مسلم لیگوں کا اتحاد کیوں ضروری ہے ؟

اسرار بخاری .....
کیا برف پگلی ہے، کیا انّا کا بُت توڑ کر اتحاد کا شیش محل دوبارہ تعمیر کرنے کا احساس جاگا ہے۔ گزرتے وقت کی سنگینی کے تقاضوں نے دلوں میں لگے نفرتوں کے زنگ کو صقیل کر دیا ہے۔ ذہنوں پر چھائی کدورتوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کی ملاقات کے حوالے سے سوچوں کے زاویوں کا مختلف اطراف میں سفر اور نتائج اخذ کرنا فطری عمل ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی اور (ن) لیگ کے اہم رہنما سینئر اسحاق ڈار اور خواجہ آصف ایم این اے سے مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں سینٹر ایس ایم ظفر اور سینٹر طارق عظیم کی رائے ونڈ میں ملاقات کو لاکھ نجی ملاقات کے معنی پہنائے جائیں یہ ہزار فیصد سیاسی ملاقات تھی اور پاکستان میں ہر وہ شخص جو نظریہ پاکستان پر یقین رکھتا ہے اس ملاقات کے ثمرآور ہونے اور اسے باہمی اتحاد و یکجہتی کے سفر میں پیش رفت کا ذریعہ بننے کا بجا طور پر آرزومند ہے۔ یہ خوش آئند ہے کہ بزرگ مسلم لیگی رہنما پیر صاحب پگاڑا کی سربراہی میں ان کی اپنی جماعت فنکشنل مسلم لیگ، چودھری شجاعت حسین کی مسلم لیگ (ق) ، سلیم سیف اللہ کی ہم خیال مسلم لیگ، اعجازالحق کی مسلم لیگ (ضیائ) اور شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ اتحاد کی لڑی میں پروئی جا چکی ہیں۔ 28 اکتوبر کو لاہور میں پانچ جماعتی اتحاد کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں اہم ترین ایجنڈا مسلم لیگ (ن) کو اس اتحاد کے دھارے میں لانے کے لئے میاں نواز شریف سے ملاقات ہے۔ اس ملاقات کو یقینی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر اس حوالے سے بے یقینی کا کوئی امکان ہوتا تو پیر صاحب پگاڑا اس اجلاس کے لئے 27 اکتوبر کو کراچی سے لاہور نہ آتے۔ پیرانہ سالی میں لاہور کا سفر ہی نہ کرتے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے جناب ایس ایم ظفر اور جناب طارق عظیم کی میاں شہباز شریف سے ملاقات میں پیر صاحب کی آئندہ ملاقات بھی بات چیت کا اہم حصہ رہی ہو گی بصد احترام اسے سوئے ادب نہ تصور کیا جائے اگر متحدہ مسلم لیگ کا سربراہ پیر صاحب کو بنا دیا جائے تب بھی اصل قیادت میاں نواز شریف کے پاس ہی رہے گی وہی اب پورے ملک میں واحد عوام کے لیڈر ہیں اور شیخ رشید کے بقول اگر تمام مسلم لیگیں اکٹھی ہو جائیں تو نواز شریف وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود جناب آصف زرداری کی قیادت مرحومہ بینظیر بھٹو کی ہی مرہون منت ہے بہرحال پاکستان کی سلامتی، سالمیت، ترقی اور سیاسی و معاشی استحکام کے خواہاں بدست دعا ہیں 28 اکتوبر کا سورج ملک میں حضرت قائداعظم کی مسلم لیگ کے احیاء کا پیغام لے کر طلوع ہو۔ آمین ثم آمین!
جہاں تک مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں اور کارکنوں کا تعلق ہے آمریت کے دورِ ابتلا میں جسمانی تشدد، قید و بند کی صعوبتوں، بیوی بچوں کی پریشانیوں کے باوجود پوری استقامت کے ساتھ آمریت کے خلاف جدوجہد کا بانکنپن پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے اس لئے اگر وہ ان لوگوں کے لئے دلوں میں کوئی گنجائش محسوس نہ کریں ان لوگوں کو گلے لگانا ایک کراہت آمیز فعل خیال کریں جو آمریت کا دست و بازو بنے رہے تو یہ عین فطری عمل ہے اگر انہیں یہ احساس بے کل کر دے کہ کیا ہم نے یہ سب قربانیاں اس لئے دی تھیں اور اذیتیں اس لئے برداشت کی تھیں کہ آمریت کے دستر خوان سے فیض یاب ہونے والے صبح جمہوریت کے اجالے میں بھی حصہ دار بن جائیں ناانصافی ہو گی بلکہ عدل کا خون ہو گا، اگر ان کے ایسے جذبات اور احساسات کو منفی سمجھا جائے بلاشبہ ان میں وہ لوگ بھی تھے جنہیں آمریت کی شبِ دیجور میں مقدر کو روشن کرنے کی صورت نظر آئی ایسے بھی تھے طمع اور لالچ نے جنہیں بے وفائی پر آمادہ کیا مگر ایسے بھی تھے جن کے کمزور اعصاب آمریت کی اندھی قوت کا سامنا نہ کر سکے ایسے بھی جن کیلئے صعوبتیں اور اذیتیں برداشت کرنا ممکن نہ تھا مثلاً جب مسلم لیگ ہاؤس میں چودھری شجاعت کی زیر صدارت اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے کی آمد کا کامل علی آغا سٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا تو اس ناچیز کو گویا جھٹکا لگا تھا بعد ازاں اس سابق ایم پی اے نے بتایا کہ دو باوردی میجر اس کے گھر آئے اور تحکمانہ انداز میں پیغام دیا ’’آپ کے پاس دو گھنٹے ہیں ہم ریسٹ ہاؤس میں ہیں فیصلہ کر لیں صبح مسلم لیگ ہاؤس میں جانا ہے یا نیب ہاؤس میں جانا ہے‘‘ یہ دو گھنٹے قیامت سے زیادہ کڑے تھے گھر والوں کا بھی مشورہ تھا اور سچی بات ہے خود اپنے اندر نیب ہاؤس جانے کی ہمت نہیں پائی اور مسلم لیگ ہاؤس آ گیا بعد ازاں جب ملاقات ہوتی یہ ضرور کہتے یقین کریں میاں صاحب کا جب خیال آتا ہے بڑی شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے اور یہ ناچیز گواہ ہے مشرف آمریت کے دور میں انہوں نے ایک لفظ میاں صاحب یا (ن) لیگ کے خلاف نہیں کہا یہ ایک مثال ہے (ق) لیگ میں جانے والے ایسے ’’مجبوروں‘‘ کی تعداد کافی ہے ان کی مجبوری کو معذوری سمجھ کر درگزر سے کام لیا جا سکتا ہے البتہ وہ لوگ جنہوں نے بہ رضا و رغبت مشرف آمریت کا ستون بن کر اپنے جمہوری چہرے کو داغدار کیا وہ لوگ جنہوں نے بڑے بڑے مناصب حاصل کر کے فیض یابی کے دھاروں کا رخ اپنی جانب موڑا جو کہ آمریت کے دست و بازو بن کر جمہوری رویوں کے بخئیے ادھیڑتے رہے، میاں نواز شریف کو قائد تسلیم کرنے کے بعد ان پر طنز و تضحیک کے نشتر چلاتے رہے انہیں پھر سے گلے لگانا یقیناً بڑی آزمائش اور مشکل مرحلہ اگر (ن) لیگ کی جانب سے ان کے سیاسی مقاطع پر اصرار کیا جائے تو اس پر حرف گیری نہیں ہو سکتی لیکن یہی وہ مرحلہ بھی ہے جہاں فراخدلی، وسعتِ قلبی اور حوصلہ مندی کی آزمائش ہوتی ہے البتہ جو لوگ جن کے خود غرضانہ تعاون آمریت کو نو سال تک جاری و ساری رہنے میں مدد دی ان کا یہ طرز عمل ہر لحاظ سے جمہوریت دشمنی ہی کہلائے گا وہ چاہے لاکھ جواز تلاش کریں لہٰذا ان پر تلافی لازم ہے اور ضروری ہے کہ چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی، اعجازالحق، گوہر ایوب، امیر مقام، ہمایوں اختر، شیخ رشید، مشاہد حسین، راجہ بشارت اور دیگر آمریت کا ساتھ دینے پر قوم سے معافی مانگیں اور کھلے دل کے ساتھ میاں نواز شریف سے معذرت کریں، یہ تلافی کی واحد صورت ہے ان حضرات نے آمریت کا ساتھ دے کر غلطی کی ہے اور غلطی باعث فخر نہیں ہوا کرتی۔ اب جبکہ ملک کی سنگین صورت حال مسلم لیگی اذہان اور سوچ کی یکجائی وقت کا اہم ترین تقاضا بن چکی ہے ان خطرات کو اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے پر اڑے رہنا اور انّا کے حصار سے باہر نہ آنا زیادہ عزیز ہے یا ملک و قوم کا مفاد زیادہ قابل ترجیح ہے یہ بھی واضح ہو جائے گا۔ ان سطور میں یہ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ بلڈنگ میں سب کے لئے قابل احترام شخصیت جناب مجید نظامی کی سرپرستی میں بند کمرے کا اجلاس منعقد کیا جائے جس میں چودھری شجاعت حسین سمیت (ق) لیگ کے رہنما اجتماعی معذرت کا اظہار کریں اور میاں نواز شریف دل بڑا کر کے ان کی معذرت کو قبول کریں۔ (ق) لیگ کے رہنما اگر تائب ہونے کا اعلان کریں تو بلاشبہ ان کی سیاست آمریت کی بجائے جمہوریت کے لئے تقویت کا باعث بنے گی اور اگر کہیں آمریت کے خس خاشاک میں کوئی چنگاری دبی ہوئی بھی ہے تو اسے بھڑک کر شعلہ بننے کا حوصلہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ اسے سیاسی حمایت سے محرومی کا احساس پست حوصلہ کر دے گا۔ اگر فوجی بغاوت کو سیاسی بیساکھیاں میسر نہ آئیں تو انقلاب نہیں کہلاتی بلکہ بغاوت ہی رہتی ہے۔ اس مرحلہ پر سوال کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگیوں کا اتحاد کیوں ضروری ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حالات کا تقاضا ہے وطن عزیز اس وقت جیسے سنگین چیلنجز کا شکار ہے اور آنے والا ہر لمحہ سنگین سے سنگین تر صورتحال کو جنم دے رہا ہے آنے والے کل میں قیادت کا تاج کسی کے بھی سر پر سجایا جا سکتا ہے مگر موجودہ وقت میں میاں نواز شریف ہی وہ واحد لیڈر ہیں جو پاکستان کی کی بانی مسلم لیگ کے سربراہ کے طور پر ملک کو موجودہ مشکل حالات سے نکال سکتے ہیں اور ان پر ہی یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بینظیر بھٹو کی زندگی میں بھی وہ قومی اور عالمی سطح پر مسلمہ اور عوامی لیڈر تھے بینظیر بھٹو کے بعد تو وہ اور زیادہ اہم ہو گئے ہیں اس لئے عظیم تر قومی مقاصد کے لئے انہیں اپنی ذات کی نفی کرنی ہو گی آنے والے دنوں میں ان کی ذمہ داریاں ملک و قوم کے حوالے سے اور زیادہ بڑھنے والی ہیں۔ افغانستان میں ا مریکہ کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں، امریکی حکمرانوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ جنگ میں اربوں ڈالر جھونکنے اور ہزاروں امریکی و اتحادی فوجی مروانے کے بعد بھی کون سے تیر چلائے گئے ہیں واضح شواہد ہیں کہ افغانستان میں ناکامیوں کو کامیابیوں میں تبدیل کرنے کے لئے امریکہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا رخ پاکستان کی جانب موڑنا چاہتا ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس اور ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے ایٹمی اثاثے جو پورے عالم کفار کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں امریکیوں کا ہدف ہے جسے خدانخواستہ نقصان پہنچا کر امریکی حکمران سرخرو ہو سکتے ہیں۔ امریکی اخبار ’’گلوبل پوسٹ‘‘ کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ’’امریکہ اور اتحادی ممالک افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور اب اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتے ہیں اس لئے آنے والے دنوں میں بھی پاک فوج پر بھی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے اس لئے ضروری ہے فوج کی پشت پر ایک مضبوط سیاسی حکومت ہو جو سیاسی اور سفارتی محاذ پر فوج کو دباؤ سے آزاد کرا سکے بلاشبہ ایک ملک گیر سیاسی جماعت ہونے کے ناطے پیپلز پارٹی کی حکومت یہ کردار بخوبی ادا کر سکتی اگر اسے بینظیر بھٹو کی قیادت نصیب رہتی۔ بدقسمتی سے موجودہ قیادت کرپشن کیسز کی وجہ سے اس متقاضی کردار کی اہلیت نہیں رکھتی نہ ہی یہ بینظیر بھٹو جیسی صلاحیتوں کی مالک ہے اس لئے ساری ذمہ داری میاں نواز شریف پر ہی عائد ہوتی ہے اور اس ذمہ داری سے عہدہ برار ہونے کے لئے ایک مضبوط اور ملک گیر سیاسی قوت کا ان کے زیر کمان ہونا ضروری ہے مسلم لیگیوں کا اتحاد اس ضرورت کی تکمیل ہو گا اور کوئی حرج نہیں اگر باقاعدہ حلف لیا جائے کہ متحدہ مسلم لیگ کا ہر لیڈر اور کارکن ذاتی فائدوں اور مقاصد کی بجائے ملکی و قومی مفاد کو ترجیح دے گا۔ میاں نواز شریف نے لندن میں حالیہ پریس کانفرنس میں جو لائین اختیار کی ہے ہی آئندہ کا لائحہ عمل ہونا چاہیے دیگر سیاسی قوتیں بھی اس کا ساتھ دے سکتی ہیں۔ خطے میں صورتحال کے حوالے سے آئندہ ایک دو سال بے حد اہم ہیں پاکستان کو داخلی اور خارجی سطح پر بہت سے اہم چیلنجز کا سامنا رہے گا جن میں امریکیوں کے ساتھ معاملات سب سے اہم ہیں اس پس منظر میں میاں نواز شریف کی قیادت کی صورت میں امریکیوں پر ایک نفسیاتی اثر یہ ہو گا امریکی جانتے ہیں ان سے قومی مفاد کے منافی کوئی بات نہیں منوائی جا سکتی، ایٹمی دھماکہ کے موقع پر وہ بے پناہ امریکی دباؤ کو خاطر میں نہ لا کر یہ باور کروا چکے ہیں، سابق صدر کلنٹن نے اس کا اعتراف یوں کیا ’’آپ کی جگہ میں ہوتا تو یہی کرتا، میں آپ کی حب الوطنی کا معترف ہوں‘‘ دوسرا یہ کہ میاں نواز شریف کے خلاف غیر ملکی اکاؤنٹس کے کوئی مقدمات نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کی پارٹی کی ساری توانائیاں انہیں غیر ممالک میں کرپشن کے مقدمات سے بچانے میں صرف نہیں ہو رہی ہیں امریکہ سمیت ہر غیر ملکی قوت آگاہ ہے بیرونی مقدمات کی بنیاد پر میاں نواز شریف کو دباؤ میں لا کر مرضی کے فیصلے کرانا ممکن نہیں ہے اس لئے ان کا وجود اور سیاست میں مرکزی کردار ملک و قوم کے لئے بابرکت اور بعض حواریوں سے ناگزیر ہے اس لئے ضروری ہے کہ مسلم لیگیوں کے اتحاد کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ میاں نواز شریف بہتر اور ملک گیر سیاسی قوت کے ساتھ مستقبل قریب میں بہت بڑے چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار رکھیں۔ فروری 2008ء کے الیکشن میں ہار اور جیت جس کا بھی مقدر بنی دونوں کے مجموعی ووٹ اکثر حلقوں میں پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار سے زائد تھے اور کئی حلقوں میں تو تقسیم کے باوجود کامیابی مسلم لیگ (ق) یا مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کا مقدر بنی۔ مثلاً مریدکے کے حلقہ میں (ن) لیگ کے امیدوار کے رانا تنویر کے ووٹ 50 ہزار، مسلم لیگ (ق) کے امیدوار ذوالفقار ڈھلوں کے 47 ہزار اور پیپلز پارٹی کے امیدوار مشتاق گجر کے 17 ہزار تھے۔
بے حد قابل احترام بیگم کلثوم نواز صاحبہ نے جلاوطنی کے دوران کیپٹن صفدر اور عزیزی مریم کی موجودگی میں جدہ میں اس ناچیز سے گفتگو کے دوران شاید الہامی جملہ کہا تھا ’’مجھے لگتا ہے اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی کام لینا چاہتا ہے‘‘ (واضح رہے ابھی پاکستان واپسی کے امکانات پیدا نہیں ہوئے تھے) آج کے حالات میں پورے شرح صدر کے ساتھ یہ بات کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں نواز شریف سے جو کام لینا ہے وہ ملک و قوم کو سنگین صورتحال سے نکالنا ہے اور اب اس ’’کام‘‘ کا وقت آن پہنچا ہے۔