ہم انسانی محبت سے محروم ہیں!!!

نور محمد اعجاز ۔۔۔۔
کامیاب ریاست تو وہی کہلوانے کا حق رکھتی ہے جہاں ایک خوبصورت عورت‘ زیورات سے لدی ہوئی‘ تن تنہا ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کر جائے اور اے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں نہ کوئی مظلوم ہو نہ محروم نہ کوئی ظالم ہو نہ مظلوم۔ میرے اللہ ایسا دور موجود تھا۔ مگر وقت کے حکمرانوں کی ہوس زر نے اس شاندار دور کو اپنی ریشہ دوانیوں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ یا اللہ وہ دور پھر کبھی آئے گا؟ مگر تو چاہئے تو سب کچھ ہو سکتا ہے تو نے صرف ”کن“ ہی تو کہنا ہے اور پھر سارا نظام ہستی یک دم بدل جائے گا۔ تیرے ہی کرم کی بات ہے تیرے ہی فضل کا سوال ہے۔ تیرے ہی رحم کا آسرا ہے اور تیری ہی عنایات کا سہارا ہے۔ اے رب کریم! تو پھر سے ہمارے مردہ دلوں کو اپنے نور سے زندہ کر دے۔ ہماری عیاش اور پرمسرت راتوں کو صرف اپنی یاد سے آباد کر دے۔ ہمیں نمائش اور آلائش سے بچا ہم پر اپنی رحمت اور کرم کی بارش نازل فرما۔ ہم پر اپنی معرفت کی منزل آسان فرما۔ ہمیں ایک بار پھر وہی جام الفت پلا دے۔ جس سے بوجھل نگاہیں نگاہ مصطفوی میں بدل جائیں۔ اے اللہ ہمارے اجڑے اور ویران آشیانے کو پھر سے آباد کر دے۔ یا مولا! اس عظیم سوئی ہوئی قوم کو ایک بار سنبھلنے کا اور اپنی درخشاں تاریخ لکھنے کا موقع دے۔ ہمیں اپنی تاریخ اسلام نہیں کسی روشن باب کا اضافہ کرنے والی قوم بنا دے۔ اے رب! ہمیں وہ زندگی اور بندگی دے کہ ہم بھی خوش رہ سکیں اور تو بھی ہم پر راضی رہے۔ اللہ! ہماری زندگی کے تقاضے اور دین کے تقاضوں میں جو فرق آچکا ہے۔ اسے دور فرما دے۔
یا الٰہی! ہمیں لیڈروں کے بے ہنگم ہجوم اور یلغار سے بچا۔ ہمیں صرف ایک قائد جو جناحؒ سا ہو عطا فرما۔ جو تیرے اور تیرے حبیب کے تابع فرمان ہو۔ یا مولا کریم! اس قوم کو میزان کا محافظ بنا۔ عدلیہ کا میزان‘ تجارت کا میزان‘ سیاست کا میزان علم و تعلیم کا میزان اور امانتوں کی محفاظت کے اداروں کے نظام کا میزان۔
اے رب کعبہ ہم میں ایک عظیم قوم بننے کی صفات اور اوصاف پیدا کر دے۔ ہمارے مستقبل کو ہمارے حال سے بہتر بنا دے۔ ہمیں وعدے کرنے والی قوم کی بجائے وعدہ پورا کرنے والی قوم بنا دے۔ یا مولا! تیری توحید اور واحدانیت کا واسطہ مسلمانان عالم اسلام کو ایک ملت اور وحدت میں پرو دے۔ ان کی فکر او سوچ میں ہم آہنگی پیدا کر دے تاکہ تیرے حبیب کی امت صحیح معنوں میں تیرے حبیب کی امت کہلانے کی مستحق ہو جائے۔