ناکے

سہراب بٹ (ایس ایس پی (ر) ..................
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جگہ جگہ ناکے لگانے کا رواج کافی پڑ رہا ہے۔ کئی سال پہلے جب رسل و رسائل اور آمدورفت کے ذرائع محدود تھے اس وقت ناکے زیادہ کارآمد ثابت ہوئے تھے۔ خاص طور پر پولیس جیسے ناکے لگانے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی ان ناکوں سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرلیتی تھی۔ اس وقت ناکے ایسے پوائنٹس پر لگائے جاتے تھے جہاں سے گزرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا اور تمام سڑکیں اور راستے اسی پوائنٹس پر پہنچے تھے
اب وقت بہت بدل گیا ہے۔ ذرائع آمدورفت ماڈرن ہونے کے علاوہ بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔ سڑکوں کے جال پھیل گئے ہیں جگہ جگہ دریا¶ں پر پل بن گئے ہیں۔ جرائم کرنے والوں کے لئے واردات کے بعد چند منٹوں میں وقوعہ سے میلوں دور نکل جانا مشکل نہیں۔ تیز رفتار ٹرانسپورٹ رات دن چلتی ہے سڑکوں پر ٹریفک کا اس قدر رش ہوتا ہے کہ سڑکوں پر ناکے لگا کر ہر گاڑی کو چیک کرنا ممکن نہیں رہا۔ ایک شہر میں واردات کرنے کے بعد مجرمان کے لئے اسی شہر کے دور دراز علاقے میں پہنچ جانا یا دوسرے شہر چلے جانا بہت آسان ہوگیا ہے۔
ملک کیا دنیا میں دہشت گردی کی موجودہ لہر باوجود تمام تر کوششوں کے قابو میں نہیں آ رہی۔ ہر روز بلکہ دن میں کئی بار دھماکوں اور خود کش حملوں کی خبریں سننے میں آتی ہیں۔ سیاسی عمائدین دھماکوں اور خود کش حملوں کی مذمت کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔ شاہرات یعنی ایک شہر کو دوسرے شہر سے ملانے والی سڑکوں پر اور چھوٹے بڑے شہروں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں۔ جہاں چیکنگ کے دوران گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ عوام جگہ جگہ ناکوں پر چیکنگ سے پریشان ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ جب ان ناکوں کے باوجود واردات کرنے والے کامیاب ہو جاتے ہیں تو ناکے لگا کر عوام کو پریشان کرنے کا کیا فائدہ۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ ادارے اپنا فرض پورا کرتے ہیں لیکن خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا اس کی وجہ کیا ہے۔ آئیے تھوڑا سا غور کرتے ہیں۔
-1 شاہرات اور شہروں کے اندر ناکے مستقل ایک ہی جگہ پر لگے رہتے ہیں اور ان ناکوں کے مقامات کا مجرمان کو علم بھی ہوتا ہے اور وہ اتنے بے وقوف تو ہیں نہیں کہ اپنے آپ کو پکڑانے کے لئے ان مقامات سے گزریں جب کہ ان کے گزرنے کے لئے ناکوں کے علاوہ بھی کئی سڑکیں ہیں۔-2 ناکے عام طور پر بڑی اور اہم سڑکوں پر لگتے ہیں جبکہ چھوٹی چھوٹی سڑکیں مجرمان یا مشتبہ اشخاص کے لئے آنے جانے کا محفوظ راستہ ہیں۔-3 چیکنگ عام طور پر رکشہ موٹر سائیکل کار ٹرک وغیرہ کی جاتی ہے۔ویگن بس چیکنگ کی زد میں نہیں آتے۔ حالانکہ ایک کیس کی تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ جس جگہ واردات کرنے کا پروگرام ہو وہ اس کا پہلے سے سروے بغیر ہتھیار وغیرہ کے کرتے ہیں اور بوقت واردات موقع پر دو تین یا تمام افراد اکٹھے نہیں جاتے بلکہ جائے واردات کے قریب ایک پوائنٹ مقرر کر لیتے ہیں اور فرداً فرداً ویگن یا بس کے ذریعہ سب وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ آج کل موبائل فون اس کام کے لئے بہت مددگار ہوتا ہے۔ -4 بس ویگن اور اس طرح کی دیگر گاڑیوں کی بھی ناکوں پر چیکنگ ہونی چاہئے۔-5 اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ناکے جگہ بدل بدل کر لگائے جائیں اور خصوصاً ان مقامات پر لگائے جائیں جن کی مجرمان مشتبہ گان توقع نہ کرتے ہوں۔ -6ناکے پر لگاتار چیکنگ نہ کی جائے بلکہ وقفہ دیکر ناکے کا پوائنٹ بدل دیا جائے۔-7 ناکے پر صرف چیکنگ کے وقت بیرئر لگایا جائے۔ جب چیکنگ نہ ہو رہی ہو بیرئر کو سڑک سے دور ہٹا دیا جائے۔ عام طور پر چیکنگ نہ بھی ہو رہی ہو تو بھی بیرئر لگے رہتے ہیں اور آنے جانے والی ٹریفک کو بلاوجہ پریشان کیا جاتا ہے۔-8ناکے پر مامور عملہ خوش اخلاقی سے پیش آئے اور چوکس ہو۔-9 ناکے پر ٹریفک پولیس کا بھی عملہ ضرور متعین کیا جائے جو ٹریفک کو اچھی طرح ریگولرائیٹ کرے تاکہ ٹریفک رواں دواں رہے۔
مندرجہ بالا تدابیر سے امید ہے ناکوں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور بہتر نتائج برآمد ہونگے۔