جس دھول کی مٹی سے ہوا قافلہ اندھا

نذیر احمد غازی (سابق جج ہائیکورٹ)
عالم اسلام ایک طویل عرصے سے اپنوں کی بے اعتنائی اور غیروں کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے۔ اس کا زخمی جسم مسلسل تڑپ رہا ہے۔ کبھی کوئی مسیحا میسر آ جائے تو جز وقتی افاقہ اس کی آنکھیں کھول دیتا ہے اور پھر یہ ایک لمحے کو سنبھالا لیتا ہے تو امید کی کرن نظر آتی ہے۔ کہ اب عالم انسانیت کو قیادت و سیادت کیلئے کوئی ایسا فرد یگانہ میسر آ جائے گا جو انسانیت کو امن و سلامتی کی راہ پر گامزن کر دے گا اور اقوام عالم انسانوں کے نئے گھر میں سکھ کا سانس لیں گی اور انسانی امامت کا تصور حقیقت کا روپ دھار لے گا۔ گزشتہ صدی میں عالم اسلام کی فکری و جغرافیائی سرحدوں میں ایک قابل امید تبدیلی تھی اور اسلامی نشاة ثانیہ کی تحریک دم بدم آگے کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن مغرب کی عملی کارستانیوں نے انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی بھرپور کوشش جاری رکھی تھی۔ بین الاقوامی سیاست کے مدوجزر میں ایک نمایاں جدت برصغیر میں فکری و عملی تبدیلی کا ایک اہم عنصر صدائے اقبال کے نتیجے میں بہرحال ایک جداگانہ نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا تھا۔ یہ جدید ریاست دراصل علاقائی نظری تقاضوں کا نتیجہ تھی۔ برصغیر میں انسانوں کی تقسیم کا ایک فارمولا آرایاﺅں نے ایجاد کیا تھا اور دنیا کا یہ بڑا خطہ انسانوں کی تقسیم اتنی گہری بنیادوں پر کرتا ہے کہ انسانی کائنات کو حیوانیت کی دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔ برصغیر کا پنڈت اور شودر ابن آدم تو ہے لیکن حقوق کے لحاظ سے پنڈت اعلیٰ ترین مخلوق اور شودر حیوان سے بدتر ہے۔ برصغیر کے انسانی دھرم کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق شودر کے کانوں کو اعلیٰ فکر کے الفاظ کی سماعت سے محروم کیا گیا ہے۔ شودر کسی جنم میں بھی پنڈت نہیں بن سکتا۔ شودر اور پنڈت ایک مقام پر اکٹھے ہو کر اپنے بھگوان کو نہیں پکار سکتے۔ پنڈت کے قریب ہو کر اگر کوئی شودر بلند آواز سے بھگوان کی پوجا کرے تو پنڈت کا دھرم بھرشٹ (ناپاک) ہو جاتا ہے۔ مذہبی اور معاشرتی گھٹن کی اس فضا کو بھارت میں بسنے والی اقلیتیں پوری طرح سے محسوس کرتی ہیں۔ گزشتہ صدی میں ایک نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا اسی گھٹن کا ردعمل تھا۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد ہندوﺅں کے سیاسی رویے نے ایک نئی کروٹ لی تھی۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی ملیچھ اور پلید اقلیت مسلمان تھے۔ سیاسی انتقام کا سب سے بڑاشکار ہی مسلم اقلیت تھی۔ نووارد فاتحین انگریزوں کو ہندوﺅں نے ایک بڑا سہارا فراہم کیا تھا۔ ملت کفر کا اتحاد برصغیر میں مسلم وجود کو بالکل ہی ختم کرنے پر تلا ہوا تھا اور زندگی کے تمام اہم شعبہ جات میں ہندو غلبے کی عملی کوشش جاری تھی لیکن غیور مسلمان اس خطر ناک اور مایوس کن صورتحال سے مقابلہ کر رہے تھے۔ بالآخر انہیں ایک فکری و عملی قیادت میسر آ گئی اور انہوں نے ایک بڑی مثبت تبدیلی کا آغاز کر دیا اور دو قومی نظریے کو ایک حقیقی شکل دینے کیلئے ریاستی سطح پر جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ دو قومی نظریہ محض ایک جذباتی نعرہ نہیں ہے اور نہ ہی انسانوں کی تقسیم کا کوئی جبری فارمولا ہے بلکہ دو قومی نظریے کی اہمیت کو ہندو دھرم کے رو یے نے بہت زیادہ قوت بخشی ہے۔ دو قومی نظریہ انسانوں کے حقوق کے تحفظ کا نظریہ ہے اور خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں اپنے مذہبی مخالف کو حیوان سے بدتر درجہ دیا جائے۔ بہت ہی موٹی سی مثال لیجئے کہ ھندو دھرم میں گائے کا تقدس بہت ہی زیادہ اہم اور مسلّم ہے اور اس کے فضلات گوبر اور پیشاب سے برکت اور پاکیزگی کا حصول ھندو دھرم میں بہت ہی عام ہے لیکن اگر پانی یا روٹی کو کسی مسلمان کا ہاتھ چھو جائے تو وہ پانی اور روٹی ناقابل استعمال ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کے مسلمان باشندے اب بھی اسی تہذیب میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہندو کسی بھی قیمت پر اپنے برتن میں مسلمان کو کھانا نہیں کھلا سکتا۔ اور ا ن کے دھرم میں مسلمان کبھی بھی پاک نہیں ہو سکتے۔
مسلمانوں کی سیاسی زندگی کے جملہ رویے آسانی اور باہمی مفاہمت کو جنم دیتے ہیں اس سلسلے میں مسلمان علماءاور صوفیاءکی گرانقدر مبنی بر وسعت کوششوں نے اس فضا کو تعصب سے پاک رکھنے کی بہت کوشش کی بلکہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے ابتدائی تصورات سیاسی بھی مفاہمت اور یگانگت کے ماحول کی حمایت کو برقرار رکھنے کے حامی نظر آتے ہیں لیکن ہندو دھرم کی فطری اور طبعی عصبیت نے کسی بھی سیاسی فکر اور عملی رویے کو اتنا مایوس کر دیا تھا کہ سوائے علیحدہ ریاست کے کوئی دوسرا چارہ نظر نہیں آتا تھا۔ تحریک پاکستان کا حقیقی جواز یہی ہندو عصبیت تھی۔ ہمارے بزرگ اس طرز حیات کی شہادت دیتے ہیں جس طرز حیات میں ھندو کبھی بھی ہمیں برابر کا انسان تو کیا ایک پالتو جانور کے برابر بھی حیثیت دینے کو تیار نہ تھا۔ اب ہندوستانی سیکولر معاشرے میں جا کر بھی اسی حقیقت کا مشاہدہ کر لیجئے تو آپ کو واضح محسوس ہو گا کہ موجودہ بھارت میں مسلم اقلیت کس درجے گراوٹ کی زندگی گزار رہی ہے۔ تحریک خلافت میں جب کچھ مسلم زعما ھندو سیاست کی ہمنو ائی میں انگریزی اقتدار کی مخالفت کر رہے تھے۔ اس انداز مخالفت میں بظاہر تو ایک ظالم و جابر حکمران کی قوت سے ٹکرانے کا عزم نظر آتا تھا لیکن حقیقت میں ایک منافق قوت یعنی ھندو سیاست کو مضبوط کرنے کا عملی اقدام تھا۔ اس سلسلہ یگانگت میں کئی مسلم سیاسی زعما نے ہندوﺅں سے قربت میں تیز قدم بڑھائے اور گاندھی کو مسجد کے میز پر لا بٹھایا لیکن یہ سب کچھ فریب نظر کے علاوہ کچھ نہ تھا اور وقت نے ثابت کر دیا دو قومی نظریہ ہی مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی سیاست کی کامیابی کا راز ہے....
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تُو مصطفوی ہے
اسلئے کسی بھی وقت مسلمان کے وطن کی شناخت مدھم نہیں پڑتی ہے لیکن جب وہ اپنے ایمان کی ڈگر سے ہٹ کر دنیاوی اور شیطانی راستوں پر گامزن ہوتا ہے تو اسے اسلام کا تصور وطن بھول جاتا ہے اور اسے باطل کے صنم خانوں میں خدا نظر آنے لگتا ہے اور پھر اسے حقیقی وحدہ لاشریک معبود اور معبودان باطلہ میں تمیز نظر نہیں آتی۔ شیطانی اقتدار کی چربی اس کی آنکھوں پڑ چڑھ جاتی ہے اسلئے اسے مومن اور مفسد کی تفریق کرنا مشکل ہو جاتی ہے۔ میاں نوازشریف ایک راسخ العقیدہ باعمل محب وطن پاکستانی میاں محمد شریف مرحوم کے فرزند ارجمند ہیں۔ آج ان کے گرد بہت سے ایسے سیاسی و مذہبی اہل دانش کا حلقہ ہے جن کے اکابر کو پاکستان کی ”پ“ بھی ناگوار نظر آتی تھی اور اس حلقے کے اہل دانش نے اپنے مقدس مقامات پر آنجہانی اندرا گاندھی کو صدارت کیلئے بلوایا تھا۔ میاں نواز شریف کے گرد ایک ایسا حلقہ بھی ہے جو عجمی اسرائیل و قادیان سے مذہبی عقیدت رکھتا ہے اسی لئے آئے دن میاں نواز شریف کبھی مرزائیوں کو اپنے دل کے قریب بتاتے ہیں ا ور کبھی تصور پاکستان کو دھندلانے کا بیان دیتے ہیں کہ یہ تقسیم کی عارضی دیوار گرادی جائے۔پاکستان حرمین کے بعد غریب مسلمان کی جائے پناہ ہے۔ اس کی بنیادوں میں پاکیزہ عصمتیں دفن ہیں ۔ شہدا کے خون سے اس کی بنیادوں کا گارا بنا تھا۔ لاکھوں کسمپرسوں کی زندگیاں اس کے وجود کیلئے نذرانہ کے طور پر پیش ہوتی تھیں۔ میاں صاحب ذرا اپنے زندہ بزرگوں سے پوچھ لیتے کہ ہندوﺅں سے میل ملاپ میں کتنے کا فائدہ ہے اور کتنے کا گھاٹا ہے تو یقینا وہ انہیں یہی سمجھاتے کہ بیٹا بنیے کی دوستی میں 99 کا گھاٹا ہے۔ میاں صاحب آپ کا دوسرا وطن آج کل برطانیہ ہے۔ آپ یہاں کے پاکستانی شہریوں کے جذبات کو خوب سمجھتے ہیں اور ان کی وطن دوستی کے بارے میں کوئی دوسری رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ یہاں پر تارکین وطن کا حلقہ 14 اگست کو یوم آزادی کی تقریبات اس جنونی اور جذباتی انداز سے مناتا ہے محسوس ہوتا گویا اپنے اکلوتے بیٹے کی سالگرہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ میاں صاحب کے اس بیان نے 14 اگست کا یوم آزادی پاکستانی کمیونٹی کیلئے سوگوار کر دیا کہ مسلم لیگ کا سربراہ جب ایسا بیان دے گا تو باقی لوگوں کا کیا حال ہو گا۔ قارئین! برطانیہ میں بہت سے اہل فکر و دل ایسے بھی ہیں جو دنیا کے ہر پرامن خطے کو پاکستان بنانے کی کوشش کرتے ہیں ا ن میں ایک شہری جناب رشید مرزا بیرسٹر نام کا بھی ہے جو ہمہ وقت پاکستان اور پاکستانیت کی وکالت میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ اپنے وطن کا نا م دیار غیر میں ہمیشہ بلند رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان کے اندرونی اور بیرونی معاملات سے پوری طرح سے باخبر رہتے اور پاکستان کی فلاح کیلئے اپنے آپ کو وقف رکھتے ہیں۔ ان کا اصلاحی رویہ ہر پاکستانی سیاستدان کے ساتھ نہایت ہمدردانہ اور رفیقانہ ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں جب میاں نواز شریف پاکستان کیلئے پابہ رکاب تھے تو رشید مرزا بیرسٹر نے میاں صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ میاں صاحب اپنے مشیروں میں تبدیلی فرمائیے۔ اللہ کرے یہ مشورہ میاں صاحب نے قبول کر لیں اور پاکستان کی اصلاح سے پہلے اپنے حلقہ دوستاں کی اصلاح کر لیں۔ میاں نواز شریف کے بیان نے نظریہ پاکستان کے بازو مروڑنے کی کوشش کی ہے....
جس دھول کی مٹی سے ہوا قافلہ اندھا
خود قافلہ سالار کی ٹھوکر سے اڑی ہے