افواہیں ہی افواہیں!

کالم نگار  |  منیر احمد خان
افواہیں ہی افواہیں!

پانامہ لیکس کا فیصلہ آنے میں دیرلگ رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلاہے کہ پورا ملک افواہوں کی گردش میں ہے جتنے منہ اتنی باتیں پانچوں معزز ترین جج فیصلہ لکھ رہے ہیں اپنے اسٹاف سے بھی مدد نہیں لے رہے خود ہی کتابوںاور ریفرنس کو تلاش کر رہے ہیں اپنا ذاتی لیپ ٹاپ استعمال کر رہے ہیں لیکن یار لوگ یہاںتک بتا رہے ہیں کہ فیصلہ 900 صفحات پر مشتمل ہوگا کوئی کہتا ہے کہ چار نکات پراتفاق ہے جبکہ نوازشریف کے حوالے سے اختلاف ہے جبکہ ہمارے ایک دوست نے فیصلے کو ہی سنا دیا کہ نوازشریف کوکلین چٹ ملے گی جبکہ بچوں پر الزام آئے گا اور احتساب بیوروکو سارے معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ ایک دوست یہ خبردے رہا ہے کہ چیئرمین نیب کے خلاف کارروائی ہوگی اورکہا جائیگا کہ وزیراعظم نوازشریف اور بچوں کے بیانات میں تضادات ہیں۔ سپریم کورٹ کوئی سزا نہیں دیگی فیصلے کے نتیجے میں کوئی ایکشن لینا مقصود ہوگا تواس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کریگا۔ بدقسمتی ملاحظہ کریں کہ یہاں تک افواہ پھیلائی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کے ذمہ لگایا گیا ہے کہ وہ جونیئر ججوں کو Manage کریںحالانکہ اگرمیاں ثاقب نثار نے کچھ کرنا ہوتا تو پھر خود نہ بنچ کی سربراہی کر لیتے !میاں ثاقب نثار انتہائی معزز چیف جسٹس ہیںان کے حوالے سے بے بنیاد افواہیں پھیلانا بہت بڑی زیادتی ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے وکیل کے فون کی افواہیں گردش کر رہی ہیں جس میں انہوں نے کہاکہ فیصلہ لیٹ اس لئے ہو رہا ہے کہ نوازشریف نے ججوں کوManage کر لیا ہے اب مقدمے پرکوئی اُمیدنہ رکھیں۔ ایک دوست نے 12پوائنٹ کی نشاندہی کی ہے جوکہ پانامہ لیکس کے فیصلے سے منسلک ہیں(1) پی ایس ایل کروانے کا مقصد نوازشریف حکومت کے خلاف سیاسی درجہ حرارت کوکمزورکرنا جوکہ پانامہ لیکس کی وجہ سے بہت تیز تھا۔(2) سی پیک اورگوادرکے منصوبوں کو بہت زیادہ اجاگرکرنا تاکہ قوم کو وزیراعظم نوازشریف کی پراگرس نظرآئے۔(3) مریم نوازشریف کی بین الاقوامی برادری سے لابنگ اور مدد حاصل کرنا ۔(4) الیکشن کمیشن کی طرف سے عمران خان اورجہانگیرترین کے خلاف ریفرنس خارج کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ بلاتفریق انصاف ہو رہا ہے۔(5) فوجی عدالتوں اور حسین حقانی کے مضمو ن کو Highlightکرنے کا مقصد خبروں کے رُخ کو بدلنا۔(6) سوشل میڈیا کو بندکرنے کی تیاری کرنا تاکہ پانامہ لیکس کے فیصلے پر سوشل میڈیا میں تنقید سامنے نہ آ سکے اور مذہب کی آڑ میںسوشل میڈیا کے خلاف کارروائی کی جائے۔(7) مردم شماری کو تیز ترکرنا تاکہ اخبارات میں خبریں موجود رہیں۔(8) 23 مارچ کو قوم کے اتفاق رائے کے طور پر پیش کرنا اور حکومت کا مکمل کنٹرول کا اظہارکرنا۔(9) سپریم کورٹ کو آزاد دکھانے کیلئے وزیراعظم کے افسروں کے بارے میں فیصلے کو مستردکرنا۔(10) پانامہ لیکس کے متوقع فیصلہ سے قبل کورٹ کے مقبول فیصلوں اور نوٹس کو اجاگرکرنا۔(11) مریم نواز، حسن نواز اور حسین نوازکوLow Profile رکھنا۔(12)حالات کے مطابق کسی بھی سنگین واقع کی توقع ہونا۔ سابق صدر زرداری لاہور تشریف لائے ہیں توان کے بارے میں یہ افواہ پھیلائی جا رہی ہے کہ وہ نوازشریف سے ڈیل کر رہے ہیں جس کے بدلے میں ڈاکٹرعاصم ، ڈاکٹر شرجیل میمن اورعزیزبلوچ کو رہائی ملے گی۔ پانامہ لیکس پر پیپلزپارٹی ماضی کی طرح کمزوراپوزیشن کریگی۔ شیخ رشیدآج کل پاپولر ہیں ان سے یاد اللہ اس وقت سے ہے جب وہ ہمارے ساتھ تحریک استقلال میں ہواکرتے تھے۔انہوںنے بروقت نشاندہی کردی ہے کہ عدالتوں سے ریلیف لینے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور حکومت گرفتاریوں پراندرخانے ملے ہوئے ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آصف زرداری کا 15دن لاہور بیٹھنے کا مقصد اپنی پارٹی کو فائدہ نہیں بلکہ تحریک انصاف کو نقصان پہنچانا ہے۔آصف زرداری نے یہ ٹاسک اپنے ذمے لیا ہے کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے پی پی پی کے لوگوں کو واپس لایا جائے اور واپس لانے کیلئے بڑی بڑی آفرکی جائیں۔ اس سے واپس آنے والوں کوسیاسی فائدہ ہوگایا نہیں لیکن ایک بات ضرورہے کہ یہ تاثرملے گا کہ لوگ تحریک انصاف سے مایوس ہوکر چھوڑ رہے ہیں۔ بہرحال چلتے جائیں اور دیکھتے جائیں کہ کیا کیا ہوتا ہے ایک اورافواہ بھی سن لیں کہ سعودی سفیرجناب عبداللہ آل زیرانی کی جنرل قمرجاوید باجوہ سے 90 منٹ کی ملاقات ہوئی ہے جس میں سفیرمحترم نے خواہشات کا اظہارکیاہے۔(1) جنرل راحیل شریف کو ریاض بھیجنے میں آسانی پیداکی جائے اور34 ممالک کے فوجی اتحادمیں 20ہزارفوجیوں کوبھیجنے کابندوبست کیا جائے۔(2) دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے سعودی فوجیوں کوتربیت دی جائے۔(3) میاں نوازشریف کوسپریم کورٹ کے کسی بھی متوقع فیصلے میں سرخروکرایا جائے۔(4) ایران کو سی پیک سے دور رکھا جائے۔(5) ایران کی گیس پائپ لائن کو پاکستان میں آنے کی اجازت نہ دی جائے۔(6) ایران کو پاکستانی بنک استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔سعودی سفیر نے آرمی چیف کواگست2017 میں حج کیلئے 3000 فوجیوں کیلئےFully Paid حج کی بھی پیشکش کی ہے یہ سب تماشے لگے ہوئے ہیں پاکستان اور عدالتوں کا مذاق بنا دیا گیا ہے ۔ سعودی سفیرکوکیا ضرورت پڑی ہے کہ آرمی چیف سے سپریم کورٹ اورعدالتی فیصلوں کی بات کریں ۔ اس طرح سی پیک ہمارا مسئلہ ہے اس کا سعودی عرب سے کیا تعلق کیا فضول افواہ ہے کہ مریم نواز بین الاقوامی برادری کی مدد مانگ رہی ہے۔ بڑے بڑے ملکوں کے لیڈر تو ذوالفقارعلی بھٹوکو پھانسی سے نہیں بچا سکے تھے نوازشریف کو سپریم کورٹ سے کیسے بچا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کسی دبائو یا لالچ یا حالات کے تحت فیصلہ نہیں کرنا فیصلہ میرٹ پرآئین اور قانون کے مطابق کرنا ہے۔ جہاں تک سوشل میڈیاکاتعلق ہے حکومت کو اس سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ اسلام ہمارادین ہے اورسوشل میڈیا پر نبی پاکؐ اوردین کی تضحیک برداشت نہیں کی جا سکتی اسی طرح دین کی آڑمیںسوشل میڈیا پردوسری پابندیاں لگائی نہیں جا سکتیں۔افواہوں سے ملک کمزور ہوتے ہیں قوم کا مورال ڈائون ہوتا ہے میں یہ تونہیں کہہ سکتا کہ لوگ افواہوں پر یقین نہ کریں لیکن یہ ضرورکہونگا کہ افواہیں صرف اورصرف ملک دشمن پھیلاتے ہیں اگر ان کا مقصد عدالتوں یا حکومت پر دبائو ڈالنا ہے تو بڑی زیادتی ہے۔ زبردستی فیصلہ نہیں لینا چاہئے اسی طرح حکومت کو بھی ایسا اثر نہیں دینا چاہئے اور نہ ہی ایسی افواہوں کو تقویت دینی چاہئے کہ سپریم کورٹ ہماری جیب میں ہے یقین کرناچاہئے کہ انصاف ہوگا اور انصاف کسی مصلحت اوردبائوکے بغیرہوگا افواہوں سے کچھ نہیں بنے گا۔