پرائیویٹ سکولز کے اساتذہ کے مسائل

سید روح الامین ..........
پرائیویٹ سکول کے ایک ٹیچر میرے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔ میں ایک پرائیویٹ سکول میں کافی عرصہ سے پڑھا رہا ہوں۔ سرکاری سکولز کے اساتذہ کو جو مراعات دی جاتی ہیں ہمیں وہ بالکل حاصل نہیں یہاں تک کہ حالیہ بجٹ میں سرکاری سکولز کے اساتذہ صاحبان کی تنخواہوں میں پچاس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے لیکن چار ماہ گزر گئے ہیں۔ ہماری تنخواہ میں ابھی تک ایک فیصد کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اسی طرح کا ایک خط ایک خاتون ٹیچر کا ہے جو کہ عرصہ سے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ جناب سرکاری سکولز کی خواتین ٹیچرز کو تین ماہ کی میٹرنٹی لیو تنخواہ کے ساتھ دی جاتی ہے لیکن ہمارے سکول میں صرف چالیس دن کی چھٹی دی جاتی ہے۔ ظلم کی بات تو یہ ہے کہ ان چالیس روز کے پیسے ادارہ ہم سے وصول کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قانون کو بالکل کوئی اہمیت نہیں جاتی حالانکہ پرائیویٹ سکول محکمہ تعلیم کے ماتحت ہوتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے افسران کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ پرائیویٹ سکولوں کا دورہ کریں اورچیک کریں کہ اساتذہ کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی تو نہیں ہو رہی۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو ازالہ کیا جائے لیکن ہمارے ہاں سب کام رشوت اور ملی بھگت سے چلتے ہیں۔ کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ بعض سکولوں میں تو چند افراد کی اجارہ داری ہوتی ہے جو سکول کے مالک کے منظور نظر ہوتے ہیں۔ انہیں جائز و ناجائز سبھی مراعات دی جاتی ہیں اور جو سینئر اساتذہ سے کام بھی زیادہ لیا جاتا ہے اور معاوضہ بھی کم دیا جاتا ہے اور ہر طرح سے ان کا استحصال اور حق تلفی بھی کی جاتی ہے۔ سرکاری سطح پر ملازمتوں کا حصول بہت مشکل ہوتا ہے۔ تو یہ قابل لوگ پرائیویٹ اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں پر ان سے کام لیتے ہیں سختی برتی جاتی ہے۔ تنخواہ میں اضافہ کیلئے کوئی باقاعدہ قانون نہیں ہوتا بلکہ ادارہ کے سربراہ کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ محکمہ تعلیم کے وہ افسران جنہوں نے چیک کرنا ہوتاہے وہ اپنے دفاتر میں عیاشیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ چار ماہ گزرنے کے باوجود تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنا بھی آمریت نہیں تو اور کیا ہے اور ایک خاتون ٹیچر کی میٹرنٹی Leave بھی پیسوں کے عوض دینا کتنی بڑی زیادتی اور ظلم ہے۔ پرائیویٹ سکول جس طرح بچوں سے بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں۔ اساتذہ کو تنخواہیں بھی اسی طرح ادا کریں۔