تنگ ہے ہم پر زمیں، دشمن ہوا ہے آسماں

تنگ ہے ہم پر زمیں، دشمن ہوا ہے آسماں

اسلام ایک عظیم مذہب ہے جو امن اور سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ مسلمان ہونا ایک بہت بڑی سعادت ہے۔ اسلام میں زندگی کے ہر طرزعمل کی تشریح و توضیح موجود ہے، لیکن بدقستمی سے اس وقت اسلام کو بطور خاص تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دیگر اقوام نے مسلمانوں کو اہداف بنا رکھا ہے۔ اسلام کے حوالے سے نہایت ہی ناپسندیدہ باتیں پھیلائی جا رہی ہیں اور گستاخانہ مواد بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن مجید‘ نبی پاکؐ‘ خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام کے حوالے سے منفی پراپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے۔ اسلام امن‘ آشتی، رواداری کا مذہب ہے‘ لیکن شرانگیز مواد کے ذریعے مسلمانوں کو مشتعل کیا جا رہا ہے‘ لیکن بدقسمتی سے خود مسلمانوں میں بھی نفاق‘ پھوٹ‘ ریاکاری‘ منافقت‘ سازش اور کم علمی بڑھ گئی ہے۔ ہماری دینی‘ مذہبی تربیت درست سطور پر نہ ہونے کی وجہ سے ایمان کمزور ہو رہے ہیں اور عدم برداشت نے کرداروں کو متزلزل کر دیا ہے۔ اس لئے اسلامی دنیا میں بھونچال آرہا ہے کہ ہم اسلام کے راستے پر چلنا بھول گئے ہیں۔ عدم برداشت کی وجہ سے ہم بے پناہ مسائل میں دھنستے جا رہے ہیں اور کوئی مصلح ناصح رہبر بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ نتیجے میں ہمیں ناپسندیدگی‘ رکاوٹوں‘ مسائل اور مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ نے اس حوالے سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس کا موضوع ’’معاشرہ میں سیاسی اور مذہبی عدم برداشت کیوں‘ روشن خیالی اور آزاد خیالی کیا ہے۔‘‘ تھا۔ احتشام شامی اور مزمل احمد نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا اور ملک بھر سے اہم کالم نگاروں کو اکٹھا کرکے ایک دانشورانہ رائے کو یکجا کرکے اس اہم ترین موضوع کے نتائج حاصل کئے تھے۔ بعدازاں ملک کے ممتاز کالم نویسوں کو ان کی اعلیٰ کارکردگی پر ایوارڈز دیئے تھے۔ چند دن قبل وزیراعظم میاں نوازشریف بھی یہ بیان دے چکے ہیں کہ علماء کرام فتوئوں سے نکل کر دینِ اسلام کا اصل بیانیہ پیش کریں۔ میاں نوازشریف کی سیاسی زندگی میں یہ پہلا بیان ہے جس میں میچورٹی اور مقصدیت و معنونیت دکھائی دی ہے۔ ہمارا بنیادی مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام اسلام کا اصل چہرہ پیش کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔ یہ کانفرنس اس لحاظ سے اہم تھی کہ ایک عالمگیر صورتحال کو اٹھایا گیا تھا۔ تقریب میں میرا مؤقف یہی تھا کہ ہماری ناکامی اور سرشاری کی اصل وجہ اسلام سے دوری ہے اور اسلام کی درست تشریح و توضیح‘ دینی آگہی و تربیت کے فقدان کی وجہ سے ہم اپنے عظیم مذہب‘ اپنی بے مثال کتاب‘ اپنے نبی پاکؐ اور اپنی اصلی زندگی سے دور ہو رہے ہیں اور دشمنوں کے شنکجے میں پھنستے جا رہے ہیں۔ اس موضوع پر میرے درج ذیل نکات تھے۔ ایک یہ کہ مذہبی عدم رواداری اور سیاسی عدم رواداری کا شاخسانہ سب سے زیادہ آج ہماری نسل بھگت رہی ہے۔ ہماری روشن خیالی کا یہ عالم ہے کہ جو بات ایک مسلمان کیلئے حلال ہے وہ دوسرے کیلئے حرام ہے۔ ایک مکمل اسلامی ضابطۂ حیات کے باوجود ہم نے خود کو قومیتوں‘ فرقوں‘ برداریوں‘ ذاتوں میں منقسم کر لیا ہے۔ ہمارا اصل اور حقیقی مذہب اسلام وہی ہے جو ہمارے نبی محمدؐ آخر الزماں کے دور میں پایۂ تکمیل کو پہنچا تھا۔
اسلام میں کسی بدعت اور اختراع کی گنجائش نہیں۔ اسلام ہمیں ایک صالح مسلمان بننے کی دعوت دیتا ہے‘ لیکن یہاں مولانا مودودی کا قول یاد آیا ہے کہ ’’ہم نے اسلامی شریعت کو ایک منجمد شاستر بنا کر رکھ دیا ہے۔‘‘ ہم نے اپنے اپنے اسلام گھڑ لئے ہیں۔ جو ’’بدعت‘‘ کی بدترین مثال ہے۔ ایک شخص دوسرے سے بڑا مسلمان کیسے ہو سکتا ہے۔ ماسوائے تقویٰ کے۔ اس بات کا فیصلہ بھی کرنا خدا کا کام ہے کہ کون افضل مسلمان ہے‘ کون صالح مسلمان ہے۔ کون کمتر مسلمان ہے اور کون کافر ہے۔ ایک مسلمان دوسرے کو کافر کہنے کا مجاز نہیں‘ کون جانتا ہے کہ خدا کو کس کی کون سی ادا پسند آجائے۔ ویسے بھی خدا تو نیتیں دیکھتا ہے کہ کس کی کیا نیت ہے۔ کس کا دل پاک ہے‘ کس کی روح خالص ہے‘ کس کی نگاہ میں شرم ہے۔ وہ ظاہری عبادتیں نہیں دیکھتا‘ لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں سنی‘ شیعہ پر جھگڑے ہو جاتے ہیں حالانکہ دونوں فرقے مسلمان ہیں۔ ہم فرقوں اور تفرقوں میں پڑ گئے ہیں۔ پھر جنگجو‘ جہادی‘ طالبان‘ القاعدہ‘ داعش‘ بوکوحرام جیسی تنظیمیں وجود میں آگئیں۔ سب نے اپنا اپنا قبلہ‘ اپنا اپنا کعبہ‘ اپنا اپنا اسلام پیش کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ خودکش بم دھماکے ہوئے اور ہزاروں معصوم‘ بے قصور‘ نہتے مسلمان اس دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ آج بھی پاکستانی سب سے زیادہ بم دھماکوں میں ہلاک ہو رہے ہیں اور خودکش بمباروں نے اسلام کا ٹھیکہ سر پر اٹھا لیا ہے۔ ہمارے علماء کو چاہئے کہ وہ بتائیں اسلام کسی کی جان لینے کا حکم نہیں دیتا۔ کسی کو ناحق مارنے کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریمؐ یہودیوں ‘ عیسائیوں اور کافروں‘ مشرکوں کے درمیان رہے۔ رسول ﷺنے تو انہیں محبت‘ پیارسے اسلام کا درس دیا۔ اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کی‘ لیکن آج مسلمانوں کی عدم روداری کی یہ حالت ہے کہ اپنے ہی بھائی بندوں‘ اپنے ہی مسلمانوں پر جنت اور حوروں کی تحریک پر بم برساتے ہیں۔ ہمارے عالم دین‘ علمائے کرام‘ ملغین‘ مصلحین اور مولویوں کو اسلام کے احکامات کی صحیح روشنی میں درست تعبیر و تشریح کرنی چاہئے۔ اسلام کا شدت پسندی‘ انتہاپسندی‘ انتقامی کارروائی اور زور زبردستی سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان کو کیوں خاص طورپر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ ناانصافیاں اور حق تلفیاں غصے‘ جارحیت اور انتقام کو دعوت دیتی ہیں‘ لیکن اصل مسئلہ خود ہمارا اپنا زیادہ ہے۔ ہم کیوں اپنے ٹریک سے ہٹ جاتے ہیں‘ کیوں ٹریپ ہو جاتے ہیں‘ ہم بنیادی طورپر بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تنگ نظری‘ انتہاپسندی‘ تعصب‘ بغض‘ عناد‘ منافقت‘ ریاکاری یہ ساتوں عناصر عدم رواداری کی جڑ ہیں۔ ہماری گنجلک موروثی سیاست بھی عدم برداشت کو جنم دیتی ہے۔ سیاسی بازیگروں نے مذہبی جذبات کا سہارا لیا۔ مذہب کا نقاب اوڑھ کر سیاسی کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ گستاخانہ مواد پر سخت سزائیں ہونی چاہئیں‘ لیکن فس بک بند کرنا اس کا حل نہیں ہے۔ کوئی بیماری ہو تو اس کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس کا منہ بند نہیں کیا جاتا نہ گلا کاٹا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں تو سب سے زیادہ حکومت عدم برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے اور آزادی اظہار پر قدغن لگاتی ہے۔