عورت کا تیسرا رخ … نقاب اٹھائیے!!!

عارفہ صبح خان .........
اپنی شادی کے ہنی مون پر اُنکے شوہر سے انہیں بڑی محبت سے پانچ لاکھ کی ڈائمنڈ انگوٹھی اور تین لاکھ کی گھڑی تحفے میں دی لیکن انہیں یہ چیزیں پہننے کی عادت نہیں تھی اس لئے وہ ہوٹل کے باتھ روم میں اپنے بیش قیمت تحفے بھول آئیں۔ مجھے ذاتی طور پر کافی ملال ہوا کہ اگر وہ انگوٹھی اور گھڑی کسی پاکستانی ہوٹل میں بھول جاتیں تو کسی ویٹر یا سویپر کے ہاتھ یہ چیزیں لگ جاتیں اور اس کی دو تین بیٹیوں کی شادیاں دھوم دھام سے ہو جاتیں۔ بہرحال اس وقت انتہائی امیر سیاستدان خواتین میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا نام بھی آتا ہے۔ حنا ربانی کھر، بیگم فہمیدہ مرزا، شیری ملک، تہمینہ دولتانہ، ذکیہ شاہنواز، بیگم عشرت اشرف، یاسمین مصباح الرحمن، فرزانہ راجہ، فریال تالپور، بیگم کلثوم، سیف اللہ ، ثمینہ گھرکی، عائلہ ملک، بیگم عطیہ عنایت اللہ ، پری گل آغا وغیرہ اگر اپنے پیسوں سے چار چھ لڑکیوں کی شادیاں کرا دیں تو یہ اُنکے اثاثوں کی زکوٰۃ ہوگی۔
ہماری اکثر سیاسی خواتین جدی پشتی امیر ہیں کیونکہ غریب یا متوسط عورت کیلئے سیاست میں آنا کٹھن مرحلہ ہے۔ ہماری ایک سیاسی دوست جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے اور ایم پی اے رہی ہے۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ متوسط طبقہ سیاست میں ناکام ہوتا ہے خاص طور پر مڈل کلاس کی عورت کو دولت، اقرباپروری اور برادری ازم پر امیر سیاسی عورتیں چلنے نہیں دیتیں اپنی امارت کے لشکاروں سے اتنا احساس کمتری پیدا کرتی ہیں کہ خودکشی کو دل چاہتا ہے۔ بعض سیاسی خواتین کی امارت اور جہالت سے دن دیہاڑے محنت اور ذہانت کا قتل عام ہوتا ہے کیونکہ یہ عورتیں برادری ازم اور دولت و حشمت کے غرور میں کسی کو اپنے سے آگے نہیں آنے دیتیں۔ ہماری غریب پرور دوست کی شکایت بجا لیکن ہم نے بچشم خود نظارہ کیا ہے کہ کئی ہزار اور لکھ پتی خواتین سیاسی بازیگری سے کروڑ پتی اور ارب پتی بن گئیں۔ ان کے واجبی اثاثے چند سالوں میں ملکی و غیرملکی بنکوں سے بھر گئے۔ اگر پہلے یہ اللہ کے فضل سے لکھ پتی تھیں تو رکن اسمبلی یا وزیر مشیر بنکر امارت کے جھولے میں جھولنے لگیں۔ ہمارے ہاں تو ویسے بھی ترقیاتی فنڈز ہمیشہ وزراء اور ارکان کے پیٹوں میں اُتر جاتے ہیں اور سفارش کمیشن کے نام پر جو ہُن برستا ہے۔ اسے اللہ کی دین سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال یہ حقائق کا ایسا منہ زور سیلاب ہے جس کے آگے بند نہیں باندھا جاسکتا۔ ہمارے لئے خوشی کا امر ہے کہ خواتین سیاستدانوں کے ہاتھ نسخہ کیمیا آگیا ہے اور ایسا بحر بے کنار ہے جس میں جتنا نہا لو نہ دل بھرتا نہ نیت لیکن ایک طرف اتنی دولت کی فراوانی ہے تو دوسری طرف عورتوں کی اکثریت مسلسل عذاب میں ہے۔ کھانے کو روٹی نہیں، پہننے کو کپڑا نہیں، سر پر چھت نہیں اور مستقبل کا پتہ نہیں۔ اسی ملک کی سیاسی خواتین اگر 99 فیصد امیر ہیں تو اسی ملک کی 60 فیصد خواتین غربت مہنگائی اور تشدد کا شکار ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے اس ملک میں عورتیں 52 فیصد اور مرد 48 فیصد ہیں۔ ان 52 فیصد میں سے اکثریت مظلوم دکھیاری بے بس لاچار ہے۔ اخبارات روزانہ ایسی دل دہلا دینے والی خبروں سے لبریز ہوتے ہیں جن میں عورت کی بے حُرمتی بے چارگی اور کسپمرسی کی ہولناک کہانیاں ہوتی ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا عورتوں پر ہونیوالے ظلم و تشدد کے دلخراش مناظر دکھاتا ہے لیکن خواتین ارکان اسمبلی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ان خواتین کو عورت کی نمائندگی اور حقوق حاصل کرنے کیلئے اسمبلیوں میں بھیجا جاتا ہے لیکن اسمبلیاں عورتوں سے کھچا کھچ بھری ہونے کے باوجود کبھی اپنی صنف کیلئے آواز نہیں اٹھاتیں۔ آج تک عورتوں کیلئے کوئی مئوثر قانون، کوئی پائیدار لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا۔ (جاری ہے)