اعلیٰ عدلیہ کیخلاف سیاسی صف آرائی کیوں ؟

آتش گل ۔۔ رانا عبدالباقی
گذشتہ اتوار ، حکومت اور عدلیہ کے درمیان ممکنہ تصادم کی کیفیت کے پس منظر میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا قوم سے خطاب عوامی سطح پر اعلیٰ عدلیہ پر ریاستی دبائو بڑھانے کے پس منظر میں ہی دیکھا گیا ہے۔گو کہ اِس خطاب سے دو روز قبل اعلیٰ عدلیہ کی آئینی حیثیت پر ریاستی ہٹ دھڑمی کا مظاہرہ کرنے پر 17 رکنی متفقہ فل کورٹ کے فیصلے میں حکومتی نوٹیفیکیشن کی نام نہاد واپسی کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت تمام آئینی اور انتظامی اداروں کو سپریم کورٹ کی آئینی حیثیت کے بارے میں پابند کر دیا گیا تھا ۔ چنانچہ عوامی سطح پر یہی سوالات قائم کئے جا رہے ہیں کہ کیا سپریم کورٹ کے فل کورٹ فیصلے کے بعد محترم وزیراعظم کی سیاسی اتحادیوں کی معیت میں قوم سے ایسے کسی خطاب کی ضرورت باقی رہ گئی تھی ؟
بہرحال ، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بدلتے ہوئے سیاسی ماحول میں اتحادی سیاسی رہنمائوں کی موجودگی میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا اور قیامِ پاکستان کیلئے تحریک پاکستان کے تاریخی چیلنج میں قائداعظم کی سرخروئی کے حوالے سے موجودہ حکومت کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آج اُنہیں بھی قائداعظم کے پاکستان کی تعمیر کا چیلنج درپیش ہے ۔ تعمیر پاکستان کے حوالے سے محترم وزیراعظم کا یہ کہناتو درست ہے کہ آج بھی تاریخ لکھی جا رہی ہے اور مورخ واقعات کو جمع کر رہا ہے لیکن محض یہ کہنا ہی کافی نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم نے اپنے سیاسی اتحادیوں کی موجودگی میں عوام الناس کو نہ تو تعمیر پاکستان کے حوالے سے کوئی با معنی پروگرام دیا اور نہ ہی یہ بتانے کی زحمت گوارا کی کہ وہ اُوپر سے نیچے تک ریاستی کرپشن زدہ مشینری کو کس فارمولے کے تحت فعال بنانا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم نے تاریخ کا تذکرہ کیا ہے تو وہ تاریخ کے اِس عمل کی بابت یقینا جانتے ہونگے کہ تاریخ سبق سکھاتی ہے اور اصلاحِ احوال کیلئے موقع بھی فراہم کرتی ہے لیکن قومی اصلاحِ احوال اور ریاستی اداروں میں کرپشن اور اقربا پروری کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درامد میں ریاستی ناکامی کا تذکرہ اُنکے خطاب میں کہیں موجود نہیں تھا چنانچہ ، ملکی اشرافیہ اور سول سوسائٹی نے سیاسی اتحادیوں کے ہمراہ وزیراعظم کے اِس ہائی پروفائل خطاب کو حکومت کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کیخلاف سیاسی صف آرائی سے ہی تعبیر کیا ہے ۔علاوہ ازیں ، محترم وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کرپشن اور اقربا پروری کے خاتمے کیلئے قوم کو اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درامد کی یقین دہانی کرانے کے بجائے عدالتی فیصلوں پر عدلیہ سے لایعنی مشاورت کے ذریعے معاملات طے کرنے کی بات کی جو آئین اور قانون کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کی دانش سے بالاتر ہے۔
دوسری جانب اُنکے خطاب سے قبل، وفاقی وزیر قانون اور پیپلز پارٹی کے چند دیگر رہنما اپنے بیانات میں ذومعنی انداز میں کیوں اعلیٰ عدلیہ کو اپنی زبانی موشگافیوں کا نشانہ بناتے رہے حتیٰ کہ ایک ممتاز قانون دان اور پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر عبدالحفیظ پیرزادہ کو برسرعام یہ کہنا پڑا کہ عدالت عظمیٰ کو مسلسل توہین کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن عدالت نے بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پانچ چھ ججوں نے اٹارنی جنرل سے بار بار پوچھا کہ کیا ہم وزیراعظم کے نوٹیفیکیشن کے ذریعے یہاں بیٹھے ہیں یا آئین کے تحت بیٹھے ہیں لیکن جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی وزیراعظم نے کچھ کہا ، لہٰذا فل کورٹ نے آرٹیکل 190 کے تحت احکامات جاری کئے ہیں اور تمام ادارے اِس فیصلے کے پابند ہیں ۔
اُن کا کہنا تھا کہ عدلیہ سے متعلق جس نوٹیفیکیشن کی مبینہ طور پر واپسی کی بات کی جاتی رہی ہے وہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت قابل سزا ہے جو شدید غداری کے زمرے میں آتا ہے ۔
مندرجہ بالا تناظر میں عوام الناس اور دانشور اُس وقت حیرت زدہ ہو جاتے ہیں کہ جب ڈھائی برس تک اقتدار کے ایوانوں میں متحرک ہونے کے باوجود محترم وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ:
’’ آج میں منتخب عوامی نمائندوں کیساتھ آپکے سامنے موجود ہوںاور آپ تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی ترجیحات پر نئے سرے سے غور کر رہے ہیں ، عوام کیلئے انصاف ، معاشی مواقع کی فراہمی اور جان و مال کا تحفظ ہماری پہلی اور آخری ترجیح ہے‘‘۔
یہ کیسی ترجیح ہے کہ عدالتی فصلوں پر عمل درامد سے گریز کیا جا رہا ہے؟ جنابِ وزیراعظم جب آپ خود ہی بظاہر ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی ترجیحات پر نئے سرے سے غور کر رہے ہیں تو پھر ایوان صدر کی غلام گردشوں میں سجے کرپشن کے جھومرکی تصدیق یا تردید کیلئے سوئس کورٹس کو خط لکھنے میں کیا اَمر مانع ہے؟
جناب عالی ، آپ درست فرماتے ہیں کہ تاریخ واقعات کا تسلسل ہے لیکن تاریخ وعدوں اور معاہدوں کی ناپاسداری اور آئینی ذمہ داریوں سے انحراف کا ریکارڈ بھی ہے لہٰذا ، قول و فعل کے تضاد اور کرپشن و بدعنوانی سے پاک تعمیر پاکستان کے حوالے سے آپ کی نئی ترجیحات کی کارکردگی کا فیصلہ بھی مستقبل کا مورخ ہی نہیں بلکہ آج کے جیتے جاگتے عوام بھی کرینگے ۔ جناب وزیرا عظم آپ نے عظیم قائد ، محمد علی جناح کے پاکستان کے حوالے سے گفتگو کی ہے تو پھر آپکو اِس اَمر کا بخوبی علم ہونا چاہیے کہ قائداعظم ، پاکستان میں کرپشن ، بدعنوانی ، سفارش ا ور اقربا پروری سے پاک معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے جبکہ ملک میں کرپشن اور اقربا پروری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے کے بغیر آپ کا قوم سے خطاب نامکمل ہی نظر آتا ہے ۔ راقم آپ کی توجہ قائداعظم کے دستور ساز اسمبلی سے 11 اور 14 اگست 1947 کے خطابات کے درج ذیل اقتباسات کی جانب مبذول کرانا چاہے گا جس پر عمل درامد کرکے ہی آپ تعمیر پاکستان کے ویژن کو ممکن بنا سکتے ہیں:
(1) رشوت و بدیانتی بّرصغیر کی بد ترین خرابیاں ہیں جو زہر کی مانند ہیں جنہیں آہنی ہاتھوں سے کچلنا ہوگا ۔ 11 اگست 1947۔
( 2 ) اچھی اور بُری دیگر چیزوں کیساتھ خیانت منصبی اور اقربا پروری کی لعنتیں بھی ہمارے حصے میں آئی ہیں ، ہمیں اِن بُرائیوں کو بے دردی سے کچل دینا چاہئیے ، میں اِس اَمر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ خیانت منصبی اور اقربا پروری ، بالواسطہ یا بلاواسطہ ، مجھ پر اثر ڈالنے کی کسی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کرونگا۔ 14 اگست 1947۔ جنابِ وزیراعظم سوچیں کہ آپ کے بیان کردہ چند اداروں کی تنظیم نو مارچ میں کابینہ کے فیصلوں کے باوجود عمل کے پروسس سے گذرنے سے کیوں محروم ہے اور کیا مطلوبہ تعلیمی معیار اور استعداد سے محروم یا کرپشن میں اَٹے ہوئے چہروں کی اہم اداروں میں تعیناتی تعمیر پاکستان کے مقاصد پورے کر سکتی ہے یا ایسے عاقبت نا اندیشانہ فیصلے اہم اداروں کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں ؟
حقیقت یہی ہے کہ دنیا بھر کے مورخ اور سیاسی و سماجی دانشور اِس اَمر پر متفق ہیں کہ ہر معاشرے میں سفارش کنبہ پروری ، بدعنوانی اور کرپشن کے جراثیم موجزن ہوتے ہیں لیکن جدید جمہوریتیں بدعنوان عناصر سے سختی سے باز پُرس کرتی ہیں کیونکہ حکمرانوں ، سیاسی رہنمائوں اور ریاستی اداروں کی اہم شخصیات کے چہرے پر لگی کرپشن کی کالک کو جدید دنیا برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ، جس کی مثال دنیا میں کئی سیاسی شخصیتوں کی عدالتوں میں حاضری اور منصبوں سے شرمناک علیحدگی کی شکل میں موجود ہیں ۔
چنانچہ ، دنیا بھر کے شہرہ آفاق تاریخ دان اور سیاسی دانشور یہی کہتے ہیں کہ جب کسی بھی معاشرے میں کرپشن اور بدعنوانی حکمرانوں اور ریاستی اداروں کا وطیرہ بن جاتی ہے اور حق و انصاف کے داعیوں کی زبان رقومات کی تقسیم یا ریاستی شدت پسندی سے خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر اِن منفی اثرات کے ردعمل سے ریاستی در و دیوار بھی لرزنے لگتے ہیں اور اگر اِن ریاستی اور انتظامی برائیوں کا بروقت قلع قمع نہ کیا جائے تو مملکتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر مٹ جاتی ہیں ۔
ممتاز تاریخ دان اور سیاسی دانشور ، کرپشن کیساتھ ساتھ کنبہ پروری اور سفارش کو ایک وسیع تر معاشرتی بُرائی سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ آئین اور قانون میں دئیے گئے معیار ، ریاستی سٹیٹ کرافٹس اور بزنس رولز کی خلاف ورزی اورنتیجتاً پیدا ہونیوالی تہذیبی گراوٹ کے باعث ایسے ہی قبیل کے لوگوں کا ریاستی اداروں کا سربراہ بن جانا مقتدر اداروں کی تباہی کی شکل میں ظاہر ہو کر مملکت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے لہذا ، حکومتِ وقت کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ عدلیہ کے خلاف صف بندی کرنے کے بجائے عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرامد کرتے ہوئے بگڑتی ہوئی انتظامی ، معاشی اور سیاسی صورتحال کی اصلاح کرنے پر توجہ کرے کیونکہ اِس کی ضرورت مسلمہ ہے ، بقول اقبال... ؎؎
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا