سعودیہ۔ امریکہ و چین و جاپان میں

کالم نگار  |  محی الدین بن احمد الدین
سعودیہ۔ امریکہ و چین و جاپان میں

بہت خوشی کا منظرنامہ ہے کہ انتظامات حج اور ایرانی حجاج کے حوالے سے گذشتہ سال کا سعودی ایرانی شدید اختلاف بالآخر گذشتہ ہفتہ طرفین کے تدبر و فراست سے ماشاء اللہ ختم ہوگیا ہے۔ نیا معاہدہ ہو گیا ہے کہ ایرانی حجاج کرام حج پر جائیں گے انشاء اللہ یہ صدر روحانی کا مدبرانہ فیصلہ ہے کہ سعودیہ سے اختلاف کا ایک منظرنامہ تبدیل ہوا ہے۔ مئی میں صدارتی انتخاب ایران میں متوقع ہے۔ ٹرمپ ایران مخالف ہیں اور سعودیہ و خلیجی مالدار عربوں کے کافی حامی لہٰذا ایران میں متوقع صدارتی انتخابات کی پرجوش تیاری ہو رہی ہے اور قدامت پسند اصلاح کار سیاست کو نیست و نابود کر کے احمدی نژاد کے سخت گیر مؤقف عہد کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی اصلاح کاروں کے ستون تھے وہ قدامت پسند رویوں پر تنقید کیا کرتے تھے۔ احمدی نژاد کی دوسری صدارتی مہم میں وہ خود، ان کی بیٹی فائزہ ہاشمی اور بیٹا اصلاح کاروں میں کھل کر ’’راہنما‘‘ دکھائی دیتے تھے لہٰذا ان کے بیٹے کو احمدی نژاد کے دوسرے انتخابی عمل کو ’’مکمل فراڈ‘‘ قرار دینے کی پاداش میں طویل سزا سنائی گئی تو فائزہ ہاشمی کو بھی سزا ہوئی۔ حال ہی میں فائزہ نے پاسداران انقلاب کی لوٹ مار اور ایرانی جوڈیشل کونسل کے چیئرمین آیت اللہ علی صادق آملی لاریجانی پر شدید تنقید کی تھی۔ آیت اللہ پر الزام ہے کہ آملی کے 63 ذاتی بینک اکائونٹس میں کروڑوں کی رقوم موجود ہیں۔ اس دلیری پر قدامت پسند رویوں نے فائزہ کو چھ ماہ کی قید سزا سنائی ہے۔ یاد رہے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی سعودیہ سے تصادم کی بجائے فوری مفاہمت کے پرجوش داعی تھے۔ صدر اوبامہ عہد سعودیہ و خلیجی اتحادیوں کے ساتھ دھوکہ دہی، شاطرانہ منصوبوں، ڈبل ٹرپل گیم اور ایران کے ساتھ مکمل تزویراتی خفیہ مفاہمتوں کا عہد تھا۔ سعودیہ و خلیجی اتحاد کونسل مؤقف کو جو بھی شام و عراق میں شکست فاش دی گئی اس ایرانی حکمت عملی میں پراسرار طور پر صدر اوبامہ انتظامیہ مکمل طور پر عرب مخالف اور ایران حامی تھی مگر ٹرمپ کے صدر بننے کے عمل سے سعودیہ و خلیجی فیصلہ سازوں کی قسمت جاگ اٹھی اور ایران کے لئے مسلسل سیاسی صدمے اور ماضی کی خفیہ امریکی مدد یکدم نیست و نابود ہو گئی ہے۔ جب شاہ سلمان مشرق بعید کے ملائیشیا و انڈونیشیا و برونائی کی طرف گامزن ہو رہے تھے تو ان کے لخت جگر، ولی عہد دوم و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لئے امریکہ روانہ ہو رہے تھے۔ محمد بن سلمان ماضی میں بھی صدر اوبامہ سے ملتے رہتے تھے۔ امریکہ و یورپ کی نظریں ’’نوجوان‘‘ وزیر دفاع پر مرکوز رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ سے ولی عہد دوم شہزادہ کی ملاقات ثمرآور قرار دی گئی ہے اور گذشتہ منگل کو صدر ٹرمپ نے سعودی شہزادے کے اعزاز میں ظہرانہ دیا تھا جس میں سعودیہ و امریکہ پروگرام کا اعلان کیا گیا۔ سعودی حکومت نے شہزادہ ٹرمپ ملاقات اور طے شدہ معاملات کو تاریخی اہم موڑ قرار دیا ہے۔ سعودیہ و امریکہ کے نئے معاہدے کے نتیجے میں امریکہ میں بھاری سعودی سرمایہ کاری پر اتفاق ہوا ہے۔ واشنگٹن میں سعودی تھنک ٹینک عربیہ فائونڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی شہابی کے مطابق سعودی عرب نے خاص طور پر امریکہ میں ’’بھرپور سرمایہ کاری‘‘ کا پروگرام ترتیب دیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ انتظامیہ میں ایرانی کمپنیوں اور شخصیات پر نئی پابندیوں کا معاملہ پیشرفت کر رہا ہے۔ دوسری طرف حال ہی میں مشہور امریکی دانشور نوم چومسکی نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بدترین مالیاتی بحران کا سبب بنے گی۔ ہمارا مشورہ ہے کہ سعودی و خلیجی فیصلہ ساز آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھیں اور امریکہ کے نئے سعودیہ حامی رویئے پر مکمل اعتماد کی بجائے ’’متبادل‘‘ بھی تیار رکھیں۔ خیر جہاں تک امریکہ و مغرب کے ’’متبادل‘‘ کا معاملہ ہے تو اس پالیسی کی بنیاد شاہ عبداللہ نے اپنے دورہ چین و روس کے دورے کر کے ان دونوں ماضی بعید کے کیمونسٹ (لادینی) سرخ پس منظر کے ساتھ بحالی تعلقات کا قدم اٹھا دیا تھا۔ افسوس کہ شاہ عبداللہ کی صدر پیوٹن پر بہت زیادہ نوازشات کا سعودیہ کو شام میں ایران کے حوالے سے صدر پیوٹن کا جواب بہت غلط اور احسان فراموشی پر مبنی ہے۔ شاہ سلمان نے شاہ عبداللہ کی مشرق کی طرف کھلتی خارجہ پالیسی کو نئی مہمیز دے دی ہے۔ وہ ملائیشیا، انڈونیشیا و برونائی کے مسلمان ممالک کے ساتھ ساتھ جاپان اور پھر چین کے ہاں جا چکے ہیں۔ جاپان و چین ماضی کی تلخیوں کا سامان رکھتے ہیں۔ شاہ سلمان نے حسن تدبر سے دونوں متضاد سوچ کے حامل غیرمسلم ملکوں سے تعلقات کا نیا باب رقم کیا ہے۔ بیجنگ میں صدر شی جنگ بنگ اور شاہ سلمان نے معاہدوں کی تقریب میں شرکت کر کے 65 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ تجارتی و عسکری معاہدوں سمیت مفاہمتی یادداشت میں تعاون کے 14 معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔ گذشتہ ہفتہ جمعرات کے روز شاہ سلمان کی بیجنگ آمد پر چین و سعودیہ مفاہمت منظرنامہ ظہور پذیر ہوا تھا۔ اب شاہ مالدیپ میں ہیں۔ یوں سعودیہ چین و جاپان کی تیل کی ضروریات کو جہاں پورا کرے گا وہاں عسکری معاہدوں سے سعودیہ دفاع میں چینی اسلحہ فکر کا ’’نیا باب‘‘ شروع ہونے جارہا ہے۔ سعودیہ و چین میں انسانی سیاسی آزادی کا مادر پدر آزاد وجود نہیں ہے جبکہ صدر ٹرمپ امریکہ میں بڑے ابلاغیاتی دماغوں کو نکیل ڈالنے کی مہم سر کر رہے ہیں۔ کیا سعودیہ و چین سے پاکستان اپنے لئے قیادت کا معیار، طریقہ اور سامان تدبر و فراست حاصل کر سکتا ہے؟