تم عمل کیلئے انتظار کرتے رہو

کالم نگار  |  عامرہ احسان

دہشت گردی کیخلاف جنگ کا ناٹک رچاتے دس سال ہو چکے۔ اب محاورۃً اور عملاً پانی سر سے گزر چکا ہے۔ بہتر ہوگا کہ سٹاک ٹیکنگ کر لی جائے اس سے پہلے کہ تمام اثاثے کھو بیٹھیں۔ یہ جنگ اصطلاحات کی جنگ تھی‘ جس کی ہر اصطلاح دجل فریب، ملمع کاری اور جھوٹ کو بلند بانگ نعروں کی شکل میں میڈیا سے چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر کانوں میں پھونکنے سے معتبر ٹھہری‘ اس فریب کو زبردست پیکنگ، ریپنگ میں اشتہاروں کی طرز پر چلا کر جھوٹے مناظر دن رات آنکھوں میں اتار کر، زبانوں پر چلا کر اعتبار بخشا گیا۔ خانۂ خالی را دیو می گِرد۔ (خالی گھر میں بھوت قبضہ کر لیتے ہیں) کے مصداق ’’وہ قوم جو قرآن سے خالی بے نور سینے لئے بیٹھی تھی، اس پر دہشت گردی کے بھوت نے قبضہ کر لیا۔ دل دماغ اس فریب کو قبول کر بیٹھا۔ لارڈ میکالے کے نصابِ تعلیم پر پلی بڑھی دو نسلیں جوانی گزار چکیں۔ تیسری، چوتھی نسل اب یو ایس ایڈ کی آبیاری اور او لیول‘ اے لیول پڑھ کر اپنی شناخت، اپنا شاندار ماضی، اقدار، اخلاق، روایات سے کلیتاً عاری اس کیفیت میں پلی ہے کہ دنیا تو ملی طائر دیں کر گیا پرواز! تعلیم کے تیزاب میں اس قوم کی خودی کو ڈالا گیا اور ملائم کر کے کفر کے آگے سربسجود کروا دیا گیا۔ یقین نہ آئے تو غلامی کے بدترین مظاہر یہ دیکھئے کہ عافیہ کی حوالگی اور سزا پر آقائوں کے حق میں اٹھتی آوازیں اور سیکولر مغرب زدہ طبقے کے مضامین سن پڑھ لیجئے۔ فرانس میں نقاب پر پابندی پر خود مسلمان مرد و زن قرآن کی آیات سے کھیلتے مغربی آقائوں کے مذہبی جنون کے زقوم کو پانی دیتے نظر آرہے ہیں۔ اسلام کیخلاف ہرزہ سرائی، شانِ رسالتؐ کے گستاخ، جھوٹی نبوت کے چھوٹے کیڑے مکوڑے نما دعویدار نکلتے چلے آرہے ہیں جو رنگ، روپ، نسل زبان میں ہمارے ہم رنگ اصلاً غلامی کی اسفل ترین قسم سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ فرنگی نفس مسلمان جن کے نوحے پڑھتے اقبالؒ رخصت ہوئے۔
یہ نہ جانتے ہوئے کہ انکے دور میں جو زہر رگ و پے میں تعلیم بنا کر اتارا جانے لگا تھا اور وہ پکارتے رہ گئے‘ دل بدل جائینگے تعلیم بدل جانے سے۔ وہ دل اس حد تک بدل گیا کہ قرآن کو اقبالؒ کی طرح آنسوئوں سے تر کر کے پڑھنے والوں‘ نبیﷺ کے نامِ نامی پر ہچکیاں بندھ جانیوالوں کی نسل سے وہ لوگ اٹھیں گے جو قرآن سوزی اور محمدؐ کے خاکے اڑانے والوں کے فرنٹ لائن اتحادی بن کر اہلِ ایمان کے اُس گروہ کا شکار کرینگے جو اپنی اصل کے اعتبار سے سید احمد شہیدؒ کے قافلے کی سی ایمان کی خوشبو میں بسی دیوانگی لے کر اٹھے۔ جس قافلے کو اقبالؒ تلاش کرتے رہے۔ کونسی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہے …’’ عشقِ بلاخیز کا قافلۂ سخت جاں‘‘ وہ قافلۂ سخت جاں‘ اُن کی خوابوں کی تعبیر سرزمین کو اقبالؒ اور بابائے قوم کا ورثہ سمجھ بیٹھا تو ہم نے اقبالؒ کا یہ شعر اُن پر آزما ڈالا …
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے ...... قبا چاہئے اس کو خونِ عرب سے
لہٰذا ہم نے خیاباں کو گل رنگ کر دیا خونِ عرب سے۔ نبیٔ عربی محمدﷺ کے عالی نسب امتی، دہلی کے سیدزادے مشرف نے کوڑیوں کے مول بیچ ڈالے یا قوم کو اُنکے شکار پر لگا دیا۔ بند کریں اب ’’دہشت گردی‘‘ کی خون آشام بلا کا یہ ڈھنڈورا۔ گورے کے نزدیک ’’دہشت گردی‘‘ اصلاً جہاد ہے‘ جس پر کتاب اللہ کی 485 آیات نازل ہوئی ہیں۔ دہشت گرد‘ مجاہد فی سبیل اللہ ہے جو دجّالی کافر (نیو کونز اور ان کو حواری‘ موالی) کی جان کا لاگو ہے۔ جس کی تکبیر ان کیلئے آگ کا اثر رکھتی ہے۔ اُس سے نمٹنے کو جب یہ دنیا بھر کے صلیبی ممالک یکجا ہو کر چلے تو اس بارات میں ہم احمق بنے دیوانے آگے آگے ڈھول پیٹتے ہو لئے۔ دہشت گردی، دہشت گرد۔! کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جسے کافر ’’دہشت گرد‘‘ کہتا ہے اُسکا حلیۂ صد فی صد وہی ہوتا ہے جو نبی کریمﷺ کی سنت ہے اور جو صحابہ کرام (رضوان اللہ اجمعین) کے طریقے پر ہے؟ جو عارض و رخسار اور زلفِ گرہ گیر کی اسفل اسیری سے آزاد اونچی اڑان والا‘ قصرِسلطانی کے گنبد کو خاطر میں نہ لانے والا ہے‘ جس نے اقبالؒ پڑھ کر پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنا چاہا تو ہم نے کفر کیساتھ مل کر اسکا شکار کھیلا۔ اگر دہشت گردی کی ہر اصطلاح ڈی کوڈ کر سکیں تو یہ ناپاک لیبل اس جنگ سے نکل کر وادی‘ وادی‘ ملک ملک پھرے گا‘ کارگل سے لیکر جنگِ ستمبر تک کے شہداء پر چسپاں ہوگا‘ عزیز بھٹی شہید کی قبیل کے شہدأ بھی دہشت گرد ہی کہلائیں گے‘ وہاں سے نکل کر تاریخ کا سفر کریگا۔ سّید احمد شہیدؒ کے قافلے کو دہشت گرد ٹھہراتے ٹھہراتے نشانِ حیدر والے سیدنا علی مرتضیٰؓ فاتح خیبر تک پہنچے گا۔ قافلۂ محمدﷺ پر نعوذ باللہ ‘ خاکم بدہن ثبت ہو گا۔ یہ گالی ہم نے دس سال بکی ہے۔ بلکہ اسکی جگالی کی ہے۔ قرآن نے ہمیںکفر کے دلوں میں ہیبت‘ خوف اور رعب و دہشت ڈالنے کا ہی حکم دیا ہے تاکہ اللہ کیساتھ حضرت عیسیٰؑ ‘ حضرت عزیر کو شریک ٹھہرانے والے‘ اور ہمہ نوع شرک کی گندگیوں میں لتھڑے ہوئے ہندو ہم پر غالب نہ آسکیں۔ اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُنکے مقابلے کیلئے مہیا رکھو تاکہ اسکے ذریعے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ (انفال۔ 60)
ہمارے ایٹم بم سے خوفزدہ‘ صلیبی دانت پیستے ہوئے دجالی مکروفریب لئے ہمارے درپے ہوئے۔ انکی اقتداء میں ہمارا کمانڈو (کفر کے دل پر لرزہ طاری کرنیوالی) حکم ربی ّکے تحت حاصل کردہ اس قوت کے خالق کے درپے ہو گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نشانِ عبرت بنا دیا۔ اگر جمالی وزیراعظم آڑے نہ آتے تو ڈاکٹر صاحب بھی ڈاکٹر عافیہ کی طرح قیدی نمبر 651 بنے پڑے ہوتے اور یہ کمانڈو تنہا سارے گناہ تو نہیں سمیٹے گا۔ دہشتگردی کا نقارہ پوری قوم نے بجایا ہے۔ حتیٰ کہ دینی جماعتوں نے بھی خون کے چھینٹے اڑتے دیکھ کر دامن سمیٹے۔ دہشت گردی کی گالی جہاد کو دی جائے تو اسے برداشت کر لینے سے بڑھ کر ’’لبرل‘‘ ہونا اور کیا ہوگا! ڈرون حملوں کے ذریعے ہم نے خیاباں کی بہار کا سامنا کیا! ہمارے اڈے حاضر‘ ہماری مخبری، حکومتی اجازت کا پروانہ موجود۔ صدر کا فرمان۔ ڈرون حملوں سے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوتی‘‘۔
اسکے بعد میڈیا کا آرام سے خبر دے دینا ’’جرمن دہشت گرد مارے گئے‘‘۔ اس خبر کا سلیس اردو میں اصطلاح کھول کر ترجمہ کر لینے دیجئے۔ یعنی جرمنی۔ یورپ کے ملکوں میں سے ایک‘ جہاں انسانوں کی گودیں کتوں بلیوں سے آباد ہوتی ہیں۔ حادثے کے طور پر بچے پیدا ہو جائیں تو برداشت کرنے پڑتے ہیں (شرحِ پیدائش کے گرتے ہوئے اعدادوشمار دیکھئے)۔ یہ بچے جس گھر میں پلیں بڑھیں وہ پانچ قسم کو ہو سکتے ہیں (1) ایک شوہر اور بیوی پر مشتمل (اس کا امکان بہت کم ہے) (2) دو مردوں پر مشتمل جن میں سے ایک ماما اور ایک پاپا قرار پاتا ہے (انکی گود میں بچہ کہیں اور سے حاصل کردہ ہے) (3) دو عورتوں پر مشتمل جن میں سے ایک ماں اور ایک باپ قرار پاتی ہیں۔ (یہ بچہ بھی باہر سے حرام میں کما کر لایا جاتا ہے) (4) سنگل پیرنٹ ہوم۔ تنہا بیچاری عورت جو مختلف بوائے فرینڈز کے دیئے تحفے مامتا کے ہاتھوں پالنے پر مجبور ہے۔ (5) فوسٹر پیرنٹ۔ یعنی لاوارث بچے کے مصنوعی والدین جو انسانی ہمدردی یا مذہبی احساسات کی بدولت بچے گود لے لیتے ہیں‘ ان گھروں میں پلنے والے، جرمن میڈیا اور نظامِ تعلیم کے گھونٹ بھرتے انسان کی تشنہ روح وعدۂ الست (سورۃ اعراف) کی آبیاری کیلئے، روح کی پیاس لئے العطش، العطش (پیاس‘ پیاس) پکارتی ماری ماری پھرتی ہے۔ اسکا معاشرہ قرآن جلا رہا ہے۔ محمدﷺ کی شانِ اقدس پر کیچڑ اچھال رہا ہے۔ صلیبی جنون چہار جانب طاری ہے۔ ایسے میں وہ کس درجے سعید روحیں ہیں جو ہزاروں پردوں میں چھپائے اور بدترین اصطلاحوں سے تھوپے اسلام کو ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ اور کلمۂ لا الہ الا اللہ پڑھ کر امتِ مسلمہ میں داخل ہو جاتی ہے۔ (یہ معجزے سے کم نہیں) کا کردار زمین پر تلاش کرتی ہیں تو کیا کیجئے کہ سورۃ توبہ ، سورۃ انفال ، سورۃ محمد اُسے اُس میدانِ کارزار کی طرف لے جاتی ہیں جو مثل غزوۂ احزاب ہوا پڑا ہے۔ ساری دنیا کا کوئی کفر غزوۂ احزاب کی مانند یکجا ہو کر اسلام مٹا دینے کے درپے ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ، اسکے وجۂ وجود سے متاثر ہو کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا رُخ کرتے ہیں یہ جرمن نومسلم اپنے نوبہ نو خوبصورت خالص اسلام کو لئے پہاڑوں پر بسیرا کرتے شاہینوں کی بستی میں پہنچے۔ اب یہ کون لوگ ہیں؟ یہ تو درآمدات میں سے سب سے ارزاں امپورٹ شدہ امریکی اصطلاح (قرآن بند رکھئے) کیمطابق ’’جرمن دہشت گرد‘‘ ہیں۔ ’’اسلام ترا دیس ہے تو مصطفویؐ ہے‘‘ کا اقبالؒ والا ترانہ گویّے کو گانے دیجئے وہ یہاں منطق نہیں ہوتا۔ وہ دور لد گیا جب ہم نے جرمن نسل کے علامہ اسد (لیوپولڈ اسد) کو پاکستانی شہریت دیکر حکومت کا مشیر مقرر کیا تھا!) لہٰذا اب جرمن دہشت گرد تو بالکل درست (Valid) ٹارگٹ ہے۔ اسے جرمنی میں گرل فرینڈ، شراب، جنسی آزادی میسر تھی۔ یہ یورو چھوڑ کر پہاڑوں کی مٹی کھانے کیوں آیا۔ ہم نے پاکستان کی سرزمین اسکے خون سے لالہ زار کر کے خبر لگا دی۔ ’’جرمن دہشت گرد مارے گئے‘‘۔ شاباش پاکستان‘‘
اگر ہم نہ رُکے تو قوم لیفٹ رائٹ کرتی لشکرِ دجّال کا حصہ بننے کو انجانے میں چلتی چلی جائیگی۔ یہاں تک کہ (معاذ اللہ) بدترین غائب‘ حاضر ہو جائے یا کڑوا گھونٹ حلق سے اتر جائے۔ اللّھم اعا ذنا من ذلک۔