یہ ہے ہماری اصل عورت

کالم نگار  |  مسرت قیوم
یہ ہے ہماری اصل عورت

بیدیاں روڈ کے نواحی علاقے سے گزرتے ہوئے گماں نہیں ہو رہا تھا کہ ہم جدید سہولتوں سے آراستہ علاقے کے مختلف حصوں سے گزر کر دوبارہ پوش علاقے میں داخل ہونے جارہے ہیں۔۔ پاکستانی عوام کے نصیب کی طرح ٹوٹی پھوٹی سڑک کے دونوں جانب پہاڑیاں کھڑی تھی ۔ حقیقی پہاڑیاں نہیں بلکہ ’’اُس صنف ‘‘ کے ہاتھوں کی محنت جو ہماری آبادی کا’’ 52 فیصد‘‘ حصہ ہے ۔یعنی ’’عورت‘‘ ۔سڑک کے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر عورتیں ہاتھوں سے گوبر کو تھپ تھپ کر اوپلے بناتی اور گندے نالے کے اطراف اور کناروں پر اُس طرح post  کرتی دکھائی دیں جس طرح آجکل ’’سندھ فیسٹول کا بانی‘‘ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتا دکھائی دیتا ہے۔۔ہماری نزدیک یہ ٹویٹ بھی ’’اوپلے‘‘ مانند ہی ہیں جن کا مقصد لوگوں کو جلانے کے علاوہ کچھ نہیں۔بغرض نماز ایک جگہ رک وہاں کچھ عورتیں کھیتوں میں کام کر رہی تھیں اور کچھ ہل چلاتی نظر آئیں ۔۔نماز کے بعد گپ چپ شروع ہو گئی۔ میں نے عورتوں کی شدید مشقت۔ محنت کی تعریف کے بعد اُن کو بتایا کہ حکومت خواتین کی ترقی امتیازی سلوک اور ناانصافی کی تلافی کیلئے نئے قوانین بنارہی ہے حکومت ایسی اصلاحات کرنے کی راہ اپنا رہی ہے کہ جس کے نفاذ کے بعد ’’خواتین ‘‘ ہر شعبہ زندگی میں بھرپور حصہ لے سکیں کی۔ میری باتوں کے ردعمل میں اِک حیرت زدہ بوریت تھی۔۔لاعلمی کی فضا کو بھانپتے ہوئے پوچھا کہ کتنی فیصد ’’ٹی وی پروگرامز‘‘ دیکھتی ہیں۔۔ سبھی کا جواب ہاں میں تھا۔’’8 مارچ‘‘ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر آپ نے صنف ِ نازک کی ترقی بارے سرگرم عمل مختلف انجمنوں ، حکومتی اہلکاروں کے پروگرامز نہیں دیکھے۔اعلانات نہیں سُنے۔۔ ’’بی بی جی‘‘ ’’8 مارچ‘‘ کا تو ہمیں معلوم نہیں مگر کچھ دن بعد اُس تقریب کو ضرور ملاحظہ کیا جو ’’مال روڈ‘‘ پر منائی گئی جہاں لیڈیز پو لیس نے دل کھول کر ’’نرسوں‘‘ کے بال کھینچے ۔چہرے نوچے ۔ڈنڈے مارے۔ دھکے دئیے۔ ’’لیڈیز پولیس‘‘ صدیوں سے بھوکی جنگلی بلیاں معلوم ہو رہی تھیں۔ بس یہی جارحانہ انداز۔۔وحشی پن یاد ہے۔ ہم کو قانون وانون کچھ کا نہیں معلوم ۔۔ہاں ہم نے وہ پروگرام بھی دیکھا کہ ایک بچی نے خود کو آگ لگا لی ۔۔پھر فلموں کے سین کی طرح جس طرح کلائمکس پر پولیس پہنچتی ہے اِسی طرح ’’وزیر اعلیٰ‘‘ بھی ’’بچی‘‘ کے گھر پہنچ گئے۔۔آجکل ہماری زندگی کے المناک واقعات فلمی سین لگنے لگے ہیں۔ ایک عورت بولی کہ ’’وزیر اعلیٰ‘‘ بالکل’’ ہیرو‘‘ لگ رہے تھے ۔۔اِ س بات پر سب ہنسنا شروع ہو گئیں۔متذکرہ بالا احوال ایک جدید ترین شہر کے فارم ہائوسز میں گھرے ہوئے گائوں کا ہے۔تو سوچئیے کہ دُور افتادہ علاقوں کی خواتین کی مشقت کس قدر کڑی اور اپنے حقوق بارے جانکاری کتنی ناقص ہو گی۔۔ رپورٹ کہتی ہے کہ دُنیا بھر کی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 8 - 21  فیصد ہے ۔۔مگر اِس نمائندگی نے عورتوں کے تحفظ عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے تحفظ کتنا کردار ادا کیا؟؟ اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ کیسی کیسی ہستیاں ان کا نام استعمال کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئیں۔نصف سے زائد آبادی کے ایک بڑے حصے کو تو اپنے سکونتی علاقوں کے پورے لوگوں کے بھی نام ۔پتے معلوم نہیں تو پھر وہ کیا جانیں کہ ’’8 مارچ‘‘ کیا ہے اور امتیازی قوانین کے خلاف سرگرم عمل تنظیمیں اور حکومتی اعلانات کس کیلئے ہیں۔۔ اخلاقی اقدار سے محروم معاشرے میں حقوق نسواں ۔آزادی اور مساوات کے نعرے صرف چرچا کی حد تک ہیں عملاً تصویر انتہائی منفی ہے۔ کون ہے اصل عورت ؟؟ پنج ستارہ ہوٹل کے یخ بستہ ہال میں صنفی مساوات کے موضوع پر تقریر جھاڑتی ہوئی۔’’بیگم صاحبہ‘‘ یا پھر تیز دھوپ میں کڑ کتے صحن میں برتن مانجھتی ۔۔کپڑے دھوتی ہوئی عورت یا پھر مالکوں کے ہوس اور ظلم پر دم توڑنے والی معصوم ِ بچیاں۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق ’’25 لاکھ امریکی‘‘ خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیںجبکہ بھارت میں 97 فیصد جبکہ پاکستان میں 90 فیصد اگرچہ خواتین کے تحفظ اور انہیں حقوق دلوانے کی خاطر سینکڑوں ادارے مصروفِ عمل ہیں۔ جناب عالی ابتدائے آفرینش سے تادیبی قوانین۔ تقریری سزائیں جیسی بے ہودہ کتابیں چلی آرہی ہیں۔۔سب بیکار ۔بکواس ہے۔مجرم کو مارنے سے کچھ نہیں ہونیوالا۔۔کسی شخص کو مجرم کو بنانے والے اسباب کو تلاش کیجئے۔۔مجرموں کو بناتی فیکٹری کو بارود سے اُڑائیے۔ عورتوں ۔بچیوں کی ’’بے حرمتی کے تو ہزاروں واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔یہ اِکا دُکا واقعات بھی تب منظر عام پر آتے ہیں جب کسی کو دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔۔اِن میں بھی 90 فیصد واقعات ذمہ داری کی شناخت ‘‘ کے مرحلے میں ہی مدفن بنا دئیے جاتے ہیں۔ قیادت اخلاقی اقدار کی بحالی کیلئے عمل کرے۔یہ جو کھمبیوں کی طرح ظلم و زیادتی ۔۔تشدد کی تصویریں اُگ رہی ہیں۔۔ انکے انسداد کیلئے شراب ۔۔جواء عصمت فروشی کے اڈوں کو بند کرنے کا حکم دیجئے۔ عورتوں کے عالمی دن کی مناسبت سے بجا کہ صنفی تفریق ختم ہو چکی۔۔ اب صنف ِ قوی کو اپنے رویے بدلنے چاہیں۔۔یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ حقوق نسواں کی تحریکیں اور جدو جہد خواتین میں شعور بیدار کرنے میں کامیاب رہیں۔۔ مگر بنظر مجموعی مرد آج بھی حاکم اور فیصلہ ساز ہے جبکہ عورت محکوم اور اِن فیصلوں کو ماننے کی پابند۔ اصل عورت یہ ہے جو زندگی کے کسی شعبے میں بھی اپنی پہچان بنانے کی خواہاں نہیں اصل عورت بے بس۔ لا چارگی اور ظلم کی انتہائی حد کی لڑیوں میں پروئی ہوئی ہے ۔۔اصل عورت نہیں جانتی کہ اُس کے حقوق کے نام پر کتنی بڑی ’’پروڈکٹس‘‘ مارکیٹ میں بِک رہی ہیں ۔