حجاز مقدس پرحاضری

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
حجاز مقدس پرحاضری

حجاز مقدس پر حاضری ہر مسلمان کی دلی اور دیرینہ خواہش ہوتی ہے لوگ ساری عمر اس حاضری کی خواہش میں گزار دیتے ہیں مگر یہ سعادت ہرکسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ حج اور عمرہ کی خواہش کو عملی جامعہ پہنانے کی خاطر بہت سے لوگ ساری عمر پیسے جوڑتے رہتے ہیں اور کچھ تو اپنی تمام جمع پونجی اس مقدس فرض کی ادائیگی پر لگادیتے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں یہ مقدس سفر بھی اتنا آسان نہیں رہا اور ہرگزرنے والے دن کے ساتھ کرایوں اور دوسرے متفرق حد میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے حج اور عمرے کی سعادت مشکل سے مشکل ترہوتی چلی جارہی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اس سلسلے میں اپنا ایک نظام اور انتظام موجود ہے جس میں بنیادی حیثیت ٹورآپریٹرز کو حاصل ہے مگر یہ مروجہ اصول وضوابط کے تحت ہی ہوتاہے معاشرے کے دوسرے شعبوں کی طرح ہمارے ملک میں یہ نظام بھی بدانتظامی کا شکار ہے جوکہ زائرین کیلئے مشکلات کے علاوہ ملک تضحیک کا باعث بھی بن رہاہے ہرٹورآپریٹر اخراجات اور دوسرے انتظامات میں من مانی کرتاہے اور سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے کا ہرحربہ استعمال کیاجاتاہے بہت سے لوگ اپنی ساری عمر کی جمع پونجی لگاکر بھی شدید ذہنی اور جسمانی مشکلات کا شکار رہتے ہیں اپنے بزنس کو بڑھانے کیلئے غلط وعدے اور یقین دہانیاں کروائی جاتی ہیں جن کو بعدازاں یکسرنظرانداز کردیاجاتاہے زائرین کی رہنمائی کیلئے کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں جس میں سفر سے لے کر ہوٹل میں قیام اور بنیادی مذہبی رسومات اور فرائض کی ادائیگی شامل ہے۔ عوام کی ایک کثیرتعداد زندگی میں پہلی بار اپنے گھر سے باہر جاکر ایسا سفر کرتی ہے جس کیلئے بنیادی معلومات اور رہنمائی بہت ضروری ہے مگر ایسا نہیں کیاجاتا سفری دستاویزات، لباس،رہائش،زیارات اور مذہبی فرائض کی ادائیگی کی خاطرخواہ انتظامات نہیں کئے جاتے حجاز مقدس میں پاکستانی شہری بہت سی چیزوںسے ناآشنا نظرآتے ہیں جوکہ یقیناً ہمارے ملک کے بارے میں ایک منفی تاثرقائم کرتاہے پیسے بٹورنے کی خاطر فرضی محرم بنا کر لوگوں کو اس مقدس سفر پر روانہ کیاجاتاہے جس کی وجہ سے عمر رسیدہ خواتین شدید مشکلات کا شکار نظرآتی ہیں۔ ترکی، ایران، انڈونیشیا اور بہت سارے دوسرے اسلامی ممالک کے زائرین ایک منظم انتظام کے تحت حجاز مقدس جاتے ہیں انہیں سفری سہولیات کے علاوہ مذہبی فرائض کی ادائیگی اور زیارات کیلئے باقاعدہ راہنمائی کی جاتی ہے اس سارے عمل سے زائرین کی سہولت کے علاوہ ان ممالک کے بارے میں ایک انتہائی مثبت تاثر قائم ہوتاہے حجاز مقدس میں دنیا کے ہرعلاقے سے زائرین آتے ہیں لہٰذا ادھر جانے والا ہر شخص اپنے ملک کا سفیر ہوتاہے دولت جمع کرنے کی حوس نے ہمیں اس قدر اندھا اور بے حس بنادیا ہے کہ اس مقدس کام میں بھی بے ایمانی اور کرپشن کا دور دورہ ہے۔ وہاں پر جتنے بھی دوسرے ممالک کے گروپ آتے ہیں ان کا انتظام وانہرام اور ان کے ساتھ ایک عدد گائیڈ کی بہترین کارکردگی دیکھ کر پاکستانیوں کو ایسے محسوس ہوتاہے جیسے وہ بالکل لاوارث ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزات مذہبی امور اس تمام صورتحال کا فوری نوٹس لے اور فوری طور پر ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے زائرین کی مشکلات بھی کم ہوں اور ملکی وقار میں بھی اضافہ ہو اس بارے میں چند ایک تجاویز درج ذیل ہیں۔
1۔اخراجات کے مختلف پیکجز کی حکومتی سطح پر منظوری دی جائے تاکہ کوئی بھی ٹورآپریٹر اپنی من مانی نہ کرسکے۔
2۔قومی ایئرلائن کے کرائے نسبتاً کم رکھے جائیں تاکہ مسافروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ زائرین کو ریلیف بھی دیاجاسکے عام اور سادہ لوح لوگ اپنی ایئرلائن کے ذریعے سفر کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں جہاں پر انہیں اپنی زبان اور کلچر کی وجہ سے سہولت رہتی ہے۔
3۔زائرین کی سہولت اور مکمل آگاہی کیلئے باقاعدہ اور منظم بریفنگ کا انتظام کیاجائے جوکہ ٹورآپریٹر کی ذمہ داری ہو۔
4۔ہرگروپ کے ساتھ ایک گائیڈ ہونا چاہیے جوکہ مذہبی فرائض کی ادائیگی میں معاونت اور آگاہی فراہم کرے۔ حجاز مقدس میں قیام اور سفر کے دوران کسی بھی مشکل کی صورت میں اسی گائیڈ کو ذمہ دار بنایاجائے۔
5۔لباس اور کوڈآف کنڈیکٹ سے آگاہی بھی اسی گائیڈ کی ذمہ دار ہونی چاہیے مزید براں یہ امور بریفنگز کا حصہ بھی بنائے جائیں۔
6۔فرضی محرم بنا کر حج اور عمرہ پر بھیجے جانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیاجائے اسے ایک جرم قرار دے کر خلاف ورزی کرنیوالوں کو سخت سزا دی جائے۔
7۔وزارت مذہبی امور کی طرف سے ایسا نظام مرتب کیاجائے کہ پورے سسٹم کو مستقل طور پر مانیٹر کیاجائے اور زائرین کی سہولت کیلئے ایئرپورٹس کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں سہولتی مراکز قائم کئے جائیں۔
مندرجہ بالا تجاویز صرف بنیادی نوعیت کی ہیں پورے نظام کو ازسرنوجائزہ لینے سے بہتری کے بہت سے راستے نکل سکتے ہیں اس سلسلے میں عوام الناس سے بھی تجاویز لی جاسکتی ہیں۔ دوسرے ممالک کے انتظامات کا تقابلی جائزہ لینے سے بھی بہت سے قابل عمل امر تقلید تجاویز مل سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک باقاعدہ اورمنظم نظام بنا کر اس پر عمل کیاجائے اسے حکومت کی گڈگورننس مہم کا حصہ بنایاجائے کیونکہ موجودہ نظام زائرین کی بے پناہ مشکلات کے ساتھ ملکی وقار کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہورہاہے چونکہ زائرین کی سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہوتی ہے اس لیے معاملہ اور بھی اہمیت اختیار کرجاتاہے۔