آواز نہیں آ رہی !

کالم نگار  |  خالد احمد

ابھی بات چلی تھی، نہ لڑکے والوں نے لڑکی کی شکل دیکھی تھی، نہ لڑکی والوں نے لڑکے کی سیرت پر نگاہ ڈالی تھی، مگر ’ممکنہ دولہا‘ اور ’ممکنہ دلہن، کے عزیز و اقارب کی طرف سے ’آپاں پینو‘ ہر پر پہلے ’قبضہ‘ کر لینے کی مہم سرگوشیوں میں چل نکلی تھی! ہر طرف ایک ہی غلغلہ برپا تھا ’آپاں پینو نوں ضرور سدھنا جے! اَوہ گِدّا بڑا سوہنا پاندے نیں!‘
آپا پینو مٹھائی بانٹتے بانٹتے ہم تک پہنچیں تو معلوم ہوا کہ لڑکے اور لڑکی کی بات طے پا گئی ہے، مگر ہمیں یہ معلوم کرنے کی مہلت ہی نہ ملی کہ آپا پینو کس طرف سے آئی تھیں! یوں بھی مٹھائی کے ٹوکرے پر نگاہ ہو، تو، یہ جاننا ضروری نہیں رہ جاتا کہ یہ کدھر سے آئی ہے؟ حتیٰ کہ کوئی ایسا ’وضاحت آزما‘ سوال کرنا بھی تہذیب کے خلاف سمجھا جاتا ہے!
آپا پینو دس بچوں کی والدہ تھیں، مگر شادی بیاہ کی رسموں میں کچھ اس دھڑلے کے ساتھ شریک ہوتیں کہ ’’گُڈیاں دا کٹھ سے چڑیاں دا چنبہ‘ کی کہاوت سچ کر دکھاتیں! چڑیوں کے ساتھ چڑیوں کی طرح چہکتیں اور گڑیوں کی طرح ناچتیں گاتیں اور زندگی کے میلے کا رنگ بن جاتیں!
مہنگائی کی سنگینی گرفت میں دم توڑتی رنگین خواہشات آخری لمحات میں بھی مٹھائی بنتے دیکھ کر ایک بار تو نئے سرے سے جی اٹھتی ہیں! کیونکہ یہ عمل ’زندگی کے تسلسل‘ کی علامت ہوتا ہے! اور زندگی کا تسلسل خواہشات کے تواتر کا پیام بر ہوتا ہے!
قاضی محمد انور نے ڈاکٹر بابر اعوان سے دس لاکھ کا چیک قبول کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا تو معاملات الجھا کر جینے کا سامان کرنے والوں کی بھی بن آئی! کسی کو یاد نہ آ پایا کہ یہ چیک ڈھائی برس بعد آج ہی کے دن ’مہیا‘ کرنا کیا ضروری تھا؟
وکلا کی غیر تسلیم شدہ ایسوسی ایشنز اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے درمیان فرق بھی بھلا دیا گیا! اور قاضی محمد انور دیوار سے لگے یہ کہتے دکھائے گئے ’میرا مؤقف آج بھی وہی ہے!‘ ’بریف کیس‘ اور ’چیک‘ کا فرق بھی زیر بحث نہیں آیا! کوئٹہ تک کا ’ہوائی سفر‘ اور اسلام آباد کے اندر ’کار کا سفر‘ اور اس میں ڈھائی برس لگ جانے کا سبب بھی زیر بحث نہیں لایا گیا! حتیٰ کہ دس لاکھ کی حقیر رقم ڈھائی برس تک روکے رکھے جانے کا تذکرہ بھی نہیں کیا گیا!
کاش! ہم لوگ ’بھنگڑا، لڈی، ڈانڈیاں، اور گِدّے‘ ڈالنا ہی سیکھ لیتے تاکہ ’آپا پینو‘ کی طرح ’بابا رولا‘ بن سکتے جسے زندگی میں زندگی کا احساس پیدا کرنے کا ’ہُنر‘ ہمارے ہاتھ آ جاتا! اور ہمارا زندگی میں کوئی تو کردار ہوتا!
جناب بابر اعوان نے ’مٹھائی بانٹنے‘ کا تاثر تو پیدا کر دیا مگر مٹھائی تو وہ پہلے بھی کئی بار بانٹ چکے ہیں، اس بار وہ ’مٹھائی‘ وقت سے پیشتر بانٹے چلے جا رہے ہیں حتیٰ کہ ’مٹھائی کے ٹوکرے‘ شریکے تک پہنچا رہے ہیں، گویا کوئی بہت بڑا ’ایونٹ‘ برپا ہونے والا ہے! کیا صرف ’رشتہ‘ طے ہوا ہے؟ یا ’منگنی‘ ہو گئی ہے؟ یا یہ ’شادی‘ میں شرکت کے دعوت نامے کے ساتھ آئی ہے؟ کچھ بھید نہیں کھلتا! کیا بات ہے بنیادی؟
ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کوئی بہت بڑا ’مقدمہ‘ جیت لیا ہو اور اس خوشی میں قومی خزانے کا منہ کھول دیا ہو؟ یا، یہ رقم بھی ’امریکہ‘ یا، ’شمریکہ‘ سے آئی تھی؟
کہتے ہیں کہ ’شریکا‘ مٹھائی کا ٹوکرا کبھی ’مہمانوں‘ کے ہوتے واپس نہیں کرتا، بلکہ اس امر کا اہتمام کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ مہمانوں کے گھر پہنچنے سے پہلے ’مٹھائی کا ٹوکرا‘ ان کا منتظر ہو! اور عموماً یہ کام ان سے لیا جاتا ہے، جنہوں نے ’مہمانوں کی لاج‘ رکھی ہوتی ہے! ہم نہیں جانتے کہ ’آپا پینو‘ اور ’بابا رولا‘ ان حالات میں کیا کریں گے؟ کیونکہ آج کل بابر اعوان کی تصویر تو آ رہی ہے، آواز نہیں آ رہی!