وقت گزار اور تہجد گزار صدر

نواز خان میرانی ۔۔۔
جب میں یونیورسٹی یا کالج میں پڑھ رہا تھا تو اس وقت میرے ایک دو دوست پنجاب سیکرٹریٹ میں ملازم تھے اور میں کالج سے واپسی پہ کچھ دیر کیلئے ان سے گپ شپ کی غرض سے رُک جایا کرتا تھا۔ ان دنوں مجھے معلوم ہوا کہ پلاننگ و ڈویلپمنٹ میں ایک ڈپٹی سیکرٹری آئے ہیں جو انتہائی محنتی، ایماندار اور کام سے کام رکھنے والے ہیں اور رات گئے تک فائلوں کے ساتھ مصروف رہتے اور ورق گردانی کرتے رہتے ہیں۔ ان دنوں بھی آج کل کی طرح دفتر سے پہلے کھسک جانے کا رواج تو تھا مگر اتنی سہولت یا آسانی کے ساتھ ایسا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دیر تک محنت کرنے اور مغز ماری کرنے میں ایک بہت بڑی قباحت یہ تھی کہ متعلقہ افسر کے عملے کو بھی ان کے ساتھ بیٹھنا پڑتا تھا جو کہ خاصا دشوار کام تھا۔ میرے دوستوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ یار ڈپٹی سیکرٹری آپ کے علاقے کا ہے۔ کسی طرح باتوں باتوں میں انہیں سمجھائو کہ ہم پہ رحم کرے، میں نے ان سے پوچھا کہ متعلقہ صاحب کا نام کیا ہے۔ تو پتہ چلا کہ موصوف میرے ہی شہر ڈیرہ غازی خان کے ہیں اور ان کا نام فاروق لغاری ہے۔ میں چونکہ ڈیرہ غازی خان زیادہ دیر تک رہا نہیں۔ صرف دو سال کے قریب ابتدائی کلاسوں میں وہاں رہا ہوں۔ لہٰذا میری وہاں کے معززین سے اتنی واقفیت نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی میں ان سے ملنے چلا گیا تو جب انہیں پتہ چلا کہ میں طالب علم ہوں اور میرا تعلق بھی ان کے شہر سے ہے تو انہوں نے وقفے وقفے سے مجھے دیکھا لیکن فائل میں بدستور کھوئے رہے۔ ان کا انہماک پوری توجہ اور کام سے لگن دیکھ کر مجھے اپنے یاروں کی فرمائش پوری کرنے کا یارا نہیں رہا۔ واپسی پہ جب دوستوں نے پوچھا تو میں نے انہیں تفصیل بتا دی کہ وہ گپ شپ کے دوران بھی مکمل توجہ سے فائلیں دیکھتے رہے تو دوستوں نے جواب دیا۔ یہی تو گلہ ہے کہ وہ کام سے کام رکھتے ہیں اور رزق حلال پہ ساری ان کی توجہ ہے۔ ان سے تمام تفصیلی ملاقاتیں ان کے صدر بننے کے بعد مختلف تقریبات میں ہوئیں۔ میری ہمشیرہ کی شادی میں بھی انہوں نے بطور خاص شرکت کی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد میں پتہ چلا کہ ذوالفقار علی بھٹو، ڈیرہ غازی خان گئے تھے اور فاروق لغاری صاحب سے نوکری چھڑوا کر جو کہ انہوں نے سی ایس پی کرنے کے بعد حاصل کی تھی۔ قومی اسمبلی کا ٹکٹ دے کر ممبر قومی اسمبلی منتخب کرا لیا ہے۔ بس اس کے بعد جو خصوصیات ممبران اسمبلی کی ہوتی ہیں ان میں بھی آتی چلی گئیں۔ کہاں سی ایس پی افسر، کہاں سیاست کے سفر پہ گاڑی کے پائیدان پہ کھڑا ہو کر جیالوں کی طرح لٹکنا شروع کر دیا۔ حالانکہ فاروق لغاری صاحب کی تربیت بچپن میں جس ماحول میں ہوئی۔ وہ انتہائی قابل رشک ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے کہ جنہوں نے نماز کبھی نہیں چھوڑی، تہجد گزاری بھی ان کا وطیرہ رہا۔ ڈیرہ غازی خان میں مشہور ہے کہ کسی صاحب کا جنازہ پڑھانا تھا لیکن ان کی شرط یہ تھی کہ میرا جنازہ وہ پڑھائے گا جس نے نماز کبھی قضا نہ کی ہو۔ لہٰذا جنازہ ادا کرنے کیلئے یہ درخواست لوگوں سے کی گئی لیکن کوئی ایسا شخص سامنے نہ آیا۔ آخر کار فاروق لغاری صاحب آئے، اور انہوں نے اُن بزرگ کا جنازہ پڑھایا۔ دیر سے سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو ایسا شخص ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے کہ لوگوں کے سامنے اُن کی نیکی اور نمازوں کی دھوم پڑ جائے۔
خار زار سیاست میں آنے سے پہلے ان کا تعارف اتنا، دلکش، دلنشیں، قابل رشک ہے کہ اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے چونکہ جب کوئی بھی انسان فوت ہو جائے تو اس کی نیکیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور یہی ہمارا دین ہمیں درس دیتا ہے۔ بظاہر نیک، ریا کار، سے وہ گناہ گار شاید خداکے نزدیک زیادہ قرب والا سمجھا جاتا ہو کہ جس کے دل میں ایمان، نور خدا، اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن ہو اور فاروق لغاری یقینا ایسے ہی ایک شخص تھے جن کے بارے میں اللہ جل شانہ کا فرمان ہے کہ ایسا بندہ جس نے شرک نہ کیا‘ تو وہ لازماً بخشا جائے گا اور ایسا شخص بھی جنت میں جائے گا کہ جس کے بارے میں اس کے ہمسایوں نے اس کی نیکی کی گواہی دی ہو اور وہ شخص بھی جنت میں جائے گا کہ جس کے بارے میں چار لوگ بھی یہ کہہ دیں کہ مرحوم نیک تھا۔ ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بھی ثواب میں بدل دے اور ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو پردہ پوشی کی چادر میں ڈھانپ دے۔ یا باری تعالیٰ اسے اجر و ثواب سے مالا مال کر دے کیونکہ تو علیم و خیر ہے، تو وقت گزار صدر کی نیتوں سے بھی آشنا ہے اور تہجد گزار صدر کی ریاضتوں کو بھی جانتا ہے!!!