سید عبدالحمید عدم کی زبان میں جواب عرض ہے؟

فاروق عالم انصاری
ڈاکٹر بابر اعوان پوچھ رہے ہیں کہ عدالتی فیصلے صرف پیپلز پارٹی کے خلاف ہی کیوں ہوئے ہیں۔ کچھ ایسا ہی اعتراض عدالت سے گیارہویں مرتبہ چوری چکاری کے مقدمات میں سزا پانے والے ایک مجرم کو بھی تھا۔ بیچاری عدالت کے پاس اس کاکوئی جواب نہیں تھا۔ ایک سوال یوسف رضا گیلانی سے بھی پوچھا گیا۔ انہوں نے جواب دیتے ہوئے صرف اپنے اڑوس پڑوس پر ہی نظر ڈالی۔ سوال تھا ملکی معاشی بدحالی کے بارے میں۔ جواب فرمایا ”ملک کی معاشی صورت حال بہت اچھی ہے، معیشت کی غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے آئندہ اس سے گریز برتا جائے۔“ وقائع نویس نے نہیں لکھا کہ جب موصوف یہ جواب دے رہے تھے تو ان کے سوٹ، نکٹائی اور جوتوں کا برانڈ کیا تھا۔ ان سب چیزوں کی قیمت کا ٹوٹل کیا تھا۔ پھر یہ ٹوٹل ہمارے ملک کے کسی سینئر کلرک کے کتنے سالوں کی تنخواہ کے برابر ہے۔ وزیراعظم گیلانی ملتان کے بڑے پیر جی کی درگاہ کے سجادہ نشین خاندان میں سے ہیں۔ اب وہ بیچارے کریں تو کیا کریں۔ کہنے کو ہمارے ہاں روحانیت کے بڑے چرچے ہیں لیکن فضیلت کی بنیاد مال اور اقتدار کے سوا کچھ نہیں۔ علم و دانش کی کوئی وقعت ہے اور نہ ہی خدمت اور خلوص کی۔ پھر نہ ہی سادگی اور انکساری کسی کھانے میں اختیار کی جاتی ہے۔ ایک بات اور بھی ہے ان کی بیگم صاحبہ کے کروڑوں کے قرضے معاف ہو گئے ہیں۔ ان کے بیٹوں کے پاس اب کئی بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔ عبدالقادر گیلانی کہہ رہے ہیں کہ یہ گاڑیاں انہوں نے اپنی زرعی آمدن سے خریدی ہیں تو درست ہی کہہ رہے ہیں۔ اللہ نے وزارت عظمیٰ کے ساتھ ہی ان کی زمینوں میں بڑی برکت ڈال دی ہے۔ اب ان کی بچی کھچی زمینیں محاورةً نہیں اصلی معنوں میں سونا اگل رہی ہیں۔ یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب پیپلز پارٹی نئی نئی اقتدار میں آئی تھی۔ فضا¶ں میں اسلامی سوشلزم کی گونج ابھی باقی تھی ایک جیالا جو پیدل سواری سے کار سواری تک پہنچ چکا تھا اس ایک غریب نے پوچھا کہ اسلامی سوشلزم کے کب تک آنے کا امکان ہے۔ جیالا ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ ”میرا سوشلزم تو کب کا آ چکا تم اپنے سوشلزم کا انتظار کرو۔“ معیشت بہتر ضرور ہوئی ہے لیکن صرف حکمران خاندان کی۔ دوسری بات یہ ہے کہ مشرقی پنجاب میں میاں برادران کے گا¶ں کا نام جاتی عمرہ تھا۔ لاہور کے نواح میں انہوں نے نیا جاتی عمرہ ضرور بنا لیا ہے لیکن شاید ابھی تک انہیں پاکستانی جاتی عمرہ میں ہندوستاتی جاتی عمرہ کی یاد ستاتی رہتی ہے۔ میاں نواز شریف نے سارک صحافیوں کی تنظیم سیفما کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ایک رب اور ایک کلچر کی بات کی۔ ”ہمسایہ ماں جایا“ کا ذکر کیا۔ کچھ اور بھی باتیں تھیں ہندوستان سے محبت و الفت کے رشتوں کی۔ جناب مجید نظامی نے فوراً انہیں ٹوک دیا ورنہ بات نجانے کہاں تک جا پہنچتی
ہم نے روکا حفیظ کو ورنہ
اور بھی کچھ لگے تھے فرمانے
میاں نواز شریف دانشور، شاعر، ادیب احمد ندیم قاسمی کی بھی رائے سُن لیں۔ شاید کے اُتر جائے ترے دل میں میری بات ”ہم برصغیر کی واحد تہذیب اور کلچر کے علمبرداروں کو بتائیں گے کہ ہم نے اپنی تہذیبی انفرادیت کے تحفظ و احیا¿ کے لئے ہی پاکستان حاصل کیا تھا، برصغیر کی واحد تہذیب کا پرچار دراصل نظریہ پاکستان کی مکمل نفی ہے“ ۔۔۔ ”تہذیبوں کے درمیان مماثلتیں کہاں نہیں ہیں مگر ہندوستانی دانشوروں کی طرف سے جو واحد تہذیب کا نعرہ مسلسل بلند ہو رہا ہے وہ فی الحقیقت ایک خطرناک سیاسی نعرہ ہے جو اصحاب اس نعرے سے متاثر ہوتے ہیں وہ کامل بے خبری میں ہندوستانی سیاست کے آلہ کار بنتے ہیں۔“ میاں نواز شریف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور ایک کامیاب کاروباری گھرانے کے فرد بھی۔ ان کے ”فرمودات“ میں ان کے کاروباری اغراض و مقاصد بھی نظر انداز نہیں کئے جا سکتے۔ ایک لطیفہ یاد آ گیا اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پڑھا جائے۔ ایک یہودی اپنے دشمن پر بندوق تانے کھڑا تھا۔ اس کی انگلی بندوق کی لبلبی پر تھی۔ وہ بندوق چلانے ہی والا تھا کہ نشانہ بنے آدمی کی یہودی پر نظر پڑ گئی تو وہ فوراً پکارا، سرکار! آپ نے یہ بندوق کتنے روپوں میں خریدی ہے۔ یہودی نے جھٹ سے بندوق کی قیمت دس ہزار روپے بتا دی۔ اس نے بندوق کی گیارہ ہزار روپے قیمت لگا دی۔ تھوڑے سے مول تول سے بارہ ہزار روپوں میں بندوق کا سودا ہو گیا۔ اب یہودی نے بارہ ہزار روپے وصول کر کے بندوق اسی کے حوالے کر دی جس کو تھوڑی دیر پہلے وہ بندوق کا نشانہ بنائے کھڑا تھا۔ ایک آدمی یہ سارا عجیب و غریب منظر دیکھ رہا تھا اس نے یہودی سے بڑی حیرت سے پوچھا آپ نے یہ کیا کر ڈالا، بھری بھرائی بندوق ہی اس کے حوالے کر دی جسے آپ تھوڑی دیر پہلے جان سے مارنے کے درپے تھے۔ یہودی کا جواب بڑا ”فکر انگیز“ تھا۔ وہ بتانے لگا کہ وہ شخص اس کے ساتھ تجارت پر اُتر آیا تھا پھر جو دھندے کی بات کرے اس کے ساتھ بھلا لڑائی کیسے ممکن ہے۔ ویسے میاں نواز شریف نے جناب مجید نظامی کے نام اپنے خط میں اپنی تقریر کی روایتی سیاستدانوں کے سے انداز میں تردید کی کوشش ضرور کی۔ لیکن نوائے وقت نے میاں نواز شریف کی اس لیڈرانہ روایتی تردید کا بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے میاں نواز شریف کے خط اور ان کی تقریر کا مکمل متن شائع کر دیا ہے۔ اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا ہے۔ رہی سہی کسر برادرم سعید آسی نے اپنے مفصل اور مدلل کالم ”عذر گناہ“ میں پوری کر دی ہے۔ سوال جواب کے اس موسم میں ہماری طرف سے کوئی سوال نہیں۔ کیوں نہیں ہے؟ سید عبدالحمید عدم کی زبان میں جواب عرض ہے
گماں نہ کر کہ مجھے جرا¿ت سوال نہیں
فقط یہ ڈر ہے تجھے لاجواب کر دوں گا