مغرب کا خوف

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

اسلام فوبیا اتنے زوروں پر ہے کہ برطانیہ میں سب سے بڑی مسجد کی تعمیر پر پابندی لگا دی گئی ہے اور نسل پرست عیسائی مسجد الیاس کی تعمیر کے خلاف 48 ہزار درخواستیں دے چکے ہیں۔ عافیہ صدیقی کے کیس پر امریکہ نے ایک طومار کھڑا کر رکھا ہے جیسے اس نے ٹریڈ سنٹر گرایا ہو اور پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ عافیہ کو سزا دی جائے۔ برقعہ اور نقاب تو جیسے اہل مغرب کی عقلوں پر پڑ گیا ہے کیا کسی بچی کا برقعہ اوڑھ لینا دہشت گردی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اسلام کے پھیلاﺅ سے خوف دامن گیر ہو گیا ہے اور ہر جگہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی مسلمان اپنے دین پر عمل پیرا نہ ہو سکے۔ پاکستان جسے اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے اس میں بھی امریکہ نے نقب لگا دی ہے اور غیرت مند مسلمانوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے تاکہ کوئی اسلامی انقلاب برپا ہو کر مغرب کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ پاکستان میں اتنی ساری اسلامی تنظیمیں موجود ہیں جن میں جماعت اسلامی سرفہرست ہے، اسے بھی ریلی اور احتجاج سے آگے کی توفیق نہیں۔ اگر جماعت اسلامی ایک انسٹی ٹیوشن ہے تو اسے مغرب کی اسلام دشمنی کے خلاف عالمی سطح پر تحریک چلانی چاہئے جس کے مقاصد طے ہونے چاہئیں۔ آج اگر عرب دنیا، مغرب کو پٹرول کی سپلائی میں ذرا سی بھی کمی کر دے تو چوبیس گھنٹے میں مغرب سیدھا ہو سکتا ہے۔ 57 اسلامی ملکوں میں اگر سفارتی سطح پر بھی کوئی حرکت پیدا ہو تو مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں رک سکتی ہیں۔ یہودی لابی اس سلسلے میں پیش پیش ہے اور امریکہ کو بھی اسی نے اسلام دشمنی کی راہ پر ڈال رکھا ہے۔ آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ اسرائیل مستقبل میں امریکہ کا کنٹرول سنبھال لے گا اور وہ بیروت عراق اور اس سے آگے کے عرب علاقوں تک قبضہ کر لے گا۔ حکومت پاکستان چونکہ اپنے وجود کا نوحہ پڑھ رہی ہے اس لئے اسے تو یہ تک توفیق نہیں کہ ڈرون حملے رکوا دے، چہ جائیکہ وہ عالمی سطح پر مسلم دنیا کے خلاف عیسائیت کی دشمنی کو لگام دینے میں کوئی رول ادا کر سکے، بہرحال حالات جس نہج پر جا رہے ہیں، خود ایک روز مسلم امہ کو اپنے وجود کی بقا کی خاطر مجبور کر دیں کہ وہ میدان عمل میں نکل آئیں۔