قبر سے آتی ہوئی آوازیں!

کالم نگار  |  توفیق بٹ

شاید اسے بھی پتہ ہے چند گلوکاروں اور رقاصاؤں کو چھوڑ کر پاکستان بھر کے عوام اس سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے بھی یقیناً آگاہ ہو گا پاکستانی تاریخ میں کوئی ایسا جرنیل نہیں جو اقتدار پر قابض ہونے کے بعد کوئی ایسا کارنامہ سرانجام دے سکا ہو جس کی بنیاد پر لوگ اس کے غیر آئینی و غیر اخلاقی کارنامے کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہو جائیں اور جمہوریت سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نفرت کرنے لگیں۔ پر کیا کرے اسے کسی نہ کسی طرح اپنا نام زندہ رکھنے کا چسکا پڑ چکا ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرنا مشکل ہے کہ عوام کو اب جمہوریت یا آمریت سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ عوام کے مسائل دور آمریت میں حل ہوتے۔ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ بددیانتی اور اس جیسی دیگر لعنتوں سے دور آمریت میں چھٹکارا مل گیا ہوتا تو جمہوریت کا نام تک لوگ بھول چکے ہوتے۔ پاکستان میں آج تک جو جرنیل اقتدار پر قابض ہوا اپنے اندار حکمرانی سے ثابت کر دیا کہ وہ صرف ذاتی مفادات کیلئے ہی اقتدار پر قابض ہوا تھا اور پاکستان یا پاکستان کے عوام کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اقتدار پسند جرنیلوں اور اقتدار پسند سیاستدانوں کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے دو واقعات کو فراموش یا نظرانداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک پاکستان کا ٹوٹنا دوسرے پاکستان کا ایٹمی قوت بننا۔ پاکستان کن نامراد ہاتھوں سے ٹوٹا‘ کون نہیں جانتا؟ اور پاکستان ایٹمی قوت کس دور میں بنا‘ یہ بھی سبھی جانتے ہیں۔ اب اگر چند پسندیدہ گلوکاروں یا رقاصاؤں کے سر پر گلاس رکھ پر ناچنے والے سابق جرنیل حکمران جھوٹ پر جھوٹ بولے جائیں تو کسی کو اس پر حیران اس لئے نہیں ہونا چاہئے کہ وہ تو اس حالت میں بھی سچ نہیں بولتا جس حالت میں سچ بولنا یقینی سمجھا جاتا ہے۔ سو اس کے اس ’’فرمان حالیہ‘‘ پر بھی کوئی یقین نہیں کرے گا کہ نواز شریف ایٹمی دھماکہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ البتہ یہ ضرور ہے انہوں نے اس سلسلے میں وطن عزیز کی مختلف اہم شخصیات سے مشاورت کی جس کے نتیجے میں فیصلہ کرنے میں کچھ تاخیر ہو گئی۔ اس ضمن میں انہوں نے جناب مجید نظامی سے بھی رابطہ کیا تھا جن کے اس جواب نے تاریخی حیثیت اختیار کر لی کہ ’’آپ دھماکہ نہیں کریں گے تو قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی۔
سابق جرنیل حکمران اتنا بے وقوف نہیں اس امر سے واقف نہ ہو کہ پاکستان میں اب اس کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ پاکستانی عوام اس سے نفرت کرتے ہیں حتیٰ کہ موجودہ حکمرانوں کی کرپشن اور نااہلی کی جابجا بکھری ہوئی کہانیاں بھی پاکستانیوں کے دلوں میں اسی کیلئے نرم گوشہ پیدا نہیں کر سکیں۔ لوگ تبدیلی ضرور چاہتے ہیں مگر ایک بھی پاکستانی نہیں جو یہ چاہتا ہو کہ سابق جرنیل حکمران کا دور واپس آجائے۔ اس کا کوئی ایک کارنامہ ایسا نہیں ہے جس کی بنیاد پر لوگ دوبارہ اس کی حکمرانی کی خواہش کریں۔ وہ تو بوقت رخصت بھی پاکستان اور اس کے عوام کے سینے پر ایک ایسا گھاؤ لگا گیا۔ جس کا خمیازہ اس کے بعد بھی بھگتا جا رہا ہے۔ اس میں کیا شک ہے جس قسم کے بددیانت حکمران اس وقت ملک و قوم پر مسلط ہیں اس کا دیا ہوا تحفہ ہیں۔ وہ محض اپنے مفادات کیلئے این آر او کا ’’بہشتی دروازہ‘ نہ کھولتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ اب وہ یہ بھی کہتا ہے این آر او اس نے چودھری شجاعت حسین کے کہنے پر جاری کیا تھا۔ کوئی اس سے پوچھے گر چودھری شجاعت حسین کے اتنے تابع فرمان تھا تو ان کے کہنے پر نواب اکبر بگٹی کے قتل‘ لال مسجد اور عدلیہ سے پنگا لینے سے باز کیوں نہیں رہا؟
جھوٹے کا المیہ یہ ہوتا ہے اس کی سچی باتوں پر بھی لوگ یقین نہیں کرتے اور یہ بات ان سیاستدانوں کیلئے خوش قسمتی کا باعث ہے جو نو برسوں تک سابقہ جرنیل حکمران کے دست و بازو بنے رہے اور اس دوران اس کی ہر غلط بات پر ایمان لاتے رہے اب اگر وہ ان حاضر سروس بلکہ ہر وقت حاضر سروس سیاستدانوں کے بارے میں کچھ سچی باتیں بھی کرے گا تو لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے۔ حاضر سروس سیاستدانوں کو اپنی اس خوش قسمتی پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے!