گورنر سلمان تاثیرصاحب ! ”ہوئے تم دوست جس کے....

شاہدہ رزمی سلیری.....
زیڈ اے سلیری صحافت کی دنیا کا سچا نڈر بے باک اور بے تاج بادشاہ تھا جنہوں نے صحافت کے دشت میں ساٹھ سال بڑے وقار سے گزارے تھے۔ وہ سچے مسلم لیگی تھے جنہوں نے قائداعظم کے ساتھ دن رات تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا۔ ان پر علامہ اقبال کے خیالات و افکار کی چھاپ بھی تھی اور وہ قائداعظم جیسے عظیم رہنما کا بازو بھی تھے۔ وہ تحریک پاکستان کے ساتھ ساتھ جوان ہوئے ان کے قلم میں اس قدر طاقت تھی کہ ان کے سامنے کسی کا چراغ نہ جلتا تھا ان کی شخصیت نے کئی ہنگامے برپا کئے۔ بقول مجیب الرحمان شامی ، زیڈ اے سلیری کی شخصیت وہ دریا ہے جسے کوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔
زیڈ اے سلیری سچے مسلم لیگی تھے انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ تقریباً ہر جگہ اکٹھے سفر کیا۔ ان کے بیانات اور ان کے پروگرامز کو فوری طور پر اخبارات کو بھیجتے تھے بلکہ لوگوں نے زیڈ اے سلیری کو جناح کا PRO کہنا شروع کر دیا تھا۔
قائداعظم محمد علی جناح زیڈ اے سلیری سے بہت متاثر تھے ان پرر اعتماد کرتے تھے۔
زیڈ اے سلیری نے قائداعظم محمد علی جناح پر سب سے پہلے مشہور زمانہ کتاب ’مائی لیڈر کے نام سے لکھی۔ اس کتاب نے پورے یورپ اور انڈیا میں دھوم مچا دی۔ خود قائداعظم نے زیڈ اے سلیری کو شکریہ کا خط لکھا۔ مرنے سے کچھ مہینے پہلے ایک فنکشن جو قائداعظم لائبریری میں ہو رہا تھا اور اس میں سابق صدر رفیق تارڑ صاحب بھی مدعو تھے تو سلیری صاحب نے قائد کا وہ تاریخی خط ان کے ذریعے قائداعظم لائبریری کو تفویض کر دیا۔زیڈ اے سلیری کے پاس ساری زندگی نہ تو اپنا مکان تھا اور نہ ہی اپنی کوئی گاڑی نہ ہی کوئی پلاٹ اور نہ ہی کوئی بینک بیلنس وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتے تھے بیٹا میں یہ پلاٹ اور مکان لیکر کیا کروں گا یہ پورا ملک میرا اپنا گھر ہے میرا اپنا مکان ہے مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں اللہ نے ہمیشہ اچھا رکھا ہے۔12جنوری 2010ءکے نوائے وقت میں گورنر سلمان تاثیر کا بیان شائع ہوا جس پر یہ لکھنے پر مجبور ہو گئی ہوں کیونکہ بحیثیت ایک بیٹی میرا فرض بنتا ہے کہ میں گورنر صاحب کی اصلاح کروں۔ آپ فرماتے ہیں
”زیڈ اے سلیری ایک سیاسی مداری تھا اور ڈکٹیٹر کے کہنے پر بھٹو کی تقریر کے دوران شور ڈالتا رہتا تھا۔ بھٹو صاحب نے اپنی تقریر میں کہا تھا جب میں اقتدار میں آیا تو پاکستان میں یعنی ذوالفقار علی بھٹو رہے گا یا زیڈ اے سلیری اس تقریر کے بعد زیڈ اے سلیری کا کوئی بیان نہیں آیا‘جناب سلمان تاثیر صاحب مجھے بہت افسوس ہے کاش آپ پاکستان کی تاریخ ہی پڑھ لیتے۔ بی اے تو آپ نہیں کر سکے مگر حقائق تو یاد رکھنے چاہئےں تھے۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے بھٹو صاحب نے جب عنان حکومت سنبھالا تو اسی رات سب سے پہلا آرڈر پاکستان ٹائم کے چیف ایڈیٹر اور چیف ایگزیکٹو زیڈ اے سلیری کی فوری برطرفی تھی۔ اس میں ذوالفقار علی بھٹو کا کیا کمال تھا۔سلیری صاحب نے تو اس کے بعد زیادہ شدت سے ان سے اختلافات کئے اور مضامین دوسری اخبارات میں لکھتے رہے۔ بی بی سی کو انٹرویوز بھی دیتے رہے اور کالم تو انہوں نے کبھی بھی نہیں لکھنے چھوڑے مرتے دم تک وہ ہمیشہ لکھتے رہے کم از کم ذوالفقار علی بھٹو تو ان کو خاموش نہیں کرا سکے۔ جناب سلمان تاثیر صاحب کسی دوسرے کو کچھ کہنے سے پہلے اپنے آپ کو بھی تو دیکھئے تاریخ کی درستگی کے لئے عرض کر رہی ہوں آپ کی گورنری بھی ایک آمر کی مرہون منت ہے تاہم بعد میں نوکری پکی کرنے کے لئے پی پی پی کا سہارا لیا۔ زیادہ دیر تو نہیں ہوئی ایک آمر ایک ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی گود میں بیٹھ کر نگران وزیر بن کر اٹھکھیلیاں کرتے رہے اور وزارت کے مزے لوٹتے رہے اب پی پی پی کے جھولے میں لیٹے گورنری کر رہے ہیں اور ملک کی بڑی دو پارٹیوں میں نفاق کے بیج بو کر اسے چلنے نہیں دے دیتے اور ملک کو جمہوریت کو بقاءکی بجائے قضا کی طرف لے جا رہے ہیں خدارا اس ملک پاکستان پر رحم کیجئے۔ آپ کو چاہئے کہ یہ بھونڈی سیاست کرنا آپ بند کر دیں اور اگر آپ اپنے سگے بیٹے آتش تاثیر کی وجہ سے پریشان ہیں اور نارمل ذہن نہیں رکھتے تو آپ اس گورنری کو چھوڑ دیں آپ گھر میں بیٹھ کر سکون حاصل کریں اور اپنے بیٹے آتش تاثیر کو جو آپ نے دکھ دئیے ہیں اس کا مداوا کریں۔