہے“ اور پھر وہ اپنی آنکھیں پونچھتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی تو دیکھا ”مولوی عبدالودود کھڑے ہیں، وہ بھی ناراض تھے، آتے ہی بولے ” میاں صاحب نے یہ کیا کہہ دیاکہ ہندوو¿ں اور ہمارا خدا ایک ہے، ہماری ثقافت ایک ہے، ہماری زبان ایک ہے، بس درمیان میں صرف بارڈر ہے“ میں نے کہا ”مولانا میں نے اخبار میں ایک وضاحت پڑھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میاں صاحب نے یہ بات سامنے والی صف میں بیٹھے سکھوں سے کہی تھی کیونکہ ہندوو¿ں کے برعکس وہ بھی ہماری طرح ایک رب کو مانتے ہیں، وہ بت پرستی نہیں کرتے اگر ایسا ہوتا تو حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ گولڈن ٹمپل کی بنیاد کبھی نہ رکھتے، سکھ موحد ہیں، بابا گورو نانک نے تو اپنی زندگی میں دو حج بھی کئے تھے ،اقبال نے ”بانگ درا“ میں بابا گرونانک پر لکھی نظم میں انہیں ان لفظوں میں خراج عقیدت پیش کیا ہے
پھر صدا توحید کی آخر اٹھی پنجاب سے
ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
اس پر مولوی عبدالودود صاحب کی آنکھوں میں ایک چمک سی آئی اور بولے”چلیں یہ تو اچھی بات ہے لیکن ہماری زبان ،ہماری ثقافت ، ہمارا رہن سہن، ہمارا کھانا پینا ایک کیسے ہوگیا؟“ میں نے جواب دیا کہ” اس کی وضاحت خود میاں صاحب کی طرف سے اخبار میں شائع ہوئی ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا“مولوی صاحب نے پوچھا ”تاہم اس ضمن میں آپ کا اپنا نقطہ نظر کیا ہے؟“ میں نے عرض کی ”میرا نقطہ نظر بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ نہ ہماری زبان ایک ہے، نہ ثقافت ایک ہے ، نہ رہن سہن ایک ہے اور نہ کھانا پینا ایک ہے البتہ ان میں مماثلتیں ضرور پائی جاتی ہیں تاہم اس سے مطمع نظر وقت کی شدید ترین ضرورت ہے کہ ایک دوسرے کے قریب آیا جائے اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ویسے تعلقات قائم ہوں جیسے تعلقات قائد اعظم محمد علی جناح چاہتے تھے۔ ان کی تو خواہش تھی کہ وہ سال میں چند ہفتے بمبئی میں گزارا کریں“۔
مولوی صاحب کے جانے کے بعد میں نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا”ہم کیسے لوگ ہیں جس شخص کی پاکستان دوستی کے دوست اور دشمن بھی معترف ہیں اب ہم اسے بھی پاکستان دشمنوں کی صف میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے اس نوع کے فتوو¿ں سے ساری لیڈر شپ پہلے ہی لہو لہان ہوچکی ہے اب ہم کیا ثابت کرنا چاہئے ہیں کہ ان فتوو¿ں کی زد سے جو شخص بچا ہوا تھا وہ بھی دراصل انہی میں سے ہے“۔ہم پاکستانی عوام کو کیا یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تم جسے حب الوطن سمجھتے ہو وہ بھی محب وطن نہیں ہے۔ اس شخص کا ماضی اور حال سب ہمارے سامنے ہے۔ معترض بھی جانتے ہیں کہ یہ شخص پاکستان کا عاشق ہے اور دو قومی نظریئے کا دل سے قائل ہے لیکن کیا ہر معاملے میں سیاست واقعی اتنی ضروری ہے کہ پاکستان کے مفاد کو بھی پیش نظر نہ رکھا جائے اور الزامات سے دامن داغدار کردئیے جائیں؟ یا اللہ ہم پر رحم فرما!