ابن ِ یوسف یا ابن قاسم!

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
ابن ِ یوسف یا ابن قاسم!

واقعہ کربلا ہوچکا تھا اورتاریخ کے اِس المناک باب نے بنو امیہ کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں تھیں، جگہ جگہ شورش اور بغاوت برپا تھی اور اقتدار بنو امیہ کے ہاتھوں سے مٹھی میں بند ریت کی طرح پھسلتا چلا جارہا تھا۔ بغاوتوں اور شورشوں کے اِس اژدہام میں بنو امیہ کو ایک ایسے شخص کی خدمات میسر آئیں، جس کی صلاحیتوں سے صرف بنو امیہ کو ہی فائدہ نہ ہوا بلکہ تیزی سے پھیلتی اسلامی حکومت پر بھی اسکے گہرے نقوش مرتب ہوئے۔ یہ شخص طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف میں پیدا ہوا۔ ابتداء میں مدرس کا پیشہ اختیار کیا، لیکن مطمئن نہ ہوا تو طائف چھوڑ کر دمشق کا رُخ کرلیا۔ دمشق میں اُسے خلیفہ کے وزیر روح بن زنباع کی جاگیر کی بطور کوتوال دیکھ بھال کی ملازمت مل گئی، یہی وہ ملازمت تھی جس میں اُسے اپنی خداداد صلاحیتوں کو آزمانے اور کچھ کرکے دکھانے کا موقع ملا۔ جلد ہی اس کی صلاحیتوں کا چرچاہر طرف ہونے لگا۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان اپنی فوج کی سستی اور کاہلی سے سخت نالاں تھا، اُسے فوجیوں کیلئے محتسب مقرر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وزیر روح بن زنباع نے اس عہدے کیلئے اپنے اِس کوتوال کا نام پیش کردیا۔ محتسب بننے کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں اُس نے پولیس اور فوج کو تیر کی طرح سیدھا کردیا۔ خلیفہ عبدالملک اُس کی صلاحیتوں کا معترف ہوچکا تھا، لہٰذا اہل خراسان ، کوفہ اور بصرہ کی باغیانہ روش کو ختم کرنے کے لیے اُسے گورنر مقرر کردیا گیا۔گورنر مقرر ہونے کے بعد اُس نے صرف بارہ آدمی ساتھ لیے اور ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کرکے بالکل غیر متوقع طور پر کوفہ پہنچ گیا۔ کوفہ میں داخلہ کے وقت اُس نے پہچان سے بچنے کیلئے ڈھاٹے سے چہرہ چھپا رکھا تھا۔وہ مسجد پہنچا تو لوگ شرارت پر آمادہ تھے۔لوگ اِس نئے گورنر کا استقبال کرنے اور اُسے مزا چکھانے کیلئے کنکر اور پتھر ہمراہ لائے تھے۔ اُس نے ممبر پر چڑھ کر نقاب الٹا اور گرجدار آواز میں بولا’’لوگو سنو اور ہوش و حواس درست کرکے سنو! تمہاری شورش پسندی اور شرارتوں سے تنگ آکر امیرالمومنین نے اس بار اپنے ترکش کا سب سے سخت تیر تم پر چلایا ہے۔ تم منافق ، مفسد اور باغی ہو ، تم نت نئی شرارتیں کرتے اور ہر آنیوالے حاکم سے بغاوت کرنے کے عادی ہو۔ سیدھے ہو جاؤ اور اطاعت کے لیے سر جھکا دو،میں دیکھتا ہوںکہ نظریں اٹھی ہوئی ہیں، گردنیں اونچی ہو رہی ہیں، سروں کی فصل پک چکی ہے اور کٹائی کا وقت آن پہنچا ہے۔ میری نظر وہ خون دیکھ رہی ہے جو پگڑیوں اور داڑھیوں کے درمیان بہہ رہا ہے‘‘۔اُس کا نام اور خطاب سن کر دہشت سے لوگوں کے ہاتھوں میں پکڑے پتھر اور کنکر چھوٹ گئے اوروہ اپنے سر پیٹنے لگے۔ امن قائم کرنے اور بغاوتوں اور شورشوں کو دبانے میں مشہور یہ سخت گیر منتظم کوئی اور نہیں بلکہ ابو محمد حجاج بن یوسف بن حکم بن ابو عقیل ثقفی تھا۔ ایک مسلمان لڑکی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے راجا داہر کو سبق سکھانے کیلئے اسی حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کوسندھ بھیجا، جس نے تھوڑے ہی عرصہ میں سندھ کو امن کا گہوارہ بنادیا تھا۔
آج اُسی محمد بن قاسم کے سندھ کا چپہ چپہ دہشت گردی، غارت گری، ٹارگٹ کلنگ اور سنگین جرائم کی وارداتوں سے لہولہان ہے۔ سندھ میں قیام امن کی بنیادی ذمہ داری تو پولیس کی ہے، لیکن سیاسی بنیادوں پر بھرتی کی جانے والی پولیس امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ سندھ پولیس کو سدھارنے اور ’’سدھانے‘‘ کیلئے جرمنی کے عالمی ادارہ برائے تعاون (جی آئی زی)سے بھی مدد لی جارہی ہے۔ لیکن سندھ میں پولیس کے نظام میں بہتری لانے کیلئے اگر واقعی کوئی کوشش کامیاب دیکھنی ہے تو اس کیلئے سب سے پہلے جدید خطوط پر پولیس کی تربیت کرنا ہوگی۔تمام متعلقہ شعبوں کے درمیان بہتر تعلقات کار اور نظام کار وضع کرنا پڑیگا۔ پولیس کو غیر سیاسی بنانے کے ساتھ ساتھ تفتیش کے جدید ترین طریقوں سے آگاہی حاصل کرنابھی ضروری ہے۔لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن بھی بنائے جانے چاہئیں اور اس سے بھی بڑھ کرمروجہ قوانین بالخصوص 1861ء کا پولیس ایکٹ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جاناضروری ہے۔پولیس کو شہریوں کے ساتھ بہتر رابطہ اور خوش اخلاقی سے پیش آنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ مالیاتی امور میںشفافیت، بنیادی ضروریات اور سہولیات کی فراہمی سے پولیس کے اندرونی مسائل کم کیے جاسکتے ہیں۔عوام اور میڈیا کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
قارئین محترم!محتسب کے تقرر کیلئے حجاج بن یوسف کی سفارش کرتے ہوئے روح بن زنباع نے خلیفہ کو کہا تھا کہ’’ آدمی سخت گیر ہے اس لیے میں اِس کے افعال کا جوابدہ نہیں ہوںگا‘‘۔حقیقت بھی یہی ہے کہ حجاج کی سخت گیری سے خود اس کے ساتھی بھی محفوظ نہ رہ سکے۔امن قائم کرنے کیلئے حجاج نے دھونس بھی جمائی، قوت بھی آزمائی ، پیسہ بھی استعمال کیااور سخت گیری کا شیوہ بھی اپنائے رکھا ۔ حجاج کے برعکس اس کے بھتیجے محمد بن قاسم نے اگرچہ دیبل (کراچی) تو بذور شمشیر فتح کیا، لیکن باقی کا سندھ اُس نے اپنے حسن سلوک، محبت، رواداری اور برداشت کے اسلامی اصولوں کا پرچار کرتے فتح کیا، شاید اسی لیے تیرہ صدیوں بعد سندھ میں مائیں بہنیں ایک بار پھر ابنِ قاسم کی منتظر نظر آتی ہیں۔ امن قائم کرنے کی بنیادی ذمہ دار پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر ادارے عبدالملک بن مروان کی فوج کی طرح انتہائی کاہل ، کرپٹ اور سست ہوچکے ہیں ، جنہیں سدھارنے کیلئے کوئی ’’حجاج بن یوسف‘‘ لانے کی باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ عالمی ادارے تو تعاون کرہی رہے ہیں، لیکن یہ اب موجودہ حکومت کی کارکردگی اور اہلیت پر بھی منحصر ہے کہ وہ 2011ء میں قائم ہونے والی جرمن تنظیم برائے عالمی تعاون کی مدد سے تیرہ سوسال پہلے 711ء میں سندھ فتح کرنیوالے اِبن ِ قاسم کی طرح کردار کی عظمت سے دلوں کے قلعے فتح کرنا چاہتے ہیں؟ یا پھر سندھ کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے تیرہ سوسال پہلے714ء میں دنیا چھوڑنے جانیوالے اِبن ِ یوسف کی طرح کوئی سخت گیر منتظم ہی 2014ء میں امن کی ضمانت بنے گا۔ ایسا منتظم جو شورش پر آمادہ دہشت گردوں کو صاف صاف کہہ سکے ’’سیدھے ہو جاؤ اور اطاعت کیلئے سر جھکا دو! میں دیکھتا ہوںکہ نظریں اٹھی ہوئی ہیں، گردنیں اونچی ہو رہی ہیں، سروں کی فصل پک چکی ہے اور کٹائی کا وقت آگیا ہے‘‘۔