سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کانفرنس کا منظر

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور میں منعقدہ اپنی کانفرنس کے دوسرے روز بھی پنجاب کے تمام بچوں کو سکول میں داخلہ لینے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کرنے اور تمام بچوں کی تعلیم و تربیت و تدریس کے انتظامات کے باب میں مدعو شخصیات کے خیالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ہم نے اس کانفرنس کے دوسرے روز کھانے سے پہلے منعقد ہونے والے دو سیشن اٹینڈ کئے جن میں سے چائے کے بعد اور کھانے سے پہلے کا سیشن تو پروگرام کے مطابق میڈیا کے ساتھ انٹر ایکشن کے لئے رکھا گیا تھا مگر یا تو میڈیا کی شخصیات کو مدعو کرنے میں تساہل سے کام لیا گیا یا پھر پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا کی شخصیات نے اس کانفرنس میں شرکت ہی سے گریز کیا مگر ہر صورت کا نتیجہ وہی تھا کہ میڈیا کے صرف دو تین عالی دماغ وہاں موجود تھے تاہم ان سے معلومات حاصل کرنے اور میڈیا کی ترقی و فروغ میں اپنی تجاویز کا اثاثہ شامل کرنے کے باب میں ایسے شرکائے مجلس نے گہری دلچسپی لی جو اصولاً پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا کا کوئی ضابطہ اخلاق ضرور ہونا چاہئے اور اگر وہ ضابطہ اخلاق موجود ہے تو اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جانا چاہئے کیونکہ پاکستان میں اخبارات تو پہلے ہی وافر تعداد میں موجود ہیں اور قوم و وطن کی خدمات سرانجام دینے کے میدان میں اپنا مقام بھی رکھتے ہیں صرف الیکٹرانک شعبے میں ایک طویل مدت تک صرف پاکستان ٹیلی ویژن نے سارا بوجھ اٹھایا مگر اب جبکہ ٹیلی ویژن چینلز کی بھی بہتات ہو چکی ہے وہ بھی دیکھنا ہو گا کہ فلاح و بہبود کی خواہشات کے ضمن میں نشریاتی معیار بھی متاثر نہ ہونے پائے اور اینکرز بہتر تعلیم و تربیت سے لیس ہو کر ٹیلی ویژن چینلز کے پروگرام کے ذریعے اپنے ناظرین کی فکری تعمیر میں حصہ لیں اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تعلیمات و ہدایات کا فروغ کرنا اپنا فرض اولیں گردانیں ۔ شرکائے کانفرنس نے اس حقیقت کا ادراک کیا کہ پاکستان کے قیام کے بعد اہل پاکستان کو جو معرکہ آراء کارنامے سرانجام دینا چاہئیں تھے وہ سرانجام نہیں دئیے گئے ہیں اور آج ہم اپنے کارناموں کی کوئی ایسی فہرست تیار نہیں کر سکتے ہیں کہ دنیا اس فہرست کو دیکھ کر بین الاقوامی برادری میں ہمیں کوئی معرکہ آراء قوم تصور کرے۔ میڈیا سے انٹر ایکشن کے دوران جب مختلف مقررین سوالات کے انداز میں ان خیالات کا اظہار کر رہے تھے تو اس وقت محکمہ تعلیم کا کوئی سیکرٹری یا کوئی اور بڑا افسر موجود نہیں تھا گویا میڈیا کا سامنا کرنے سے لوگ گریزاں رہے تاہم اس کانفرنس کا بنیادی مقصد سکولوں کی سطح پر تعلیم و تدریس کے معیار کا جائزہ لینا ہی تھا اور ’’شرکائے کانفرنس‘‘ کو ایجوکیشن پالیسی اینڈ پلاننگ کے عنوان سے ایک سی ڈی بھی دی گئی اور جو دیگر لٹریچر فراہم کیا گیا اس میں واضح کر دیا گیا کہ قوم کی فکری و اقتصادی ترقی اور قوم و وطن کی تعمیر و ترقی میں ہر فرزند پاکستان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہر بچے کو پاکستان کا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری بنا دینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر نہ تو کوئی انسان اپنی زندگی کو حالات کے جدید تقاضوں کے سانچے میں ڈھال سکتا ہے اور نہ ہی ملت پاکستان اپنے اس عظیم مقصد کی طرف آگے بڑھ سکتی ہے جو بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کا مقصود تھا بہرحال مجموعی طور پر سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی وہ کانفرنس نہایت مفید ثابت ہوئی اور وسیع پیمانے پر ان شخصیت سے مشاورت کا موقع نکالا گیا جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے بھی متعلق تھیں۔ اس کانفرنس کی کامیابی میں یونیسف نے بھی اپنا اہم کردار ادا کیا۔