سلطانی جمہور کی بجائے آمرانہ اور شخصی حکومت کا عالمی رجحان

سلطانی جمہور کی بجائے آمرانہ اور شخصی حکومت کا عالمی رجحان

آج سے 100 برس پہلے 20 ویں صدی کے آغاز میں دنیا بھر کے پانچوں براعظموں پر بادشاہوں اور شہنشاہوں کی حکمرانی تھی۔ 1914ء سے لیکر 1918ء تک پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں کئی تخت گرائے گئے۔ مغرب میں خصوصاً امریکہ اور یورپ میں جموری پارلیمانی نظام فروغ پانے کے ساتھ ساتھ روس اور چین میں جہاں ایک طرف کمیونسٹ نظام نے جمہوریت کیلئے خطرہ کی گھنٹی بجائی وہاں امریکہ‘ یورپ‘ روس اور چین میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ تیونس اور مراکش سے لیکر انڈونیشیا تک پھیلے ہوئے اسلامی ممالک کا سیاسی اقتصادی دفاعی اور معاشرتی اتحاد اور یکجہتی مغربی جمہوری طاقتوں اور روس و چائینہ کی AUTHORITARIAN شوشلسٹ حکومتوں کے باہمی سٹرٹیجک مفاد کیلئے ایک خطرناک عالمی چیلنج بن سکتا ہے۔ چنانچہ جیسے بھی ممکن ہو مڈل ایسٹ شمالی افریقہ وسطی اور وسط ایشیاء اور جنوبی ایشیاء جن میں انڈونیشیائ‘ ملائیشیا‘ افغانستان‘ ایران‘ سعودی عرب اور گلف کی ریاستیں شامل ہیں۔ ان کو باہمی انتشار اور پسماندگی کا شکار بناتے ہوئے انکے تیل گیس اور معدنی ذخائر پر اپنے تسلط کو دوام دیا جائے۔ مغربی طاقتوں نے جمہوریت کے فروغ اور قیام امن کو یقینی بنانے کیلئے لیگ آف نیشن کا ادارہ قائم کیا لیکن چونکہ مغرب کے دانشوروں اور مالدار گھرانوں کے خاندانوں کی نیتیں کچھ اور تھیں اور جمہوریت و انسانی حقوق جیسے خوبصورت ناموں کو وہ صرف قریب کے طور پر استعمال کر کے ایشیائ‘ افریقہ اور مشرق بعید کے وسائل اور دولت لوٹنا چاہتے تھے۔ اس لئے لیگ آف نیشنز عالمی سطح پر امن بحال نہ رکھ سکی اور جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر کے ساتھ برطانیہ کے وزیراعظم چیمبرلین کے صلح جوئی کے ہر جتن مذاکرات کی ہر کاوش اور ہٹلر کی APPEASEMENT کیلئے اس کی بیشتر شرائط کے آگے امن کی تلاش میں گھٹنے ٹیکنے کے باوجود دوسری جنگ عظیم کا 1939ء سے لیکر 1945ء تک 6 سال کے مصائب اور لاکھوں انسانوں کی زندگی کی قربانیوں جن میں کئی تخت و تاج تباہ ہوئے‘ یورپ کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا۔ جاپان کو شکست دینے کے لئے ہیروشیما اور ناگاساقی پر ایٹم بم گرائے گئے۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی کئی بادشاہتیں تہہ و بالا کی گئی اور دنیائے اسلام کے مقدس ترین مرکز میں ایک نئی یہودی ریاست اسرائیل کے نام سے قائم کر کے صدیوں پرانے کروسیڈ کا خنجر گھونپ کر امریکہ کے صدر روز ویلٹ برطانیہ کے وزیراعظم پرچل اور روس کے کمیونسٹ ڈکٹیٹر سٹالن نے مستقبل میں عالمی امن کے مستقل قیام کیلئے دنیا کو اقوام متحدہ کے ادارہ کا تحفہ دیا۔ 1945ء سے لیکر 2014ء تک گزشتہ 69 سالوں کے دوران دنیا میں جمہوریت کے نام پر جو جنگیں لڑی گئی اور عالم اسلام کا جو نقشہ 21 ویں صدی کے آغاز میں آج ہمارے سامنے ہے‘ اس پر کسی تبصرہ کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ جمہوری نظام حکومت کی برکتوں کا مخص ڈھنڈورا پٹنے سے کیا فائدہ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ دنیا میں اصل جمہوری قدریں محض ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ گئی ہیں۔ جبکہ مغربی تجزیہ نگاروں اور جدید مورخین کے مطابق امریکہ‘ برطانیہ اور دیگر مغربی جمہوری ممالک میں بھی انسانی حقوق کے قوانین اور دیگر جمہوری نظام کی آزادیاں رو پذیر زوال ہیں اور 9/11 کے بعد ہزاروں ایسے قوانین تشکیل دیئے گئے ہیں جنہوں نے جمہوریت کے ایسے قوانین تشکیل دیئے گئے ہیں۔ جنہوں نے جمہوریت کا اصل چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اب ہم سب ایک ایسے مستقبل کی طرف حالات کے جبر کے تحت پھسلتے ہوئے جا رہے ہیں جسے جمہوری نظام کی بجائے ایک AUTHORITARIAN یا شخصی حکومت کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔عالم اسلام کی گزشتہ صدی کے دوران دردناک داستان رقم کرتے ہوئے پاکستان کا قیام ایک روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔ 23 مارچ 1940ء کے تاریخ ساز لاہور ریزولوشن سے لیکر 14 اگست 1947ء کے پاکستان کے وجود میں آنے کے معجزہ تک قائد اعظم محمد علی جناح نے عالم اسلام کی تاریخ بدلنے کیلئے ایک سنہرہ موقع مہیا کیا تھا۔ ایسی دیدہ بینہ رکھنے والے مدبر صدیوں کے بعد ہی پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ایک آزاد مملکت کے قیام کے بعد یہ قوم ایمان‘ اتحاد اور تنظیم کا بہترین نمونہ پیش کرتے ہوئے دنیا کے سامنے ایک جدید اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست کی تجربہ گاہ ثابت ہو کر دنیا کے سامنے ایک عظیم باعزت مملکت ثابت ہو گی۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ آزادی کے ایک سال بعد ہی بانی پاکستان کے وصال کے بعد ہم اندھیرے طوفانوں میں ایسے کھو گئے کہ آج تک بانی قوم کے مقرر کردہ ہدف سے قوس و دور اپنا نشان منزل کھو چکے ہیں۔
آج جس مقام پر پاکستانی قوم 67 سالہ آزادی کے بعد ہم کھڑے ہیں اس کو بیان کرنے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کیونکہ اخبارات کے سرخیاں دانشوروں کے تجزیئے حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کے بیانات حکومتی مشینری کی بے بسی‘ سیاستدانوں اور پارلیمنٹ میں عوامی منتخب نمائندگان کا حالات کی سنگینی سے لاتعلقی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر کئی طرح کے عالمی ریکارڈ توڑنے کے زمینی ثبوتوں اور مظاہروں کے باوجود سفارتی سیاسی‘ معاشی‘ مالیاتی‘ تعلیمی غربت اور سب سے بڑھ کر امن و امان اور دہشت گردی کے لحاظ سے ایک خوفناک حد تک خطرناک ملک قرار دیئے جانے پر اب نہ صرف پاکستان دشمن اغیار ممالک بلکہ اندرون ملک ہمارے اپنے اہل وطن جنہیں حکومت وقت اپنے پاکستانی مسلمان بھائی قرار دیتی ہے وہ اسلامی جمہوری پاکستان کے نہ ہی آئین کو تسلیم کرتے ہیں‘ نہ ہی عدالتوں اور قانون کا ان کو احترام ہے بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی توڑ پھوڑ اور سرحدوں کی تبدیلی کئی طبقات میں ایک مشغلہ بن چکا ہے۔ ایسے خوفناک ماحول میں مغلیہ شہنشاہوں کی یاد آتی ہے جس کے بارے میں بھی مورخ لکھتے ہیں کہ بیرونی حملہ آوروں کی پیش قدمی کی رپورٹوں کو وہ اپنے جام شراب میں ڈوب کر آگ لگا دینے سے سمجھتے تھے کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ خدا کرے کہ راقم کے سب خدشات غلط اور بے بنیاد ثابت ہوں لیکن جب حکومت کے اپنے وزراء یہ اعلان کریں کہ کروڑوں ڈالر بیرون ملک سے دوست حکومتیں پاکستان کے اکائونٹ میں بلاغرض و غیت اپنی خوشی سے جمع کروا رہی ہیں تو ڈر لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا تو ضرور ہے۔ ورنہ محاورا ہے کہ گندگی کا ایک ٹرک بھی مفت نہیں ملتا کیونکہ یہ بھی مرغیوں کی خوراک کے طور پر بکتا ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں THERE IS NO FREE LUNCH اس لئے کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔