کراچی -آنے والے طوفان کی آنکھ

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

فیض صاحب نے اپنی عظیم شاعری کے علاوہ ایک حکمت کی بات یہ بھی کہی تھی کہ دیدہ بینا وہ ہوتی ہے جو دریا کے ایک قطرہ سے آنے والے طوفان کو پہچان سکے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ سیلاب آنے کے با وجود بھی پاکستان میں ہر دور کا اہل اقتدار طبقہ آنے والے طوفانوں کا ہر وقت اندازہ لگانے میں تاریخی سطح پر ہر مرتبہ ناکام رہا ہے۔ اور اس کی ایک کلاسیکی مثال سقوط ڈھاکہ اور پاکستان کے دولخت ہونے کا سانحہ ہے۔گزشتہ کئی ہفتوں سے کراچی خون اور آگ میں نہا رہا ہے اور ارباب اقتدار ٹس سے مس نہیں ہو رہے تھے۔ گزشتہ چند دنوں میں جو خون کی ہولی شہر میں کھیلی جارہی تھی اس کا نتیجہ بالاخر وہی نکلا ہے جو حکمرانوں کی بے حسی سے نکلتا ہے۔ یعنی حالات اس حد تک بے قابو ہو چکے ہیں کہ اخبارات کے مطابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی نے متحدہ کو سندھ حکومت سے الگ کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے شہر کو فوج کے حوالے کرنے کی سفارش کی ہے۔ حکومت کی اتھارٹی writ of the Stateکس حد تک غیر موثر ہے اس کا اندازہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارت کے مرکز کراچی کی اندوہناک صورتحال سے واضح ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق سندھ کے گورنر اپنا استعفی لیکر صدر مملکت کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے لیکن مملکت کے بہترین مفاد میں جناب صدر کی یقین دہانیوں پر وہ اپنے انتہائی اقدام سے فی الحال رک گئے ہیں۔لیکن حکمران جماعت کی اتحادی جماعتوں میں دڑاڑیں ان کی باہمی شکایات سے واضح ہیں دوسری طرف دہشت گردی کا جن\\\' انتہاء پسندی کا بھوت\\\' فرقہ پرستی‘ صوبائی پرستی اور لسانی اختلافات مملکت کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن ہے ہیں۔ افواج پاکستان ملک کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر ڈگ مگاتے حالات کے پیش نظر دونوں محاذوں پر چوبیس گھنٹے حالت جنگ کی مستعدی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ کسی بھی قوم کیلئے یہ منظرنامے انتہائی تشویشناک ہے لیکن افغان سرحد کے ساتھ صورتحال عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حالت ہے۔ کیا ایسے حالات میں کوئی بھی حکومت انتشار کا شکار ہونا برداشت کر سکتی ہے لیکن چھوٹا منہ بڑی بات کے مصداق میں کیسے کہوں کہ کیا پاکستان کی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو ان عالمی حالات کا صحیح ادراک ہے اور اگر ہے تو گزشتہ چند ہفتوں سے خصوصاً ماہ اکتوبر کے ابتداء سے تیسرے ہفتے کے آخر تک قومی قیادت نے قائد اعظم کے فرمان ایمان‘ اتحاد اور تنظیم کا کوئی ثبوت دیا ہے بلکہ ایک ایسے نازک موقع پر جب مملکت کی تقریباً 2 کروڑ آبادی حالیہ سیلابوں کے نتیجہ میں بے گھر بے وسیلہ ہو کر خیموں میں اور سڑکوں پر بغیر چھت پر پڑے ہیں کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ ہم آپس میں دست و گریباں ہیں اور وہ نقشہ پیش کر رہے ہیں کہ جب روم جل رہا تھا تو ان کا شہنشاہ Nero بانسری بجانے سے لطف اندوز ہو رہا تھا کیا ایسے عالم میں جبکہ مملکت قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے اور خزانہ خالی ہے۔ ہر شہری تقریباً ایک لاکھ کا مقروض ہے اور معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ملک کا خوشحال طبقہ غریبوں کو سادگی کا سبق دیتے ہوئے اپنی ذاتی دولت اور املاک کا کوئی حصہ یا اپنی زندگی کا عیش و آرام دفاع وطن کی خاطر قربان کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کو باقی تمام باہمی اختلافات سے بالا تر ہو کر اولین ترجیح دی جائے۔ کراچی شہر کی لگا تار بد امنی آنے والے طوفان کی آنکھ بن چکی ہے پاکستان کی قومی سلامتی صرف سندھ حکومت یا اسلام آباد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جاسکتی اور نہ ہی شہر کو فوج کے حوالے کرنا کسی پائیدار حل کی ضمانت ہے یہ ایک قومی ذمہ داری ہے اور حکومت کے اندر اور باہر تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاہمت کے جذبہ سے ملک کو درپیش تمام چیلنجز کا سیاسی حل تلاش کرنے میں کوئی دقیقہ فر گزاشت نہیں کرنا چاہیے۔