”پتھر کا زمانہ“

رفیق غوری ۔۔۔
ایک وہ بھی وقت تھا جب گاوں گاوں بجلی پہنچانے کا دعویٰ کیا جاتا تھا پھر واقعی ایسا ہوا، واپڈا والوں نے بجلی کی ترسیل کے لئے کھمبے اور کھمبوں پر تاریں نصب کر دیں تب ٹیلی ویژن پر ایک اشتہار آیا کرتا تھا ”میرے گاوں میں بجلی آئی ہے“ اور جب بجلی کم بجلی کا بل زیادہ آنے لگا بجلیاں کٹنے لگیں تو پھربجلی کے بارے میں لوگوں کے خیالات بدلنے لگے اب تو یہ عالم ہے کہ بجلی آئے یا نہ آئے بل ضرور آتا ہے۔ بجلی کے بعد سوئی گیس کی طلب پیدا ہوئی اور ہر کسی کی خواہش تھی کہ اس کے گھر میں سوئی گیس آئے اور اس کا چولہا لکڑیوں کی بجائے گیس سے جلنا شروع ہو۔ زمانے نے ترقی کی تو گیس سے گاڑیاں، بسیں بھی چلنے لگیں اب جس طرح گیس پمپوں سے گیس ملتی ہے اس کے بارے میں زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ گیس جہاں سے نکلی تھی وہاں بعد میں ”ضیاءدور میں“ پہنچی اور اس اعلان کے ساتھ پہنچی کہ ”ایک وعدہ اور پورا ہوا“ بجلی، گیس کے ساتھ ساتھ پانی کا ذکر بھی ہوتا ہے کہ دنیا کی زمین کے تین گنا سے زیادہ حصے پر پانی ہی پانی ہے وجہ وہی ہے کہ پانی بہت اہم ہے کہتے ہیں کہ دنیا میں جو بھی سفر کرتا اس کا وسیلہ دریاوں کا پانی ہی ہوا کرتا تھا دنیا کی بہت سی جنگیں بھی اسی پانی کے سبب ہوئیں۔ یہی وجہ ہے جب روس نے دنیا پر قبضہ کرنے کی کوشش کی پاکستان میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ہوا کرتی تھی اور بھٹو صاحب نے آج کے حکمرانوں کی طرح عوام سے رابطہ مہم شروع کی اس مہم کے دوران بھٹو مرحوم قائد عوام کا خطاب سننے کے لئے جس عوام کو لایا گیا ان سے مخاطب ہوتے ہوئے بھٹو صاحب نے کوئٹہ میں اعلان کیا کہ ”روس Hot water مانگتاہے کیا میں اسے ہاٹ واٹر دوں؟“ تو جلسہ میں بیٹھے دو عوام نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ Hot water کسے کہتے ہیں؟ اور جب انہیں سمجھ آئی کہ Hot water گرم پانی کوکہتے ہیں تو انہوں نے فوراً کہہ دیا کہ ”دے دو“
ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے پھر بھی روس کو ہاٹ واٹر کے لئے راستہ نہ دیا اور پھر مرحوم کو مقدمہ قتل کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ بھٹو مرحوم کا جرم یہ تھا کہ انہیں لاہور گورنر ہاو¿س میں ہنری کسنجر کی طرف سے بتا دیا گیا تھا کہ امریکہ انہیں نشان عبرت بنا دے گا یہ الگ بات کہ بھٹو مرحوم کو پھانسی تودے دی گئی مگر انہیں نشان عبرت نہ بنایا جا سکا ہمیں یہ تو سوچنا چاہیے کہ امریکہ بہادر کے صدر نے ہمارے کمانڈو جرنیل کو رات گئے جو کال کی تھی اور جس طرح موصوف کو پتھر کا زمانہ یاد دلایا تھا کیا ہم اسی دور کی طرف واپس تو نہیں جا رہے کہ پتھر کے زمانے میں بھی بجلی، پانی اور گیس نہیں ہوتے تھے اب بھی یہی عالم ہے کارخانے، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں عدم تحفظ کا شکار ہر پاکستانی موت سے خوفزدہ ہے۔ قارئین جو کچھ ہو چکا اور وہ تمام کچھ جو ہونے جا رہا ہے اگر امریکہ اور اس کے حلیفوں کو وہ تمام کچھ کرنے کا موقع مل گیا تو کیا ہم پھر پتھر کے دور میں واپس ہی نہیں چلے جائیں گے؟
منتخب صدر جناب آصف علی زرداری ان دنوں لاہور گورنر ہاو¿س میں قیام پذیر ہیں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے حامی گورنر ہاو¿س کی دیواریں پھلانگ کر اپنے صدر کو ایک نظر دیکھنے کے لئے وہاں پہنچ گئے۔ گورنر ہاو¿س کی اونچی دیواریں پھلانگ کر اندر پہنچ جانابڑی ہمت اور جرا¿ت کی بات ہے اس حالیہ دورے کے دوران جناب صدر نے بجلی، پانی اور گیس کے حوالے سے بہت کچھ کہا ہے وعدے پھر ہو رہے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ ان وعدوں پر عمل ہو جائے گا؟ وہ وعدے پورے ہو جائیں گے؟ یا امریکہ کے منصوبوں کے سبب ہم پتھرکے زمانے میں پہنچ جائیں گے کہ پتھر کا دور شاید ایسا ہی ہوتا ہے جس سے بچنے کے لئے جنرل مشرف نے اپنے دور اقتدار میں امریکہ کی وہ ہر بات مان لی تھی جو ہماری عزت، حمیت، غیرت اور سالمیت کے منافی تھی ہمیں اس پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنا چاہیے۔ یہاں یہ سوال بھی سر اٹھاتا ہے کہ کیاواقعی ہم بحیثیت قوم سوچ رہے ہیں غور کر رہے ہیں یا ”دم مارو دم دھوکہ نہ غم“ کی راہ پر چل رہے ہیں۔؟ نتیجتاً ہم پتھر دل نہ ہوجائیں گے؟ پتھر کے زمانے میں نہ پہنچ جائیں گے؟