پاکستان کا مطلب کیا؟

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
پاکستان کا مطلب کیا؟

اچھے ایام کی یاد بھی طبعیت کو فرحت بخشتی ہے اور یقین سادہ کو کامل عقیدے میں بدل دیتی ہے ذہن کی فضا آزاد ہو تو خارجی ماحول میں ایک سکون محسوس ہوتا ہے۔ فرد کی آزادی بھی ایک نعمت ہے لیکن قوم کی آزادی اس سے بڑھ کر نعمت ہوتی ہے۔ اور اگر عقیدے کی حفاظت کا ماحول میسر ہو تو یہ ایک نعمت عظمیٰ ہے اور اس سے زیادہ بڑی بات یہ کہ عقیدہ و عمل کو آزاد فضائیں نصیب ہوں تو یہ نعمت غیر مترقبہ ہے قدر نعمت بعد از زوال ہی معلوم ہوتی ہے۔ قوم سے نعمت چھن جائے تو احساس زیاں کا ماتم قریہ قریہ اور لمحہ لمحہ ہوتا ہے۔ لیکن ایک فرق اور بہت بڑا فرق سقوط غرناطہ اور زوال تخت دہلی میں تھا کہ غرناطہ کو بادشاہوں نے آباد کیا تھا اور برصغیر کی خاک میں اولیا و صالحین کے اعجاز محبت کی بہتی بہتی مہکار تھی۔ غرناطہ کا دل پتھر تھا سر زمین ہند سے والی مصطفیؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیف افزا خوشبوں آتی تھی۔ اس لئے زوال دہلی کے بعد عامۃ المسلمین کے دلوں کی دنیا آباد رہی تھی اگرچہ ان کی معاشرت فرنگی کے زیر استبداد تھی اور ان پر بنیے کی فریب کاری کا جال مسلط تھا۔ اقتدار تو ہاتھ سے جاتا رہا لیکن دلوں کی کائنات میں صدائے حریت کی گونج پنج وقتہ آذانوں کے ساتھ بلند ہوتی تھی۔ہندو اپنی ہزار سالہ شکست کا بدلہ لینے کے لئے فرنگی بہادر کے تلوے چاٹتا تھا ان کے دھرم میں سب کچھ قبول تھا لیکن اضام پرستی کے دشمن فرزندان تو حید و رسالت کیلئے ان کے ہاں ذرہ بھر گنجائش نہ تھی۔ برصغیر کے ایمانی خمیر میں صوفیا کی خدا پرستی کا وہ آب زلال موجود تھا جو ہر مسلمان پر نشہ آزادی طاری کرتا تھا مسلمان آزاد رہنا چاہتا ہے اور بغیر الجھائو کے دوسروں کی آزادی کا بھی احترام کرتا ہے لیکن اپنے ایمان و عقیدے کی قیمت پر وہ وصغداری کو برقرار رکھنے کا ہرگز حامی نہیں ہے وہ زندہ رہو اور زندہ رہنے دو کے اصول پر سختی سے کاربند ہوتا ہے وہ اپنے شعائر دین کے احترام میں بہت پختہ واقع ہوا ہے۔ برصغیر میں جب مسلم شعائر کی توہین کی جاتی تو فرنگی حکمران پس پردہ اس کی حمایت کرتا تھا۔ ان کی ثقافت اور خیالات مسلمانوں سے قطعاً مختلف تھیں متضاد اور متصادم تھیں مسلمان گائے کا گوشت کھاتے تھے اور ہندو گائے کا پیشاپ پیتے تھے ان کے عمومی حرام اور حلال کا تصور بھی ایک دوسرے سے ٹکراتا تھا۔ اس لئے ہندو گھر کے بھیدی سے لنکا ڈھوانے کے لئے مکرو فریب کے اقدام پر اتر آئے۔ انہوں نے منبر و محراب کو اپنی سازش کے نشانے پر رکھا متحدہ قومیت کا پرچار کیا۔ اور مسلمانوں کے تصور و نیت پر بزعم خویش ایک صالحانہ وار کیا۔ لیکن خدائی نظام کے مامور نمائندے شب پرستوں کے مذموم ابلیسی ارادوں کو بھانپ کر اٹھے اور نور ہدایت کے چراغ لے کر فکر کی دنیا میں بزم آرا ہوئے ۔ منبر و محراب کی وراثت کے نا حق دعویدار پسپا ہونے لگے تو ابلیسی اندھیروں کے پرچار کو روشنی کا نام دے کر فکر فرنگی کا حوالہ دینے لگے کہ انسانوں کی تقسیم مذہب کے حوالے سے یورپ میں نہیں ہوا کرتی۔ جواب میں نقیب نور نے پھر بیداری کی صدای دی…؎
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
خرب کاری اور ضرب کاری کا معرکہ بری طرح سے برپا ہوا اساطین کے قدم ڈگمگائے بڑے افکار والے اندھیروں سے تصادم میں ہار گئے۔ آزادی فکر کے علمبردار بنئے کی چوٹی کو زلف محبوب سمجھ کر اسیر ہوئے تحریک ترک موالات میں ہندو ہاتھ کر گیا اور گاندھی ناپاک مشرکانہ قدم لے کر منبر مسجد پر چڑھ گیا شعائر اسلام ہندو دست مال کئے اور پامال کئے۔ ہندوئوں کی رضا کی خاطر شعائر اسلام ترک کئے گئے۔ ہندو کی خوشی پر ملت کی آزادی کو شکست یاب کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ تحریک ہجرت نے میدان ہندو کے حوالے کر دیا۔ یہ مسلمانوں کے لئے زوال دہلی کے بعد دوسری شکست تھی۔ لیکن احوال تو نیتوں پر مرتب ہوتے ہیں پھر خانقاہ نشینوں کے مزاج بدلے اور حالات کی تیز آندھی میں راسخون فی العلم علماء علم آزادی تھام کر آگے بڑھے، فکر خیال کو تجسیم نصیب ہوئی دبلے و جود اور چٹانی عزم کا پیکر محمد علی جناحؒ ثبات قدمی کے ساتھ بتکدہ ہند میں مسلمانوں کی آزادی کا سبز پرچم لے کر اٹھا، اس کی پشت پناہی کیلئے خانقاہوں سے نکل رسم شبیری ادا کرنے کیلئے پیر جماعت علی شاہ، مولانا حامد رضا خان، صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی، پیر صاحب سیال شریف گولڑہ شریف، مانکی اور زکوڑی کے مشائخ عظام تھے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنے حلفہ بگوشوں کو ساتھ لئے خانقاہ نشینوں کے ہم رکاب تھے مولانا دائود غزنوی کے علاوہ علامہ ابن حسن چارجوی، راجہ صاحب محمود آباد، علامہ ابولالحسنات قادری کے سنگت میں موسم بہار میں داتا کی نگری لاہور میں بلا تفریق مسلک و مشرب منٹو پارک میں 23مارچ 1940ء کو یہ نعرہ بلند کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں اکٹھے ہوئے۔
پاکستان کا مطلب کیا …لا الہ الا اللہ
نظام حکومت کیا ہو گا …محمد رسولﷺ
23مارچ یاد وفا کا دن ہے۔ 23 مارچ تجدید نظریہ کا دن 23مارچ مسلمانوں کے فکری و عملی اتحاد کا دن ہے23 مارچ اپنی تاریخ کو سمجھنے کا دن ہے 23مارچ مسلمانوں کے مختلف مسالک و مشارب کے ایک سبز جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کا دن ہے نہیں بلکہ گنبد خضرا کے سایے میں ایک ملت ہونے کے اقرار کا دن ہے یہ عہد کا دن ہے کہ ہم کلمہ طیبہ
لا الہ الا اللہ محمد رسولﷺ
کی سربلندی کیلئے اکھٹے جینے اور اکٹھے مرنے کا عزم بالجزم کرتے ہیں سیاستدان، علمائ، حکمران، نوکر شاہی، سیاہ وطن سب ہی پاکستان کو 23مارچ 1940ء کا مصداق پاکستان بنانے کے لئے تن، من دھن قربان کرنے کا چٹانی عزم کریں۔