کراچی کے غریبوں کا خونِ ناحق اور حکمران

خواجہ ثاقب غفور ۔۔۔
کراچی میں غریبوں کا خونِ ناحق بہہ رہا ہے گزشتہ چند ماہ کے دوران تقریباً250 شہری ٹارگٹ کلنگ، ڈرگ مافیا،’’ لینڈ مافیا‘‘ زمینی قبضہ گروپوں، دہشت گردوں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کے تربیت یافتہ ایجنٹوں، سی آئی اے کے پاکستان کو عدمِ استحکام کا شکار کرنے کے منصوبوں اور آپریشن کا نشانہ بنے ہیں بڑا سنگین پہلو یہ ہے کہ صوبائی حکمران اس خون خرابہ کو روکنے میں بے بس نظر آتے ہیں اسی طرح قانون نافذ کرنیوالے ادارے سندھ رینجرز اور وفاقی خفیہ ایجنسیوں کے اشتراک اور رپورٹوں کے باوجود ہر ماہ یا پندرہ دن کے وقفے سے بعض نادیدہ ہاتھ غریبوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیںجس کا نتیجہ مختلف سیاسی گروپوں کے کارکنوں میں انتقام، نفرت، غصہ کے شدید جذبات کا پیدا ہونا ہے شہر کے ہر بڑے ٹائون یا محلے سے جب نعشیں اور جنازے اٹھائے جاتے ہیں تو متاثرہ لسانی، سیاسی، گروہی، طبقہ میں دوسرے لسانی سیاسی گروہ کیخلاف جذبات بھڑکتے ہیں یہ 150 لاکھ افراد کے مابین منافرت، تشدد، ہنگامہ آرائی، مار دھاڑ، قتل و غارت، کاروباری اثاثہ جات، مارکیٹ، دکانوں، ٹھیلوں، ٹرانسپورٹ، پٹرول و گیس پمپ و دیگر تنصیبات پر جلائو گھیرائو، گولی، انتقام کے مناظر ہی بھارتی و امریکی خفیہ ایجنسیوں کے اصل مقاصد ہیں کہ پاکستانی عوام کے درمیان اور مذہبی طبقات شیعہ سنی کے درمیان وسیع پیمانے پر قتل و غارت کی’’ بنیادیں‘‘ ڈالنا ان فتنہ گر کافروں کا اصل ہدف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مہاجر، پٹھان، جیالے، بلوچ، پنجابی اور کشمیری کیساتھ ساتھ مذہبی فرقہ وارانہ طبقات ٹھنڈے دل سے کفار کی خفیہ کارروائیوں کو سمجھیں اور انکے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے فکروتدبر، رواداری، اتحاد، برداشت اور مومنانہ صفات کیمطابق پاکستانی شہری اور قومی یکجہتی و اتحاد کے جذبات کو فروغ دیں دشمن اپنے ایجنٹوں اور اسلحہ بردار کرائے کے قاتلوں سے پاکستان کے دل کراچی پر حملہ آور ہے یہ سیاسی قیادتوں( تمام پارٹیوں) کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے پیروکاروں کو درست سمت میں رہنمائی دیں اور لگی آگ پر ’’تیل‘‘ ڈالنے والے اقدامات کی بجائے ، عدل، فوری انصاف، قانون ضابطے کے اعلیٰ اصولوں کیمطابق نظم و نسق، جان و مال کے تحفظ کے اقدامات کریں۔ المیہ یہ ہے کہ اب تک اتحادی صوبائی حکومت کراچی کے شہریوں کے جان و مال و جائیداد کے تحفظ میں ناکام ہیں اور یہ عوام سے سخت زیادتی کے مترادف ہے کہ مختلف سیاسی گروہ، حکومت میں ہوکر بھی ناکام ہوں!
وزیر داخلہ رحمان ملک اسلام آباد سے دوڑے ہوئے آتے ہیں کیا صوبائی حکومت مکمل فیل Fail نہیں ہوگی؟ عوام اپنے پیاروں کی نعشیں اٹھا کر اور عورتیں بین کرکے ، بچے اپنے والدین کی موت پر سہم گئے ہیں خون اتنا ارزاں ہونے کے بعد بھی اصل ملزم اور مجرم کیوں نہیں پکڑے جاتے؟ پولیس آگ، خون، گولیوں، جلتی دکانوں، ٹرانسپورٹ، پمپ سٹیشن، مارکیٹوں کے جلائے جانے کو روکنے کے بجائے سڑکیں تخریب کاروں، دہشت گردوں کے حوالے کرکے کہاں غائب ہوجاتی ہے ایسا کیوں ہوا کس کے حکم سے ہوا؟ کیا پولیس بھی نظم و ضبط کے فقدان اور پارٹی بازی کا شکار تو نہیں ہوگئی؟
اس کا کوئی تو بڑا افسر جواب دے کہ میدان چھوڑ کر شہر کو برباد کرانے کا خاموش تماشائی والا کردار دیکھنے تک پولیس محدود ہوگئی؟ اور اگر کراچی، حیدر آباد ، نواب شاہ اور دیگرعلاقوں میں پولیس بے بس ہوگئی تو پھر کم ازکم کراچی میں تمام لسانی ، سیاسی، قبضہ ڈرگ مافیا، امریکی و بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کے زیر قبضہ ناجائز اسلحہ کے ذخیرے برآمد کرنے کیلئے ’’ مشترکہ آپریشن‘‘ کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے اربوں روپے کی املاک، کاروبار، ہڑتالیں، تالہ بندیاں، تعلیمی اداروں، بینکوں کی بندش، سٹاک ایکسچینج کا زوال، امپورٹ ایکسپورٹ، روزمرہ کاروبار کا بند ہونا، خوف و دہشت، موت کا رقص یہ سب اندرونی و بیرونی تخریب کاروں کا کیا دھرا ہے۔ ایسی صورت میں جب خانہ جنگی کا سماں پیدا کردیا گیا ہے تو حکومتی رٹ بحال کرنے کیلئے 3ماہ کیلئے ہر جماعت کے اندر موجود قانون شکن لوگوں کو پکڑا جائے اور قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے یا دہشت گردی کے نئے وفاقی قوانین کیمطابق یا ہوم سیکرٹری سے اختیارات کے تحت شر پسندوں، تخریب کاروں کے ساتھیوں کو نقصِ امن کے تحت نظر بند کردیاجائے‘ اگر حکومت سندھ ایسا نہیں کرتی اور وفاقی حکومت بھی اپنی خفیہ ایجنسیوں سے اصل ملزموں اور سرپرستوں کو پکڑنے اور ناجائز اسلحہ کے ذخیرے برآمد کرنے کا آپریشن نہیں کراتی تواس کا صاف صاف مطلب اسکے سوا کیا ہے کہ ملک جلتا رہے گا اور نعشیں گرتی رہیں گی حکومت کی رٹ کوقائم رکھنا بڑا ضروری ہے عوام مرتے رہیں گے اور ’’ نیرو‘‘ بانسری بجاتے رہیں گے ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو ، ملٹری انٹیلی جنس نے اصل ملزمان، دہشتگردوں اور انکے ٹھکانوں، سیاسی سرپرستوں، ناجائز اسلحہ ڈپوئوں کی جو فہرستیں حکومت کو دی تھیں وہ قومی سلامتی اور ملکی بقاء کیلئے اپنا اپنا فرض ہر خفیہ ادارے نے پورا کردیا تھا اب سیاسی قیادت ہی سیاسی مفادات کے تحت اکثر ’’ مصلحت پسندی‘‘ کا شکار ہوجائے تو یہ عوام کی بد قسمتی ہے آخر کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کا آپریشن کیوں نہیں ہوتا؟ فریقین پیپلز پارٹی جو برسر اقتدار ہے اسکے اتحادی ہیں سندھ میں بھی اور خیبر پی کے میں بھی۔ صدر اور وزیراعظم اپنا فرض منصبی کیوں ادا نہیں کر رہے؟ اپنی ’’بیڑی‘‘ میں ہی وٹے ڈال رہے ہیں۔