ناگہانی کیفیت

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
ناگہانی کیفیت

ہما را یمان کہتا ہے کہ جب کو ئی شخص کہے کہ وہ بیما ر ہے تو اسکی تیما ر داری کرو ۔ بغیر کسی شبہ کہ وہ بیمار ہے کہ نہیں وزیراعظم نواز شریف کی بیما ری آپریشن سے متعلق میڈیا میں اُٹھنے والے ابہام اور شبہات غلط ہو سکتے ہیں مگر یہ کو ئی پہلی با ر نہیں کہ حالات circamstanses,پر یشر، ایشوز کی وجہ سے لیڈرز ملک سے با ہر علاج کر وانے کی غرض سے نہ گیا ہو بہت دور کی بات نہیں ، ایک ایسا وقت سابق صدرآصف ذرداری پر بھی آیا تھا ۔ جب میمو گیٹ سکینڈل کے وقت ستم حالت کی وجہ سے سابق صدرآصف ذرداری د بئی علاج کی غر ض سے روانہ ہو ئے تھے اور آج بھی ملک سے باہر ہیں پھر اس طر ح کی چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ بیمار نہیں ہیں یہاں تک کہا جارہا تھا کہ زرداری صاحب کبھی واپس نہیں آ ئیں گے خیر کیا طے ہو ایا علاج ہو ا بہرحال اس وقت تو زرداری صاحب واپس تشریف لے آئے تھے۔ اور پھر سا بق صدر پرویز مشر ف کمانڈو بن کے پا کستا ن آئے مگر پھر صحت خرابی کی بنا پرعلا ج کے لیے چلے گے۔ مشر ف صاحب کے با رے میں یہ بھی کہا گیا کہ بیماری بہا نہ تھا وزیراعظم نو از شریف کی بیما ری پر میر ا کو ئی تبصر ہ نہیں خدا بہتر جانتا ہے اور وقت اُس کا گواہ ہے میر اکنسرن تو اس سے ہے کہ ملکی حالت کیسے چلیں گے ۔ وزیراعظم وطن واپس پہنچ تو گے ہیں مگر حالات ڈیڑھ ماہ کے وزیر اعظم کے ملک کے باہر رہنے جیسے ہی ہیں۔ البتہ کابینہ کا اجلاس پنجاب گورنر ہائوس میں ہو ا مگر وزیر اعظم آج بھی غیر فعال نظر آرہے ہیں اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم اسلام آبا د میں وزیر اعظم ہا وس میں نہیں بلکہ راو نڈ میں بیٹھے ہیںاور کہا جا ر ہا ہے کہ انفیکشن کی وجہ سے صحت ناساز ہے ۔ہم دعا گو ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ تر کی میں ما رشل لا ء کو عوام نے ناکام بنایا اب تر کی سے دوسروں کو بھی سیکھانا چا ہئے۔ میرا خیال ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو طیب اردگان سے سیکھنا چاہیے کہ کس طرح طیب اردوان نے سازش کو ناکام بنایا ۔طیب اوردگان سنگین حا لا ت میں عوام میں موجود تھے حالانکہ پاکستان میں یہاں ا یسا کچھ بھی نہیں اس کے با وجو د حکومت نے خو د کو غیر مو ثر ظاہر کر ر کھا ہے جس سے حکومت کی کمزوری ظاہر ہو تی ہے سوشل میڈیا پر تو ایک بار پھر پراپیگنڈا شروع ہو گیا ہے کہ وزیراعظم ایک بار پھر لندن جارہے ہیں۔
مگر اس ناگہانی کیفیت سے نکلنے کے لیے وزیر اعظم کو عملی طور پر فعال ہوناپڑے گا اور جوفو ج اور سو ل حکومت کے درمیا ن جو دوری ہے اُس کوبھی کم کر نا ہو گا نواز شر یف کو یہ حقیقت اور اہمیت کو تسلیم کر تے ہوئے اسٹیبلیشمنٹ کے تحفظات کو دور کر نے میں مزید دیر نہیں کر نی چاہئے ۔ میں جا نتی ہو ں کہ اب دیر ہو چکی ہے مگر کہتے ہیں نا کہ کو شش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی۔جس طر ح سے ترکی کی فوجی بغاوت کو پا کستا ن کے ساتھ جوڑا گیا اور وزراء کے بیان نے اس میں مزید ہو ا پھونکی ، اس وقت کے حالا ت میں جس طر ح فوج کے بارے میں ذکر ہو رہا ہے چا ہئے وہ سڑکو ں پر حما یتی بینرز ہو پھر ما ر شل لا ء کی گو نج ہو یہ تا ثر فوج کی قر با نیوںکو فرا مو ش کرنے کے مترادف ہے ہمیں ہر معاملے کو فوج اور ہر لڑائی کو بغا وت کے ساتھ تشبیہہ نہیں د ینی چا ہیے۔اس کے ساتھ یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ نواز شریف اور مسلم لیگ پا کستان کی سیاست کی ایک حقیقت ہے جس کو عوامی حمایت حاصل ہے اور اپوزیشن جماعتوں بشمول عمران خان میں ابھی اتنا دم خم نظر نہیں آتا ہے کہ وہ نواز شریف کو آئوٹ کر سکے،لہٰذا اس سسپنس کو ختم کرکے ان چیلنجز کی طرف توجہ دینی چاہیے جو اس وقت ملک کو درپیش ہیں۔ہر ایک کا فیصلہ ،پالیسی ،اقدامات ایک دوسرے کی تائید اور حمایت کے عکاس ہونے چاہیے،یہ ملک کسی ایک کا نہیں سب کا ہے ،اس کوتسلیم کرنا ہوگا،کسی کی اپنی مسجد نہیں بلکہ ایک صف پر کھرے ہونا پڑے گا اور ایک دوسرے کے امام کے پیچھے صف بندی سے کسی کا ایمان خطرے میں نہیں پڑے گا۔بلکہ اور مضبوط ہو گا۔