آہ عروس البلاد کراچی

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

کراچی جو ایک شہر تھا، امن کا، ترقی کا، خوشحالی کا صنعت و حرفت کا، آج ایک بار پھر خون میں نہایا ہوا امن و امان کو ترستا ہے۔ اس کی ذمہ داری کیا حکومت پر نہ ڈالی جائے تو سمندر کے پانیوں کو اس کا باعث قرار دیا جائے۔ کسی بھی حکومت کا اولین فریضہ شہریوں کو امن فراہم کرنا ہے مگر جب حکومت ہاتھ کھڑے کر دے تو اسے حکمرانی سے بھی ہاتھ دھو لینے چاہئیں یہ ٹارگٹ کلنگ جو مسلسل جاری ہے اور عروس البلاد کراچی شہرِ خموشاں بن چکا ہے۔ آخر اس کا بھی کچھ علاج اے چارہ گراں ہے کہ نہیں! یہ ناقص حکمرانی ہے کہ ملک چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے۔ خدا جانے پاکستان کی کتنی دشمن قوتوں کے ایجنٹ اس میں داخل ہو رہے ہیں اور دام ہم رنگ زمیں بچھا کر یہاں کے معصوم لوگوں کو موت کی وادی میں دھکیل رہے ہیں۔ را، موساد، سی آئی اے، بلیک واٹر یا پھر اپنے جو بیگانے بن گئے ہیں۔ کراچی میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ پولیس صرف باوردی افراد کا نام ہے، وہ نہ کسی کو روکتی ہے نہ ٹوکتی ہے کم از کم حکومت سندھ کو تو اپنی اس کھلی ناکامی پر مستعفی ہو جانا چاہئے۔ صدر صاحب کراچی جو ان کا اپنا شہر ہے اسے کیوں پرامن نہیں بنا سکتے۔ اس سے مرکزی حکومت کی ناکامی بھی سامنے آ جاتی ہے اگر وزیر داخلہ رحمان ملک کو کراچی میں امن قائم کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ تو پھر کراچی کا اللہ کا ہی حافظ ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ بیرونی ملک دشمن سیاسی پارٹیوں میں شامل ہو کر یہ ظلم ڈھا رہے ہیں تو پھر بھی یہ بات تو واضح ہے کہ ہمیں ہی ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا حکومت ان تمام بیرونی ایجنسیوں کے نیٹ ورک کو توڑ نہیں سکتی۔ یا یہ بھی امریکہ کی حکم عدولی ہو گی۔ جب سے پاکستان نے اپنی خود مختاری پر سودا کر لیا ہے۔ کراچی کے حالات خراب ہو گئے ہیں۔ جس شہر میں بچہ بستہ اٹھا کر سکول نہ جا سکے کیا وہاں کی حکومت کو حکمرانی کا حق حاصل ہے۔ سارا ملک تو آگ میں جل ہی رہا تھا کہ کراچی بھی بھسم ہو گیا۔ وقفے وقفے سے لاشیں گر رہی ہیں۔ الطاف بھائی لندن سے قرآن خوانی کی اپیلوں کے بجائے خود کراچی آ کر حالات کو سدھاریں۔ یہی وہ مشکل کی گھڑی ہے کہ ان کے پیارے شہر کراچی کو ان کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن اور حکومت مل جل کر بیٹھیں اور کراچی کو بچا لیں۔ ائر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اجلاس کرتے چلے جانے سے کیا گولیاں چلنی بند ہو جائیں گی؟ ہمارا ازلی دشمن بھارت، ہمارے ہاں امن و امان کو تباہ کرکے ہی ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے۔
جب تک ہم غیروں کی آمد کو اور ان کے یہاں پائوں جمانے کو نہیں روکتے، ہم کراچی میں امن قائم نہیں کر سکتے کیوں کہ ساری غلاظت اسی آمد و رفت اور خودمختاری کو دائو پر لگانے کے سبب ہے۔ کراچی کے مقامی رسہ گیر اور بھتہ خوروں یا نسلی و لسانی اختلافات کے نتیجے میں یہ ہر روز بیسیوں اہل وطن قتل کئے جا رہے ہیں تو اس سے نمٹنا کوئی مشکل نہیں۔ جو بات وطن سے باہر بیٹھ کر کی جا رہی ہے وہ وطن آ کر کی جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ یہ بالکل درست ہے کہ اس وقت کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں مگر اس کا علاج تجویز کرنا بھی تو ضروری ہے تاکہ قصہ زمین برسرِ زمین طے کر لیا جائے۔ وزارت داخلہ کے افلاطون کو یہ تک پتہ نہیں چل رہا کہ گولیاں کہاں سے آ رہی ہیں تو پھر رخصتی لیں اور یہ کام کسی ایسے کے سپرد کر دیں جو یہ پتہ چلا سکے کہ آخر اس سارے فساد کی جڑ کہاں اور کون ہے تاکہ اسے اکھیڑا جا سکے۔ کراچی جیسا شہر ویرانہ بن چکا ہے اور اگر کوئی باہر بھی نکلتا ہے تو مرنے یا مارنے کے لئے۔ آخر یہ سب کچھ کیونکر حکومت برداشت کر رہی ہے اور لوگ بھی دبکے ہوئے ہیں۔ اگر کراچی میں امن قائم نہیں ہوتا تو یہ سلسلہ کراچی تک نہیں مزید آگے پھیلتا جائے گا اور بھارت اپنی دھمکیاں کیش کرانے کی پوزیشن میں ہو گا۔ حکومت کا امتحان ہے۔ اب اسے صرف پاس یا فیل ہونا ہے۔ اگر فیل ہوتی ہے تو پھر کرسی خالی کرے شاید اس کے نہ ہونے سے ہی امن آ جائے۔